مذہبی جماعتیں تقسیم، طالبان سے مذاکرات کےلئے حکومتی کوششوں کی ناکامی کا اندیشہ

اسلام آباد (آن لائن) طالبان سے مذاکراتی حکومتی کوششیں ناکام ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے کیونکہ مذہبی جماعتیں3 دھڑوں میں تقسیم نظر آتی ہیں جن میں ایک طبقہ طالبان سے مذاکرات ،دوسرا آپریشن کا حامی ہے جبکہ تیسرا طبقہ خود کو اس سارے معاملے سے الگ کر چکا ہے۔ وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کے لئے جے یو آئی (ف) نے تمام خدمات پیش کر دی ہیں جبکہ جماعت اسلامی، جے یو آئی (س) نے آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے مذاکرات پر زور دے رہے ہیں جبکہ سنی اتحاد کونسل سمیت دیگر مذہبی دھڑے طالبان کے خلاف موثر آپریشن کے حامی ہیں۔ وفاقی حکومت دہشت گردی کیخلاف اپنی ٹھوس پالیسی وضع کرنا چاہتی ہے اس کےلئے وہ مذہبی جماعتوں سے مسلسل مشاورت میں مصروف ہے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے حال ہی میں جے یو آئی (س)کی سربراہ مولانا سمیع الحق سے ملاقات کرکے انہیں ٹاسک دیا مگر کوئی بڑی پیشرفت نظر نہیں آئی جبکہ انہی دنوں وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی جسے انہیں راضی کرنے کی کوشش قرار دیا گیا اور اس کے بعد ان کے ساتھی کابینہ میں شامل ہو چکے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جب حکومت ایک دھڑے کو اپنے اتنا قریب کر لے گی تو یقیناً دوسرا دھڑا دور ہوجائے گا جو کسی طرح بھی مفید نہ ہوگا۔
اندیشہ