عام ضرورت کی 70 اشیاءپر ٹیکس نہ بڑھانا اچھا اقدام ہے: لیاقت علی شاہ

سیالکوٹ (نامہ نگار) ڈسٹرکٹ اٹارنی (ر) پیر لیاقت علی شاہ بنیامین نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کھانے پینے اور عام ضرورت کی 70اشیاءپر سیلز ٹیکس نہ بڑھانے کا نوٹیفکیشن تو جاری کر دیا مگر جب تک اس پر سختی سے عملدرآمد نہیں کرادیا جائیگا ضروری اشیاءبازار میں تین فیصد تک مہنگی ملتی رہیں گی۔ مقامی تاجروں اور صارفین کے مختلف وفود کیساتھ باہمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عام لوگوں کی ضرورت کی اشیاءجنہیں فوڈ باسکٹ کہا جاتا ہے کی قیمتوں پر حکومت کا وہ کنٹرول بحال کیا جائے جو پچھلے کئی عشروں سے عملاً نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ او ربرطانیہ سمیت تمام مہذب اور ترقی یافتہ ممالک پورا سال فوڈ باسکٹ میں آنیوالی چیزوں کی کھپت میں پیداوار سے لیکر عام دوکان میں فروخت تک کے ہر مرحلے پر کڑی نظر رکھتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ کاشتکار سے دوکاندار اور صارف تک کسی فریق کا استحصال نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں ڈبل روٹی کی قیمت آج بھی دس سال پہلے والی قیمت سے زیادہ نہیں کم ہوئی ہے۔ وطن عزیز میں بھی کھیت سے دوکان اور خوانچے تک ہر مرحلے پر ضروری اشیاءکی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے واضح ہدایات کے بعد حکومت کو سرکش عناصر کو لگام دینے میں مشکل نہیں ہونی چاہئے۔ حکومت اپنی وضاحت میں کہا کہ اس نے عوام پر اضافی قیمتوں کا بوجھ نہیں ڈالا ہے تو اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ مارکیٹ فورسز کو عوام کا استحصال کرنے سے سختی سے روکے اور مہنگائی کے اس سیلاب پر بند باندھے جس کا تمامتر ذمہ دار حکومت کو سمجھا جا رہا ہے۔