تھرپارکر اور چولستان کی بدحالی

ڈاکٹر ظفر اقبال
تھرپارکر اور چولستان دونوں پاکستان بڑے صحرائی علاقے ہیں۔ حکومت کی بے التفائی کی وجہ سے یہ علاقے قحط  اور بدحالی کا شکار رہتے ہیں۔ ان علاقوں کی بدحالی کی بڑی وجہ پانی کی کم دستیابی ہے۔ ان علاقوں میں نہریں نہیں ہیں، البتہ موسم برسات میں ہونے والی بارشوں کا پانی جوہروں یا ٹوبوں میں اکٹھا ہو جاتا ہے۔ یہاں کے باشندے اور مویشی سارا سال اسی پانی سے گزارہ کرتے ہیں۔ یہاں کاشت کاری ممکن نہیں، جانور بھی صرف خود رو پودوں اور درختوں سے خوراک حاصل کرتے ہیں، اگر ٹوبوں کی بھل صفائی نہ کی جائے تو پانی ایک سال بھی نہیں چلتا اور یہاں کے باشندے پانی کی تلاش میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ اس سال تھر کے علاقے میں سردی اور خشک سالی کی وجہ سے سینکڑوں بچوں کی اموات ہو گئی ہیں، مویشیوں اور جانوروں کی اموات علیحدہ ہیں۔
پچھلی حکومتوں نے تو کبھی یہ سوچا ہی نہیں کہ ان لوگوں کی بدحالی کو بھی دور کرنا چاہئے۔ البتہ موجودہ وزیراعظم ڈاکٹر محمد نواز شریف نے اپنے دورہ بہاولپور کے دوران دریائے ستلج پر ایک جھیل بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ ایک مثبت سوچ ہے۔ اس سے ستلج میں آنے والا سیلابی پانی دیہاتوں میں جا کر نقصان پہنچانے کی بجائے جھیل میں اکٹھا ہو جائے گا، پھر سارا سال لوگوں کے استعمال میں آئے گا۔ میرے خیال میں چولستان جتنا بڑا علاقہ ہے، بہتر ہو گا کہ ستلج پر کم از کم تین جھیلیں بنائی جائیں اور پھر وہاں سے سیلابی نہریں نکال کر دور دراز علاقوں میں پہنچائی جائیں، اگر کسی سال سیلاب نہیں آتاتو کم از کم زیر زمین پانی کی سطح اونچی ہو جائے گی اور ٹیوب ویلوں کے ذریعے کاشت کاری بھی ہو سکے گی۔
چولستان کو پانی کی فراہمی کے لئے میرے پاس ایک اور کثیر جہتی تجویز ہے اس تجویز کے تحت ہم نہ صرف چولستان کو پانی مہیا کر دیں گے دوسری طرف ہم سیلابوں سے ہونے والے نقصانات سے بچ جائیں گے۔ اس مقصد کے لئے ہمیں سیلابی پانی کے اخراج کا ایک نظام FLOOD WATER DAINAGE SYSTEM بنانا پڑے گا۔ صرف ایک دفعہ یہ نظام بنا کر ہم اپنے طاقتور دشمن ’’سیلابی ریلے‘‘ کو ہر سال اپنا دوست بنا کر اس سے آب پاشی کا کام لیں گے۔
اس نظام کی فلاسفی کو سمجھنے سے پہلے ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ایک دریا میں بہنے والا پانی سیلاب میں کیسے بدل جاتا ہے، شدید بارشوں کی وجہ سے دریائوں میں بہت بڑی مقدار میں پانی ایک دم آ جاتا ہے۔ ایسا کئی دفعہ ہوتا ہے، ایسے پانی کو سیلابی ریلہ کہتے ہیں۔ فرض کریں دریا میں ایک بہت بڑا سیلابی ریلہ آ گیا جس سے نچلے درجے کا سیلاب پیدا ہو گیا۔ مزید ایک دو ریلے آنے سے یہ سیلاب درمیانے درجے کا ہو جائے گا۔ دریا میں پانی اتنا زیادہ ہو سکتا ہے کہ وہ کناروں سے باہر آ جائے۔ مزید ریلے آنے سے اونچے درجے کا سیلاب پیدا ہو جاتا ہے جس سے پانی دریا کی گنجائش سے زیادہ ہو جاتا ہے اور پھر دریا سے نکل کر دوسرے علاقوں میں چلا جاتا ہے اور نقصان پہنچاتا ہے، اگر ہم ایک اور راستہ بنا دیں جس سے دریا میں نچلے درجے کے سیلاب کا جو پانی آئے تو وہ دریا سے نکل کر دوسرے راستے میں چلا جائے، اس کے بعد بھی سیلابی پانی کے و مزید ریلے آئیں وہ بھی دریا سے نکل جائیں تو پھر دریا میں صرف معمول کا پانی رہے گا اور نچلے درجے کا سیلاب بھی نہیں آئے گا۔ اگر وہ راستہ بہت لمبا ہو گا تو سیلابی ریلے اس راستے کے علاقوں کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔
