معمولی فریکچر پر رائٹرز نہیں دیا جا سکتا‘ اپاہج طلباء کو رائٹرز کی فراہمی

معمولی فریکچر پر رائٹرز نہیں دیا جا سکتا‘ اپاہج طلباء کو رائٹرز کی فراہمی

عنبرین فاطمہ
صحت کی اہمیت و افادیت ہر دور میں مسلمہ رہی ہے اور آج بھی صحت کی افادیت سے کوئی فرد انکار نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو مختلف قسم کی ان گنت صلاحیتیں ودیعت کی ہیں۔ان صلاحیتوں اور نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا صحیح اور بہتر استعمال بھی لازمی ہے۔ رب کائنات نے افراد میں انفرادی اختلاف اور تنوع پیدا کرنے کے لیے انہیں ایک دوسرے سے مختلف صلاحیتوں اور نعمتوں سے نوازا۔کسی کو کوئی چیز کم اور کسی کو زیادہ عطا فرمائی۔ جہاں اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی نعمتیںعطا کرتا ہے وہاں اسے آزماتا بھی ہے۔ان آزمائشوں میں سے ایک آزمائش بچوں کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی معذوری بھی ہے۔ ان معذور بچوں کو خصوصی بچے کہتے ہیں اور ایسے بچوں کی تعلیم و تربیت کو خصوصی تعلیم کہتے ہیں۔کسی بھی معاشرے کے بچے انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں یہ جنت کے پھول ہیں ان کو دیکھ کر انسان کا کلیجہ ٹھنڈا ہوتا ہے یہ آنکھوں کے نور دل کے سرور ہیں اللہ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت اولاد ہے جو زندگی میں رنگ بھر دیتی ہے لیکن بد قسمتی سے جب کسی کے گھر معذور بچہ پیدا ہوتا ہے یا بعد میں کسی حادثے کا شکار ہونے کی وجہ سے زندگی بھر کیلئے معذور ہوجاتا ہے تو والدین پر غم و آزمائش کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔لیکن انہیں اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ اس طرح کے بچے غیر معمولی صلاحیتوں سے مالا ما ل ہوتے ہیں اس کی کئی ایک مثالیں موجود ہیں۔ایسے بچوں میں پڑھائی کا رجحان عام بچوں کی نسبت زیادہ پایا جاتا ہے ہر برس کمرہ امتحان میں ایسے بچے دیکھنے کو ملتے ہیں جو لکھ نہیں سکتے لیکن ان کے شوق کی تکمیل کیلئے انہیں بورڈ لاز کے تحت رائٹرز کی فراہمی کی جاتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کس قسم کی اپاہجی ہو تو رائٹرز کی فراہمی ممکن ہوتی ہے۔اگر کوئی بچہ مستقل اپاہج ہے تو اس کیلئے بورڈ لاز کے مطابق چند مراحل سے گزرنا پڑتا ہے یعنی اپاہج بچے کی ایک تصویر،میڈیکلی اپاہج ہونے کا سرٹیفیکیٹ،اس کے علاوہ بطور رائٹر بچے کا انتخاب اوراس بچے کی ایک تصویر اور اس کے سکول کے ہیڈ ماسٹر کی جانب سے توثیق کہ یہ بچہ ہمارے سکول میں زیر تعلیم ہے۔ان تمام کوائف کے ہمراہ اپاہج بچے کو بورڈ کے آفس جانا پڑتا ہے اس کے بعد بورڈ تسلی کرکے اس بچے کو بآسانی رائٹر مہیا کر دیتا ہے۔مستقبل میں قباحتوں سے بچنے کیلئے معمولی فریکچر پر کسی بھی بچے کو رائٹر کی فراہمی نہیں کی جاسکتی ۔اس حوالے سے ہم نے چئیر مین لاہور بورڈ ’’نصراللہ ورک‘‘ سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ مستقل طور پر اپاہج بچوں کو رائٹر کی فراہمی بورڈ لاز کے تحت ہماری ذمہ داری ہے اورہم نے رائٹر کی فراہمی کے حوالے سے پراسس بھی معمولی نوعیت کا ہی رکھا ہوا ہے۔جہاں تک معمولی فریکچر پر رائٹر کی فراہمی کی بات ہے تو معمولی فریکچر والوں کو ہم سنٹر میںاتنی فیور دے سکتے ہیں  کہ وہ اگر کمرہ امتحان میں سیڑھیاں چڑھ کر نہیں جا سکتے تو ان کو نیچے ہی بٹھا دیا جاتا ہے اس کے علاوہ ان کو ان کی طبیعت کی خرابی کی وجہ سے جتنی بھی سہولیات دے سکیں ہم دیتے ہیں۔