پاکستان کرکٹ بورڈ چیئر مین ملک میں قومی ٹیم دبئی میں مشکلات سے دوچار

 پاکستان کرکٹ بورڈ چیئر مین ملک میں قومی ٹیم دبئی میں مشکلات سے دوچار

چودھری محمد اشرف
1999ءمیں جنرل پرویز مشرف نے جمہوری حکومت کا خاتمہ کرکے ملک میں مارشل لاءلگا کر آئین کو معطل کردیا۔ میاں نواز شریف کی جمہوریت حکومت پر جو شب خون مارا گیا تھا اس کے بعد اکثر اداروں میں فوجی سربراہان کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی تھیں۔ جن میں ایک ادارہ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی تھا جس کا آئین معطل اور ایڈہاک لگا کرجنرل توقیر ضیاءکو چیئر مین پی سی بی مقرر کر دیا گیا۔ توقیر ضیاءنے اپنے دور میں بورڈ کا آئین بحال کرنے کی کوشش میں لگے رہے تاہم وہ اپنے چار سالہ دور میں یہ کام نہ کرسکے۔ بعد ازاں ایڈہاک ازم میں ہی شہریار خان، نسیم اشرف، اعجاز بٹ اور ذکاءاشرف نے اپنے دور مکمل کیے۔ ذکاءاشرف نے اپنے دور کو طویل کرنے کیلئے ملک میں ریجنز کی تعداد میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ عرصہ دراز سے ریجنز میں ذمہ داریا ں نبھانے والے عہدیداروں کو معطل کرکے وہاں عبوری سیٹ اپ قائم کردیا۔ چھوٹے ریجنز جہاں سے کبھی کرکٹ ٹیم کو کھلاڑیوں کی کوئی کھیپ نہیں ملی سے اپنے آپ کو جمہوری چیئرمین منتخب کرانے کی کوشش کی اس سلسلہ میں انہوں نے وزارت قانون اور حکومت پاکستان سے بورڈ کا نیا جمہوری آئین بھی پاس کرا لیا تھا لیکن کرکٹ کو کھلاڑیوں کی نرسری فراہم کرنے والے ریجنز نے ذکاءاشرف کے اس عمل کو عدالت میں چیلنج کردیا۔ ابھی ذکاءاشرف کا معاملہ عدالت میں ہی چل رہا تھا کہ ملک میں عام انتخابات کے بعد نئی جمہوری حکومت کا نیا دور شروع ہوگیا جس میں میاں نواز شریف کی پارٹی مسلم لیگ ن نے بھاری اکثریت سے اقتدار حاصل کرلیا۔ذکاءشرف کیس پر عدالت کی جانب سے جاری ہونے والے احکامات کی روشنی میں حکومت پاکستان کی جانب سے نجم سیٹھی کو بورڈ کا نگران چیئرمین مقرر کرنے کے احکامات جاری ہوگئے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں نجم سیٹھی کو 90 روز میں بورڈ کے انتخابات کرانے کا حکم دیا جن کے مطابق نجم سیٹھی خود الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔ پی سی بی فیصلے کے خلاف اپیل میں چلا گیا جس پر نیا بینچ بھی تشکیل دیا جاچکا ہے یہ بینچ اب 29 اکتوبر کو بورڈ کے حوالے سے دائر تمام کیسز کی سماعت کرے گی جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کرکٹ بورڈ کے الیکشن 2نومبر کو کرائے جانے ہیں لیکن چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے مقررہ تاریخ تک الیکشن کرانے سے معذرت کرلی ہے۔ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے پی سی بی آئین کے آرٹیکل41 کو معطل کرکے پھر کرکٹ بورڈ کو ایڈہاک کمیٹی کے سپرد کردیا جس کیلئے 5 رکنی عبوری کمیٹی بھی تشکیل دیدی گئی۔ عبوری کمیٹی نے اپنے اجلاس میں نجم سیٹھی کو چیئر مین پی سی بی منتخب کرا لیا۔ عبوری کمیٹی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین شہریار خان، سابق کپتان ظہیر عباس، سابق ٹیسٹ کرکٹر ہارون رشید اور سابق قومی ٹیم کے منیجر نوید اکرم چیمہ شامل ہیں۔ عبوری کمیٹی کا پہلا اجلاس 24اکتوبر کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں منعقد ہوا جس میں چیئرمین عبوری مینجمنٹ کمیٹی نجم سیٹھی نے صدارت کے فرائض انجام دیئے جبکہ اس موقع پر عبوری کمیٹی کے تمام ارکان کے علاوہ چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد، سیکرٹری عبوری مینجمنٹ کمیٹی سلمان نصیر اور پی سی بی کے لیگل ایڈوائزر تفضل رضوی نے شرکت کی۔ اجلاس کی کیا اہمت ہے اس کا اندازہ 29اکتوبر کو پی سی بی کے متعلق جاری کیس کی سماعت سے ہوسکے گا جس کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ تاہم اس تمام صورتحال میں چیئرمین پی سی بی کو ملک کے اندر سخت مشکلات کا سامنا ہے اور وہ کوئی بھی فیصلہ لینے سے قاصر ہیں۔ اس تمام صورتحال کا فائدہ پی سی بی ملازمین اٹھا رہے ہیں۔ 18ویں ترمیم کے تحت وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن انچیف بن چکے ہیں امید ہے کہ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کے نامزد چیئرمین پی سی بی ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلئے اقدامات کریں گے۔ دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم ان دنوں امارات کے دورہ پر ہے جہاں وہ جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز کھیل رہی ہے۔ سیریز کے ٹیسٹ میچز کا پہلے انعقاد ہوا۔ پہلے ٹیسٹ میں میزبان پاکستان ٹیم نے 7وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تو کرکٹ حلقوں میںکھلاڑیوں کی قصیدہ گوئی شروع ہوگئی۔ ہر کوئی اپنے انداز میں کھلاڑیوں کی تعریفوں کے پل باندھنا شروع ہوگئے تاہم سابق چیف سلیکٹر عبدالقادر کا تبصرہ حقیقت پر مبنی تھا جن کا کہنا تھا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو ایک ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کو ہرا کرکسی خوش فہمی میں نہیں رہناچاہئے کیونکہ دنیا کی نمبر ون ٹیم کم بیک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یہی ہوا ابو ظہبی ٹیسٹ کے ہیرو دبئی ٹیسٹ میں زیرو دکھائی دئیے۔ خرم منظور اور شان مسعود ایک بڑی ٹیم کے خلاف کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ پاکستانی نژاد جنوبی افریقن سپن باﺅلر عمران طاہر نے دبئی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 5 پاکستانی کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھا کر میزبان ٹیم کی مشکلات میں اضافہ کردیا۔ جواب میں جنوبی افریقہ کی ٹیم کے کپتان گریم سمتھ اور اے بی ڈی ویلیئر کے درمیان 5ویں وکٹ کی شراکت میں 338 رنز کی پارٹنر شپ نے پاکستان ٹیم کے ہاتھ سے دبئی ٹیسٹ چھیننے میں اہم کردار ادا کیا۔ مہمان ٹیم پاکستان کے 99رنز کے جواب میں517 رنز بنا کر آﺅٹ ہوئی جس میں کپتان گریم سمتھ کی شاندار ڈبل سنچری شامل تھی انہوں نے 234 رنز بنائے جبکہ اے بی ڈی ویلیئرز نے 164 رنز بنائے جنوبی افریقہ نے پہلی اننگز میں 418 رنز کی برتری حاصل کرکے نفسیاتی طورپر دبئی ٹیسٹ میں گرفت مضبوط کرلی۔ پاکستانی کرکٹ حلقوں میں توقع کی جارہی تھی کہ پہلی اننگز میں ناکام ہونے والے بلے باز دوسری اننگز میں ناقص کارکردگی کا داغ دھو دیں گے لیکن ابتدائی دونوں بلے بازوں نے مایوس کیا بغیر کوئی سکور کیے پویلین جا بیٹھے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان ٹیم کیلئے کوئی بیٹنگ کوچ مقررکیاجائے جو عرصہ دراز سے جاری اس خامی کو دور کرنے میں اپنا کردارادا کرے۔ سعید اجمل نے ذوالفقار بابر کے زخمی ہونے کے باوجود 6جنوبی افریقن بلے بازوں کو آﺅٹ کیا جبکہ ان کے ساتھ محمد عرفان کے حصے میں تین وکٹیں آئیں ۔دو فاسٹ باﺅلرز اور دو سپنرز کے ساتھ جنوبی افریقہ جیسی نمبر ون ٹیم کے خلاف میدان میں اترنا پاکستان ٹیم کو مہنگا پڑ گیا ہے۔ دبئی ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم کی شکست کے آثار نمایاں ہیں اسے شکست سے نہیں بچایا جا سکتا کیونکہ جتنا وقت باقی ہے کسی معجزے کے امکانات بھی کم دکھائی دیتے ہیں۔
دبئی ٹیسٹ میں دنیا کی نمبر ون ٹیم کا کھلاڑی بال ٹیمپرنگ کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے اب دیکھنا ہے کہ آئی سی سی اس نمایاں حرکت کرنے والے کھلاڑی کے خلاف کیا ایکشن لیتا ہے ویسے فیلڈ امپائرز نے جنوبی افریقن کپتان کو پہلے ہی اس سلسلہ میں واننگ دے رکھی ہے۔ میچ فکسنگ اور بال ٹمپرنگ جیسے واقعات شرفا کے کھیل کو بدنام کر رہے ہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کو چاہیے کہ وہ دبئی ٹیسٹ کے پورے میچ کو مانیٹر کرئے اور اگر پہلی اننگز میں بھی جنوبی افریقن باولرز نے ایسی کوئی حرکت کی ہے تو سخت ایکشن لیا جائے۔
٭....٭....٭....٭....٭