اقلیتوں کے مسائل پوری دنیا میں ایک جیسے ہیں: جسٹس تصدق

کراچی (وقائع نگار) چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ اقلیتوں کے مسائل پوری دنیا میں ایک جیسے ہیں۔ بھارت، ایران اور یورپ میں بھی اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک ہوتا ہے۔ یہ انسانی کمزوری ہے۔ 18سال سے کم عمر لڑکیوں کی اپنی مرضی سے شادی کے مسائل مسلمانوں میں بھی ہیں، ہندو برادری اسے فسادات کا رنگ نہ دے۔ لڑکیوں کو مرضی سے شادی کرنے کا حق اسلام بھی دیتا اور ملک کا آئین بھی۔ ہم نے ہندو اور دیگر اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں کی سکیورٹی اور ان کے تحفظ کے لئے احکامات جاری کئے ہیں جس کا مقصد ان کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ بھی ہم میں سے ہیں۔ اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں سے متعلق متفرق درخواستوں کی سماعت میں جنرل سیکرٹری ہندو کونسل پاکستان دیپک کمار نے عدالت کو بتایا کہ سانحہ لاڑکانہ کے بعد ہندو برادری کی عبادت گاہوں کے ساتھ ساتھ پوری کمیونٹی کو ناروا سلوک کا نشانہ بنایا جارہاہے۔ ہندو برادری کو موقع دیا جاتا تو وہ جرم کرنے والے شخص کو خود قانون کے حوالے کردیتی۔ جس طر ح اسلام دوسرے مذاہب کے احترام کا حکم دیتا ہے اسی طرح ہندوازم پر یقین رکھنے والے لوگ بھی تمام مذاہب کا خیال رکھتے ہیں۔ یہ رویہ ختم کرنا ہوگا کہ جرم ایک شخص کرے اور سزا پوری کمیونٹی کو ملے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ سانحہ لاڑکانہ کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمشن مقرر کیا جائے، جو واقعہ کی شفاف تحقیقات کرے۔ چیف جسٹس نے کہا  اسلام تمام مذاہب کے حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ مذاہب کی وجہ سے انسانوں میں ہم آہنگی ہوئی۔ حضرت محمد  مصطفی ﷺ مسجد نبوی میں مسیحیوں کو عبادت کی دعوت دیتے تھے۔ آئین اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے اگر چند لوگوں کی وجہ سے کوئی قانون اپنے ہاتھ میں لے لے، اس کی اجازت ہر گز نہیں دیں گے۔ قانون کے تحت حقوق دینے میں اگر کوئی کمی ہے تو اس کو عدالتیں پورا کریں گی۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ صرف 18سال سے کم عمر اقلیتی برادری کی لڑکیاں ہی مرضی سے شادی کرتی ہیں بلکہ مسلمان لڑکیاں بھی اپنی مرضی سے شادی کرتی ہیں، سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر ہرچند نے عدالت سے استدعا کی کہ ملک بھر میں ہندو برادری کی جائیداد کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کی کوتاہی کا عدالت کے پاس جواب نہیں۔ چیف جسٹس نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاڑکانہ کو ہندو برادری کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی 15 روز میں تحقیقات کرکے عدالت میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے ڈسٹرکٹ جج کو انکوائری کمشن کا سربراہ مقرر کیا ہے۔