باقاعدہ سپریٹنڈنٹ کو بھی ہدایات دی جاتی ہیں کہ وہ اس طرح کے بچوں کے ساتھ خصوصی رعایت برتیں۔نصراللہ ورک نے کہاکہ پاکستان میں معذوری کا شکار ساٹھ لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں ان بچوں کو سننے، دیکھنے اور چلنے میں دشواری جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ لیکن صحت مند انسانوں کی طرح تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی صلاحیت کے باوجود اکثر بچوں کے والدین انھیں عام سکولوں میں بھیجنے سے ہچکچاتے ہیں یا پھربعض اوقات سکولوں میں بھی ان کے لیے ماحول دوستانہ نہیں ہوتا۔ ناقدین کے مطابق اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کئی ہونہار بچے ناخواندہ رہ جاتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ احساس کمتری کا شکار ہو کر ان کی صلاحیتیں ماند پڑ جاتی ہیں۔حالانکہ ملک کا آئین معمولی معذوری کا شکار ایسے بچوں کی عام سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ درمیانے درجے کی معذوری کا شکار بچوں کو یہ پورا حق ہو کہ وہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں داخلہ لے سکیں۔ سو فیصد بنیادی تعلیم کا ہدف حاصل کرنا یا معذور بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کا انحصار صرف وسائل یا فنڈزپر ہی نہیں بلکہ اس کے لیے اساتذہ اور والدین کی تربیت کر کے ان کی سوچ میں تبدیلی لانا بھی ضروری ہے۔ معذور افراد کا عالمی دن منانے کا واحد مقصد لوگوں کو انتہائی معذور بڑوں اور بچوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔ بالخصوص معذور افراد کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی اور ان کے حوصلوں کو بڑھایا جائے۔ پوری دنیا میں بے شمار ادارے اور سکول معذور افراد کی دیکھ بھال، تعلیم و تربیت میں ایک انسانی جذبے کے ساتھ بھرپور کام کر رہے ہیں۔  ریاست کی جانب سے ایسا مضبوط ڈھانچہ تشکیل دیے جانے کی ضرورت ہے، جس کے ذریعے سارے معاشرے میں تعلیم تک منصفانہ رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی معاشرے میں کمزور طبقے کو حاصل تعلیم کی سہولتوں سے وہاں تہذیب اور انسانیت کی سطح کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔جسمانی طور پر معذور بچے کسی عضو کے نہ ہونے یا کمزور ہونے کی وجہ سے عام طور پر احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ جب نارمل بچوں کو ایسے کام کرتے دیکھتے ہیں جن کو وہ جسمانی کمزوری کی بنا پر کرنے سے قاصر ہوتے ہیں تو پریشان ہو جاتے ہیں۔ یہی پریشانی اور کمتری کا احساس ان کی شخصیت کی نمو میں منفی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ بچے انفرادی توجہ کے زیادہ مستحق ہوتے ہیں اور اگر پیار سے ان کی دیکھ بھال کی جائے تو انہیں باآسانی معاشرے کے نارمل افراد کی طرح زندگی گزارنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ جسمانی طور پر معذور بچے اکثر ذہنی طور پر تندرست ہوتے ہیں اور اگر ان کی ذہنی صلاحیتوں کی طرف خاطر خواہ توجہ دی جائے تو یہ غیر معمولی نتائج دیتے ہیں۔اب یہ والدین اور معلم کے اوپر ہے کہ وہ کس طرح سے ان بچوں کے اندر سے کمتری کے احساس کو ختم کر کے انہیں ذہنی طور پر کارآمد بناتے ہیں۔جسمانی طور پر معذور بچوں کو مختلف کھیلوں اور ورزشوں کی بدولت معاشرے کے مفید افراد بنایا جا سکتا ہے اور ان کے عذر کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