آزادی چوک انٹر چینج پراجیکٹ شاہی قلعہ میں آثار قدیمہ ایکٹ کی خلاف ورزی

آزادی چوک انٹر چینج پراجیکٹ شاہی قلعہ میں آثار قدیمہ ایکٹ کی  خلاف ورزی

خالد بہزاد ہاشمی
Khalidbehzad11@gmail.com
آزادی چوک انٹر چینج پراجیکٹ میں آثار قدیمہ ایکٹ اور بفر زون کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے شاہی قلعہ کے شمال مشرقی کونہ (مستی گیٹ) کے اوپر سے بجلی کی گیارہ ہزار کیوی کی ہائی ٹینشن کیبل گزاری جا رہی ہے جبکہ بفر زون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوسو فٹ کے اندر بجلی کے کھمبے بھی لگا ئے جا  رہے ہیں جبکہ اینٹی کوٹیکیس ایکٹ کی شق 22-23 کے مطابق دو سو فٹ کے اندر کسی بھی قسم کا ڈویلپمنٹ پلان ڈائریکٹر جنرل کی منظوری کے بغیر نہیں لگایا جا سکتا جب کہ سائن بورڈ اور الیکٹریکل پول بھی دو سو فٹ کے اندر نصب نہیں کئے جا سکتے جب کہ شاہی قلعہ تک انتظامیہ نے اس سلسلہ میں ایل ڈی حکام اور چیف ایگزیکٹو لیسکو کو تحریری طور پر دونوں شقوں کی خلاف ورزی سے مطلع کیا ہے لیکن اس کا ڈ یزائن تبدیل نہیں ہوا۔ منصوبے کے تحت شاہی قلعہ اور یادگار کے درمیان سرکلر روڈ پر جھیل بنائی جائے گی جس کے گرد بیس فٹ چوڑا واک وے ہو گا جس پر لوگ پیدل آیا کریں گے آزادی چوک کے نزدیک پارکنگ ایریا بنائے جائے گا شاہی قلعہ ، بادشاہی مسجد، مزار شاعر مشرق علامہ اقبال اور رنجیت سنگھ کی مڑھی تک کیلئے لوگوں کو آزادی چوک سے تقریباً ایک ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے اندر آنا پڑے گا اس سلسلہ میں سرکلر روڈ کا کچھ حصہ پارکنگ میں بدلا جا رہا ہے جبکہ دوسری سمت سٹیشن اور لاری اڈے سے آنے والے وزٹرز کیلئے مستی گیٹ کی جانب سرکلر روڈ پر کچھ ایریا مختص کیا جائے گا۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان تمام تاریخی مقامات پر آنے والوں کو دونوں جانب سے ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے پہنچنا پڑے گا جس میں ضعیف، بچے، خواتین بھی شامل ہوتے ہیں جب کہ چودہ اگست، 23 مارچ، عید، اور دیگر ایام میں آنے والے افراد یہاں کس طرح پہنچ پائے گے اس جانب ابھی کوئی توجہ نہیں دی  گئی ملکی اور غیر ملکی صدور وزیر اعظم اور وی آئی پی شخصیات بھی یہاں تشریف لاتی ہیں ان کی یہاں آمد بھی اتنی آسان نہیں ہو گی۔ شاہی قلعہ ، بادشاہی مسجد، مڑھی رنجیت سنگھ میں تعمیرو مرمت کا کام سال بھر جاری رہتا ہے جس میں بعض سامان صرف ٹرک یا ٹرالی پر ہی لایا جا سکتا ہے اس کی آمد بھی مشکل یا بہت زیادہ اخراجات کی متحمل ہو گی۔ آزادی چوک انٹر چینج پراجیکٹ کے تحت قلعہ کے اندر اور باہر کے تمام اہم ترین ایریا پی ایچ اے کے زیر اہتمام آ جائے گا اور ان کا عمل دخل بھی بڑھ جائے گا۔ پراجیکٹ انتظامیہ کو چاہئیے کہ وہ ان مسائل پر نظر رکھتے ہوئے عوام کی ان تاریخی مقامات تک رسائی کو ممکن اور سہل بنائے اور اس سلسلہ میں بغیر ٹکٹ کے گولف کارڈ یا ٹرام چلائی جائے۔
اس پراجیکٹ کے تاریخی مقامات پر مثبت اثرات بھی مرتب ہونگے خاص طور پر سرکلر روڈ سے گزرنے والی ٹریفک کا دھواں شاہی قلعہ، شیش محل، موتی مسجد، بادشاہی مسجد کے سنگ مر مر کیلئے ٹی بی کا باعث بن رہا ہے ٹریفک ، دھویں، وائبریشن، بارش، پھپھوندی سے ان تاریخی مقامات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا تھا جس کا حال خاص طور پر موتی مسجد کے اندرونی کمپائونڈ کو دیکھ کر کیا جا سکتا ہے۔