افغانستان سے بھی پانی کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے، جنگ کے متحمل نہیں: احسن اقبال

اسلام آباد (آن لائن) منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کے بعد افغانستان سے بھی پانی کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ بات چیت سے مسائل حل کرنا ہوں گے پاکستان پانی کیلئے جنگ کا متحمل نہین ہو سکتا، پانی کے مسئلہ پر توجہ نہ دی گئی تو ملک قحط زدہ ہو سکتا ہے، پچھلے 14سال توانائی کے مسئلہ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے باعث بحران ہے پانی کا بحران اس سے بھی شدید ہو سکتا ہے۔ پاکستان واٹر سمٹ 2014 ء سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں سے بات چیت  کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا  انسانی زندگی میں ہوا، پانی اور خوراک نہایت ضروری ہے۔ مستقبل میں پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے  ہمسایہ ممالک کے ساتھ بات کرنا انتہائی ضروری ہوگا۔ پچھلے 14 سال میں توانائی کے بحران پر قابو نہیں پایا گیا جس کی وجہ سے آج قوم کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے کیونکہ توانائی کے بحران کی وجہ سے ملک کی معیشت رک گئی ہے۔ ملک کی آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اسی تناسب سے پانی کی ضرورت بھی بڑھتی جارہی ہے۔  پانی کے ضائع ہونے کی صورت حال اسی طرح رہی تو مستقبل میں پانی کا بحران توانائی بحران سے شدید ہوگا ، پانی کے بحران پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔ پانی کی سکیورٹی  قومی سلامتی کی طرح ہے۔ غذائی بحران سے قومی سکیورٹی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں پہلی قومی پالیسی تیار ہے۔ بھارت سے پہلے5600 کیوسک میٹر پانی ہر سال آتا تھا جبکہ سندھ طاس معاہدہ کے بعد33 ملین ایکڑ فٹ اور کابل سے24 ملین ایکڑ فٹ آ رہا ہے کیونکہ زمین سے پانی کی کمی پوری نہیں ہو سکتی۔ پاکستان 40 فیصد پانی ذخیرہ کر سکتا ہے جبکہ اس وقت7 فیصد ذخیرہ کرنے کی استعداد رکھتا ہے ہم پانی کو ضائع کررہے ہیں۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے احسن اقبال نے کہا ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ قومی واٹر پالیسی پر کام شروع کیا گیا  ہے۔ توانائی شعبہ میں پالیسی نہیں بنائی جس کی وجہ قوم کو توانائی بحران کا سامنا ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی  نے کہا پاکستان بھارت کے تعلقات اور اختلافات  کے حل کے لئے مذاکرات کا راستہ واحد حل ہے۔ بھارت کے ساتھ پانی کا مسئلہ حل ہونا چاہئے اس کے لئے مذاکرات کئے جائیں پاکستان پانی کا مسئلہ حل کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ پانی ہماری خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔ بعدازاں  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فاطمی نے کہا پاکستان بھارت کے تعلقات اور اختلافات کے حل کے لئے مذاکرات کا راستہ واحد حل ہے۔ سندھ طاس معاہدے میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