سیلابی پانی کے اخراجی نظام کو بنانے کے لئے نہ تو ہمیں کسی خصوصی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے نہ خصوصی مشینوں کی۔ اس نظام کے لئے ہم نے صرف زمین کھودنی ہے اور اس میں پائپ ڈال کر جوڑتے جانا ہے۔ پائپ بھی سپیشل نہیں صرف سیمنٹ کے پائپ جن کا قطر چھ سے دس فٹ ہو چل جائیں گے۔ یہ پائپ لائن سیلابی علاقے کے دریا سے شروع کرکے خشک سالی والے علاقوں میں پہنچا دی جائے تو خشک سالی والے علاقے بھی پانی کی نعمت سے مستفید ہو جائیں گے۔
میرے خیال میں اس نظام کی تعمیر اس علاقے سے شروع کی جائے جہاں سیلاب کا زیادہ خطرہ ہو۔ میرے خیال میں پاکستان میں سیلاب آنے کا سب سے زیادہ خطرہ نوشہرہ شہر کو ہے۔ اسی خطرے کی وجہ سے وہ کالا باغ بنانے کی سب سے زیادہ مخالفت کر رہے ہیں اس لئے اس نظام کی ابتدا نوشہرہ کے پاس سے کی جائے۔ نوشہرہ کے مغرب میں دریائے کابل میں دریائے سوات آ کر ملتا ہے، وہاں دریا پر ایک ہیڈ ورکس بنایا جائے، ہیڈ ورکس کے پچھلے حصے میں جہاں پانی کا ذخیرہ ہو گا وہاں سے نچلے درجے کے سیلاب کی سطح سے ایک پائپ لائن شروع کی جائے تاکہ دریا میں آنے والا فالتو پانی اس پائپ لائن میں چلا جائے اور دریا محفوظ رہے۔ یہ پائپ لائن زیر زمین کرکے مشرق کی طرف بڑھائی جائے یہاں تک کے وہ دریائے سندھ تک پہنچ جائے۔ یہاں سے پائپ لائن کو دریا میں سے زیر زمین یا پانی میں سے گزار کر پنجاب کے علاقے میں پہنچا دی جائے۔ وہاں سے یہ پائپ لائن زیر زمین چولستان تک پہنچائی جائے اسے چولستان کے دور دراز علاقوں تک پہنچایا جائے۔ اس لائن میں ہر دو کلو میٹر کے بعد ایک کنواں ہو گا جس میں آنے والا پانی سٹور ہو جائے اور وہ بعد میں استعمال ہوتا رہے۔
نوشہرہ سے بہاولنگر تک راستے میں دریائے سندھ کے علاقے پنجاب کے سارے دریا آتے ہیں۔ پائپ لائن ان تمام دریائوں سے گزرے گی، کیا یہ ان دریائوں میں آنے والے سیلابوں کو بھی کنٹرول کر سکے گی؟ بالکل یہ پائپ نہ صرف ان دریائوں میں بھی سیلاب کو کنٹرول کر سکے گی بلکہ جن دریائوں میں پانی ضرورت سے کم ہو گا ان کو پانی بھی سپلائی کر سکے گی۔ اس مقصد کے لئے ہمیں ہر دریا کے کنارے اس پائپ لائن پر ایک جنکشن یونٹ بنانا پڑے گا۔ یہ یونٹ ایک تہہ خانے کے چوکور کمرے کی مانند ہو گا جو چھت کے بغیر ہو۔ اس کی ایک دیوار میں نوشہرہ سے آنے والی پائپ لائن کھلے گی سامنے والی دیوار میں بہاولنگر جانے والی پائپ لائن کا منہ ہو گا جبکہ تیسری دیوار سے ایک پائپ لائن شروع ہو گی جو ملحقہ دریا کے اندر جائے گی۔ ہر پائپ لائن کو بند کرنے والے ڈھکنے بھی ہوں گے اور ڈھکنے کو کھولنے اور بند کرنے کا انتظام بھی ہو گا۔ تیسری دیوار کا ڈھکنا عام طور پر بند رہے گا یہ صرف اس وقت کھلے گا جب دریا میں سیلاب آنے کا خطرہ ہو گا یا دریا کو پانی کی ضرورت ہو گی۔
دوسری جانب دریائے سندھ کا کھربوں ٹن پانی ہر سال سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر ہم دریائے سندھ پر دو تین نئے ہیڈ ورکس یا بیراج بنا لیں تو نہ صرف ہم بہت سا پانی ضائع ہونے سے بچا لیں گے بلکہ یہی پانی زراعت کے لئے استعمال ہو گا بلکہ ان بیراجوں سے نہریں نکال کر تھرپارکر کو بھی سرسبز بنایا جا سکتا ہے۔ صوبہ سندھ کا ایک اور بڑا مسئلہ سیلابوں کا ہے جو تقریباً ہر سال آ جاتے ہیں جن سے اربوں روپے کا نقصان ہو جاتا ہے۔ اگر یہاں بھی ہر بیراج کے ساتھ سیلابی پانی کا اخراجی نظام تعمیر کر لیں تو تھرپارکر کیا سندھ دوسرے بنجر علاقے بھی سرسبز ہو سکتے ہیں اور سیلابوں کا نقصان کم ہو سکتا ہے۔
میری تجاویز پر عمل کرنے سے صرف تھر اور چولستان کے علاقے سرسبز ہوں گے بلکہ اس سے سیلابوں پر بھی کنٹرول ہوجائے گا اور زرعی پیداوار بھی ڈبل ہو جائے گی۔