بلوچستان میں بجلی کی بحران شدت اختیار کر گیا‘ حکومت وفاق سے بات کرے‘ صوبائی اسمبلی میں مطالبہ

کوئٹہ (اے پی پی ) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پیرکو میر جان محمد خان جمالی کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں بجٹ پر مجموعی عام بحث کا آغازکرتے ہوئے مسلم لیگ (ق) رکن اسمبلی میرعبدالکریم نوشیروانی نے کہاکہ موجودہ حالات میں ایک اچھا بجٹ پیش کیاگیا ہے جس پر وزیراعلیٰ اوراس کی ٹیم مبارکباد کے مستحق ہیں۔ صوبے میں توانائی کے بحران شدت اختیارکرگیا ہے باغات تباہ ہوگئے ہیں۔ زمینداروں کوکروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ صوبائی حکومت بجلی بحران کے حوالے سے وفاقی حکومت سے بات کریں۔ ایران سستی، بجلی دینا چاہتا ہے ایران سے کیوں بجلی خریدی نہیں جاتی۔ جمعیت علماء اسلام کے رکن مفتی گلاب نے کہاکہ بلوچستان کے اکثر عوام کا ذریعہ معاش زراعت پر ہے۔ بجلی بحران کے باعث زراعت تباہی کے دھانے پرکھڑی ہے اب تک زمینداروں کو ناقابل تلافی نقصانات ہوئے ہیں موجودہ بجٹ میں زراعت کوترجیحی نہیں دی گئی اور نہ ہی توانائی کے بحران کے خاتمے کیلئے کوئی قدم اٹھایا گیا۔ سید لیاقت آغا نے بجٹ کو عوامی قراردیا اورکہاکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کو ترجیح دے کر اچھا اقدام کیا۔ انہوں نے کہا بلوچستان دیگر تین صوبوں سے امن وامان کے حوالے سے کافی بہتری ہوئی ہے۔ سابق دور حکومت میں کام کم اور لوٹ مار زیادہ ہوئی۔ رکن اسمبلی شاہدہ رؤف نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ بجٹ تو بنادیاگیا لیکن یہ بجٹ کتنی آبادی کیلئے بنایاگیا ہے کیونکہ گزشتہ بیس سالوں سے تو مردم شماری نہیں ہوئی۔ انہوںنے بجٹ پرتنقید کی اورکہاکہ بجٹ کو اندازوں سے بنایاگیا۔ مسلم لیگ ن کی رکن راحیلہ درانی نے بجٹ کوعوام دوست قراردیاہے اورکہاکہ بجٹ میں تعلیم امن وامان اورصحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ بے روزگاری کے خاتمے کیلئے اور بجلی بحران پر قابو پانے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ اجلاس میں بعدازں سپیکرکے فرائض پینل آف چیئرمیں میرعاصم کرد گیلو نے انجام دیئے مجموعی بحث میں حصہ لیتے ہوئے نصراللہ زیرے نے کہاکہ موجودہ حکومت نے جو بجٹ پیش کیا ہے وہ عوام دوست بجٹ ہے ۔تعلیم کے شعبے کو ترجیح دی گئی۔ صوبائی وزیرترقیات ومنصبوبہ بندی ڈاکٹرحامد اچکزئی نے عوام دوست بجٹ اورکرپشن سے پاک قرار دیا۔ بعدازاں پینل چیئرمین نے اجلاس آج دن 11بجے تک ملتوی کر دیا۔
مطالبہ