قانون کی حکمرانی‘ آئین کی تشریح عدالتی نظرثانی اور تنازعات پر ثالثی سپریم کورٹ کا کام ہے : چیف جسٹس

اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے سپریم کورٹ میں بطور وکیل نئے شامل ہونے والے وکلاءمیں سرٹیفکیٹ تقسیم کئے۔ سپریم کورٹ رجسٹری برانچ میں 32ویں رول سائننگ کی تقریب ہوئی جس میں لا ہور، راولپنڈی، فیصل آباد، بہاولپور، کراچی، رحیم یار خان اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے 75 سینئر وکلاءکا سپریم کورٹ میں بطور وکیل اندراج کیا گیا۔ انرولمنٹ کمیٹی نے ان وکلاءکے انٹرویو کے بعد انہیں سپریم کورٹ میں بطور وکیل اندراج کی سفارش کی تھی۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس تصدیق حسین جیلانی نے وکلاءکی سپریم کورٹ میں بطور وکیل اندراج پر انہیں مبارکباد دی۔ انہوں نے وکلاءپر زور دیا کہ وہ آئینی اور قانونی امور پر بھرپور محنت اور تیاری سے کورٹ کی معاونت کریں۔ اپنے کلائنٹس کی خلوص نیت سے مدد کریں، عوام کی قانونی عمل میں معاونت کریں۔ انہوں نے عدلیہ کی بحالی کی تحریک کے دوران سول سوسائٹی اور وکلاءکی جدوجہد کو سراہتے ہوئے اسے بہترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جدوجہد قانون کی بالادستی کی ایک بڑی اہم مثال اور عوام کی آئین پر یقین کی بھی مثال تھی۔ قانون کی حکمرانی، آئین کی تشریح، جوڈیشل ریویو آئینی تنازعات پر ثالثی سپریم کورٹ کا کام ہے۔
چیف جسٹس