چنیوٹ ونی کیس : پولیس سب سے بڑی مجرم‘ ڈی پی او انکوائری کمیٹی کی سربراہی کریں

رپورٹ :احمد جمال نظامی)  چنیوٹ میں وٹہ سٹہ کی شرمناک رسم کی بھینٹ چڑھنے والی لڑکی سے اجتماعی زیادتی اور اسے برہنہ کر کے درخت کے ساتھ باندھ دینے کے واقعہ نے ہر غیرت مند اور ذی شعور انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے مگر پولیس اپنی روایتی روش سے باہر نہیں نکل سکی۔ علاقے میں خوف برقرار ہے ۔ چنیوٹ کے اس دلخراش واقعہ پر پولیس کا کردار محض خاموش تماشائی کا رہنا اور پھر علاقہ مجسٹریٹ کے حکم پر میڈیکل اور مقدمے کا اندراج ہونا ہمارے معاشرے کی بدترین تنزلی کا منظر ہے ۔ چنیوٹ کے نواحی علاقہ ماور بھٹیاں جو تھانہ محمد والا کی حدود میں واقع ہے یہاں پیش آنے والے واقعہ کی متاثرہ دوشیزہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے وہ ہر مرحلے پر پولیس کو آگاہ کرتے رہے مگر پولیس محض خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے ہوئے ملزموں کو تحفظ فراہم کرتی رہی۔ اس پر ہونا تو یہ چاہیے تھا جب متاثرہ خاندان علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوا اور پولیس پر عدم اعتماد کا اظہار ثابت ہو گیا تو پورے تھانے کے عملے اور ذمہ داران کو معطل کر کے تھانے کے انچارج سمیت تمام افسران کے خلاف فوجداری ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے جاتے اور ڈی پی او چنیوٹ راؤ منیر ضیاء صرف خانہ پری کرتے ہوئے دو ڈی ایس پی سمیت تین انسپکٹروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کی بجائے خود اس انکوائری کمیٹی کی سربراہی کریں اور ذمہ داران کے خلاف صرف مقدمہ درج کر کے حالات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ قانون کی حکمرانی قائم کریں جس کے لئے انہیں چنیوٹ میں ڈی پی او تعینات کیا گیا ہے۔ چنیوٹ کا واقعہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے وزیرقانون رانا ثناء اللہ خاں کی کارکردگی کے آگے بھی سوالیہ نشان ہے یقینا انصاف اس وقت تک میسر نہیں آ سکتا جب تک چنیوٹ کے تھانہ محمد والا پولیس سٹیشن کے انچارج سمیت تمام ذمہ دار عملے کو جنہیں متاثرہ خاندان ہر مرحلے پر آگاہ کرتا رہا اسے قانون کے مطابق عبرت کا نشان نہیں بنا دیا جاتا۔آر پی او فیصل آباد، ڈی پی او چنیوٹ کے تمام اقدامات وقت گزارو پالیسی کے مترادف  ہے  اور ٹال مٹول پالیسی کے تحت واقعہ کی سنگینی کو کم کرنے کے لئے ٹائم پاس کیا جا رہا ہے۔ بلاشبہ چنیوٹ ونی کیس میں سب سے بڑی مجرم تھانہ محمد والا کی پولیس اور وہ سیاست دان ہیں جو ایسے بااثر اور جرائم پیشہ افراد کو قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ افسوس اور حیرت کا مقام ہے صوبہ پنجاب میں انصاف اور ریکارڈ ترقی کے نعرے اور بھڑکیں لگانے والے ارکان اسمبلی اور وزراء کی موجودگی کے باوجود تھانہ محمد والا کا تمام عملہ بدستور اسی جگہ موجود ہے۔ کیا یہ قانون کو منہ چڑھا کر قانون کی اندھے ترازو کے آگے قہقہے لگانے والی بات نہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر چنیوٹ کا دورہ کریں ۔ چنیوٹ کا واقعہ پولیس حکومت اور تمام ارکان اسمبلی کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ ہے جس کی گونج تب تک گونجتی رہے گی جب تک مظلوم دوشیزہ کو انصاف فراہم نہیں کیا جاتا۔ فیصلہ دینے والی پنچایت اور شریک پولیس والوں کو عبرت کا نشان نہیں بنا دیا جاتا۔