لاہور میں ناقص اشیاء خوردونوش تیار کرنے والی 42 سو فیکٹریاں سرگرم‘ انتظامیہ کی کارروائیاں کاغذوں تک محدود

لاہور (ندیم بسرا) پنجاب فوڈ اتھارٹی کی عدم توجہ اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث لاہور میں غیر معیاری اشیائے خورو و نوش کی فروخت جاری، شہر میں قائم ہزاروں ہوٹلز پر انتہائی ناقص کھانا شہریوں کو سپلائی کیا جانے لگا، گنجان آبادیوں اور دیگر علاقوں میں سرعام جعلی مشروبات کی دکانیں سج گئیں۔ لاہور شہر کے اندر 42 سو چھوٹی بڑی فیکٹریاں یونٹس غیر معیاری اشیاء بنانے میں مصروف، اتھارٹی کے فوڈ سیفٹی افسران مرمت دفاتر تک محدود ہوکر رہ گئے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے چند برس قبل پنجاب فوڈ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جس کا مقصد صاف ستھری اشیائے خورو نوش کی مارکیٹ میں فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔ فوڈ اتھارٹی میں فوڈ سیفٹی افسران کی ناتجربہ کاری کے باعث وزیراعلیٰ پنجاب کا ویژن پورا نہیں ہوسکا۔ ناقص خوراک بنانے والی فیکٹریاں اقبال ٹائون، کوٹ لکھپت، مصری شاہ، فیض باغ، اندرون لاہور بند روڈ، گلبرگ، سمن آباد، اچھرہ، جی ٹی روڈ، برکی شاہدرہ، نشتر ٹائون، قینچی، چونگی امر سدھو، ٹائون شپ، جوہر ٹائون، ٹھوکر نیاز بیگ اور دیگر علاقوں میں قائم ہیں۔ جہاں پر کھانے پینے کی اشیاء بنائی جارہی ہیں۔ ان میں چائے کی پتی، مصالحہ جات، مشروبات، کیچ اپ، جیلی، خشک دودھ، گھی، تیل، سرخ مرچ، آٹا اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء تیار کی جارہی ہیں۔ لاہور میں چائے کی پتی انتہائی غیر مصنوعی اجزا سے تیار کی جاتی ہیں۔ سرخ مرچ کو بنانے کیلئے اینٹوں، پتھروں اور لکڑوں کا میٹریل استعمال کیا جاتا ہے۔ خشک دودھ اور دیگر میں وہ اجزاء شامل ہوتے ہیں جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مضر صحت گھی جانوروں، مرداروں کی چربی سے بنایا جاتا ہے۔ ان فیکٹریوں کو ابھی تک کوئی چیک نہیں کیا گیا۔ اس لئے یہ مافیا شہریوں کو مضر صحت اشیاء فراہم کررہا ہے۔ لاہور شہر میں صبح، شام اور رات کے وقت جو کھانے شہریوں کو کھلائے جارہے ہیں چوبرجی، لکشمی چوک، مزنگ، ایبٹ روڈ، بادامی باغ اور دیگر میں قائم ہوٹلز میں جو کھانے شہریوں کو دیئے جاتے ہیں ان میں صفائی ستھرائی کا معیار نہ ہونے کے برابر ہے۔ بغیر لائسنس کے ہوٹلز قائم ہیں۔ شہریوں میں کینسر کے مرض میں اضافہ ہورہاہے۔ لاہور میں ہزاروں کی تعداد میں ملک شاپس قائم ہیں اور شہریوں کو ملاوٹ شدہ دودھ فراہم کیا جارہا ہے۔ جہاں تک پنجاب فوڈ اتھارٹی کا اس سارے معاملے سے تعلق ہے تو اب تک فوڈ اتھارٹی کے دفتر کا شہریوں کو علم ہی نہیں ہے۔ گلبرگ میں قائم اس دفتر میں شہریوں کو فوڈ لائسنس کے لئے ذلیل و خوار ہونا پڑتا ہے۔ فوڈ لائسنس کا حصول شہریوں کیلئے خواب بن گیا ہے۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی اسد الاسلام مانی کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس جتنے وسائل ہیں ان کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔ تمام فیکٹریوں کو لائسنس کے دائرہ کار میں لایا جارہا ہے۔