جمہوری نظام کے تسلسل کیلئے پاکستان ہاکی فیڈریشن کا انتخابی عمل شروع

جمہوری نظام کے تسلسل کیلئے پاکستان ہاکی فیڈریشن کا انتخابی عمل شروع

شیخ اعجاز احمد
ejazsport@yahoo.com
 پاکستان ہاکی ٹیم ان دنوں آسٹریلیا اور جاپان کے دورہ پر ہے۔ پہلے مرحلہ میں دورہ آسٹریلیا میں نائن اے سائیڈ ٹورنامنٹ کے علاوہ تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز مکمل کرنے کے بعد جاپان روانہ ہوجائے گی جہاں وہ 2 سے 10 نومبر تک منعقد ہونے والی تیسرے ایشین چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ میں اپنے اعزاز کا دفاع کرے گی۔ قومی ٹیم کی نائن اے سائیڈ ٹورنامنٹ میں کارکردگی کو بالکل منفی نہیں قرار دیا جا سکتا کیونکہ اس فارمیٹ کی ہاکی پاکستان میں کسی سطح پر بھی نہیں کھیلی جاتی تاہم اس کے باوجود بھی نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم نے ٹورنامنٹ میں قدرے بہتر کھیل پیش کرنے کی کوشش کی۔ جاپان روانگی سے قبل قومی ٹیم نے آسٹریلیا، آسٹریلیا اے اور ارجنٹائن کی ٹیموں کے خلاف تین میچوں کی سیریز میں حصہ لیا۔ قومی ٹیم میںزیادہ تر وہ کھلاڑی شامل ہیں جنہوں نے رواں سال کے آخر میں بھارت میں منعقد ہونے والے عالمی ٹورنامنٹ میں ملک کی نمائندگی کرنی ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری رانا مجاہد نے جونیئر کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ کی زیادہ سے زیادہ تیاری کے مواقع فراہم کرنے کیلئے انہیں سینئر ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا اُمید ہے کہ مستقبل میں اس کے اچھے نتائج حاصل ہونگے۔ دوسری جانب پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ملک کے جمہوری نظام کی طرح فیڈریشن میں جمہوری نظام کا تسلسل برقرار رکھنے کیلئے انتخابی شیڈول کا اعلان کردیا ہے۔کسی بھی ملک اور اس کے اداروں کی بقاءاسی میں ہوتی ہے کہ وہ اپنا جمہوری سیٹ اپ برقرار رکھے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اس سلسلہ میں ایک مثال ماضی میں قائم کی تھی جب پورے ملک میں شفاف الیکشن کرانے کے بعد منتخب نمائندوں کے ذریعے فیڈریشن کے عہدیداران قاسم ضیاءاور سیکرٹری آصف باجوہ کا چناﺅ عمل میں لایا گیا تھا۔ چار سال بعد ایک مرتبہ پھر وہی موقع آن پہنچا ہے جس میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام ملک بھر میں گراس روٹ لیول سے لیکر قومی سطح پر الیکشن کرانے جارہے ہیں جو انتہائی خوش آئند بات ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر قاسم ضیاءاس بات کا پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ اگلی مدت کیلئے صدارت کے امیدوار نہیں ہونگے ان کی جگہ کوئی نیا صدر آئے گا۔ قاسم ضیاءکے اس فیصلے کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے کیونکہ اقتدار اور اختیارات چھوڑنے کو کسی کا دل نہیں کرتا اس کے باوجود قاسم ضیاءنے فیصلہ کیا ہے کہ وہ الیکشن نہیں لڑیں گے اس سے قبل سابق سیکرٹری آصف باجوہ بھی جمہوری نظام کی خاطر عہدے سے الگ ہوگئے تھے تاکہ ان کی غیر موجودگی میں ہونے والے الیکشن کو کوئی غیر منصفانہ قرار نہ دے۔ رانا مجاہد نے آصف باجوہ کی جگہ عہدے کا چارج سنبھالتے ہی اس بات کا اعلان کیا کہ وہ الیکشن کرانے جا رہے ہیں اور یہ الیکشن پاکستان ہاکی فیڈریشن میں چار پانچ سال قبل بحال ہونے والی جمہوری دور کی ایک کڑی ہوگی۔ رانا مجاہد نے جو عمل شرو ع کیا ہے اس پر انہیں ہاکی کے حلقوں کی جانب سے خوش آمدید کہا جا رہا ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کی مدد سے الیکشن پراسیس کو مکمل کرنے کیلئے الیکشن کمشن اور شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔ الیکشن کو صاف اور شفاف بنانے کیلئے لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کو پی ایچ ایف کا الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا ہے جنہوں نے 25 اکتوبر سے 25 نومبر کے دوران ڈسٹرکٹ صوبائی اور فیڈریشن کی سطح پر ہونے والے الیکشن کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر ارشد انصاری نے ڈسٹرکٹ اور صوبائی سطح پر ہونے والے الیکشن کے شیڈول اور کو آرڈینیٹر ز کا اعلان کردیا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ڈسٹرکٹ کی سطح پر الیکشن 25اکتوبر سے 25 نومبر تک کرائے جائیں گے جس کیلئے اولمپیئن ناصر علی کو کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ خیبر پی کے میں ڈسٹرکٹ ایسوسی ایشنز کے الیکشن 4 سے 15نومبر کے دوران ہونگے جس کیلئے اولمپئن محمد اخلاق کوآرڈینیٹر ہونگے۔ صوبہ سندھ میں ڈسٹرکٹ ہاکی ایسوسی ایشنز کا انتخابی عمل 5 سے 15نومبر کے دوران مکمل کیاجائے گا جس کیلئے سید لطافت شاہ کوآرڈینیٹر کے فرائض انجام دینگے۔ صوبہ بلوچستان میں ڈسٹرکٹ کے الیکشن 8سے 15نومبر کے دوران ہونگے جس کیلئے مسز روحیلہ دورانی کوآرڈینیٹر ہونگی۔ گلگت بلتستان میں ڈسٹرکٹ الیکشن 13نومبر کو ہونگے جن کیلئے لیفٹیننٹ کرنل(ر) ندیم احمد بھٹی کو کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے۔آزاد جموں اینڈ کشمیر میں ڈسٹرکٹ الیکشن 13اور 14نومبر کو ہونگے جس کیلئے بھی لیفٹیننٹ کرنل(ر) ندیم احمد بھٹی ہی کوآرڈینیٹر ہونگے۔ فاٹا کی ڈسٹرکٹ ہاکی ایسوسی ایشن کے انتخابات 5اور6 نومبر کو ہونگے اولمپئن محمد اخلاق اس کے کوآرڈینیٹر ہونگے۔ اسلام آباد کے الیکشن 12نومبر کو ہونگے جس کیلئے اولمپئن محمد عثمان کو کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ صوبائی ہاکی ایسوسی ایشنز کے انتخابات 16 سے 20 نومبر جبکہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتخابات 21سے 25 نومبر کے دوران منعقد ہونگے۔
 سابق اولمپئنز نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام قاسم ضیاءاور سیکرٹری رانا مجاہدکے اس اقدام کی تعریف کی ہے ان کا کہنا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ کوئی فیڈریشن اپنی مدت مکمل ہونے کے بعد جمہوری طریقے سے ملک بھر میں الیکشن کرا رہی ہے۔ پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اور سابق ہیڈ کوچ اختر رسول کا کہنا تھا کہ ہاکی میرے خون میں رچی بسی ہے مجھے اس سے دور نہیں رکھا جاسکتا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے الیکشن کرانا انتہائی خوش آئند ہے فیڈریشن کو کسی بھی جگہ میری خدمات درکار ہونگی تو میں اس کے لیے ہر وقت حاضر ہوں۔سابق کپتان محمد عثمان کا کہنا تھا کہ یہ انتخابات اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کی طرح فیڈریشن میں بھی جمہوریت پر یقین رکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام نے ملک بھر میں مردہ ہاکی میں جس محنت اور لگن کے ساتھ جان ڈالی ہے یہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اگر محنت کی جائے تو ہر چیز آسان ہوجاتی۔ سابق سیکرٹری آصف باجوہ کے دور میں پاکستان ٹیم 20 سال بعد ایشین گیمز میں گولڈ میڈل حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی جبکہ ایشین چیمپنئز ٹرافی کا بھی گولڈ پاکستان کے نام ہوا اس کے ساتھ ساتھ چیمپنئز ٹرافی جس سے پاکستان ٹیم جو کہ سابق عہدیداران کی نالائقی کی وجہ سے آﺅٹ ہوگئی تھی میں ایک مرتبہ پھر وکٹری سٹیڈ تک رسائی حاصل کرکے تیسری پوزیشن کا برانز میڈل جیتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی کھیل کا ترقی کرتا سفر جاری و ساری رہے۔ سابق اولپمئن محمد اخلاق کا کہنا ہے کہ جمہوریت کا حُسن اسی میں ہے کہ مقررہ وقت پر گراس روٹ سے لیکر قومی سطح تک الیکشن کرائے جائیں اور عوام کے منتخب نمائندوں کو کھیل کی خدمت کا موقع فراہم کیاجائے۔ رانا مجاہد نے الیکشن کرانے کا اعلان کرکے ایک نئی مثال قائم کی ہے انشاءاللہ یہی لوگ پاکستان ہاکی کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچائیں گے۔ تمام ہاکی لورز کو چاہئے کہ وہ ملک میں الیکشن کے مرحلہ کو مکمل کرائیں۔ اولپمئن دانش کلیم کا کہنا تھا کہ رانا مجاہد نے ڈسٹرکٹ کی سطح پر الیکشن مراحل کا آغاز کرکے ثابت کیا ہے کہ وہ کھیل میں جمہوریت کے قائل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض نادیدہ قوتوں کو شاید یہ بات راس نہ آئے اور وہ ان الیکشن کو روکنے کی کوشش کرینگے میرا ان لوگوں کو مشورہ ہے کہ مخالفت برائے مخالفت کرنے کی بجائے الیکشن پراسیس کا حصہ بنیں۔
٭....٭....٭....٭