کنٹونمنٹ کے انتخابات کیلئے سرگرمیاں شروع

کنٹونمنٹ کے انتخابات کیلئے سرگرمیاں شروع

راجہ منیر خان
کنٹو نمنٹ کے انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی ایک دفعہ پھر ایبٹ آباد شہر میں الیکشن سرگرمیاں شروع ہوگئیں ایبٹ آباد شہر میںکنٹونمنٹ کے 5 وارڈ ہیں جن میں انتخاب ہونے ہیں ان 5 وارڈوں میں جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے درجنوں امیدوار میدان میں آگئے ہیں لیکن ابھی تک کنٹونمنٹ کے انتخاب میں سیاسی جماعتوں کی پالیسی سامنے نہیں آئی ہے کہ اس انتخاب میں ان کاکردا ر کیا ہوگا دیکھا جائے تو کنٹونمنٹ کی حدود میں رہائش پزیر شہریوں سے مختلف مد میں بھاری ٹیکس وصول کیا جاتا ہے لیکن وہ ٹیکس ان شہریوں پر نہیں لگایا جاتا کنٹونمنٹ حکام اور اہلکار وہ ٹیکس اپنی عیاشیوں پر لگا لیتے ہیں۔ صفائی کے نام پر وصول ہونے والے ٹیکس میں اگر 40فیصد ٹیکس مزکورہ علاقوں میں صفائی پر لگا دیا جائے تو کنٹونمنٹ کی حدود موتی کی طرح صاف ہو اسی طرح کنٹونمنٹ کی حدود میں بھی باقی شہر کی طرح تجاوزات کرنے والوں کا راج ہے جو جتنا بااثر ہے اس نے اسے حساب سے ناجائز تجاوزات کی ہوئی ہیں۔ ان دنوں کنٹونمنٹ احکام نے ناجائز تجاوازت کےخلاف آپریشن شروع کر رکھا ہے جوکہ بااثر افراد کے خلاف نہیں بلکہ غریب شہریوں کےخلاف ہے بااثر افراد نے جتنا قبضہ کیا ہوا ہے وہ ٹھیک ہے جبکہ عام شہری اپنی شاپ کا سائن بورڈ تک نہیں لگا سکتا۔ مین مانسہرہ روڈ پر ہونے والے آپریشن کاکچھ اس طرح کا منظر تھا کہ بااثر افراد کنٹونمنٹ اہلکاروں کے ساتھ کھڑے ہوکر عام شہریوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو دیکھ رہے تھے کنٹونمنٹ الیکشن کے بعد شاید ان لوگوں کو تحفظ مل جائے اور انکی آواز اُٹھانے والا بھی کوئی ہوگا۔ اس کےلئے کنٹونمنٹ میں بننے والوں کو انتخاب کے دوران درست فیصلہ کرنا ہوگا سرمایہ داروں کو اگر منتخب کروا دیا تو پھر ان کے اوپر اسی طرح کے آپریشن ہوتے رہیں گے۔ انتخابات فیصلے کا وقت ہے عوام کو سوچ سمجھ کو اپنے نمائندے چننا ہونگے یہ نہ ہوکہ کہیں قبضہ مافیا اور کہیں سرمایہ داروں کو چن لیا جائے جس کاکام اپنے آپ کو تحفظ رہنا ہوگا عام آدمی کی آواز اُٹھانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ پیسے کی ریل پھیل سے متاثر ہوکر قبضہ مافیا یا سرمایہ دار کو مت ووٹ دیں وہ آپ کے حقوق کی کبھی جنگ نہیں لڑیں گے بلکہ انہیں اپنے قبضہ مافیا یاسرمایہ دار کا ہی تحفظ عزیز ہوگا کنٹونمنٹ کی حدود میں تجاوزات کا آپریشن ہو رہا ہے اس سے بہتر انداز میں ٹی ایم اے کی حدود میں ہو رہا ہے جس کی نگرانی ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کامران رحمان اور اسٹنٹ کمشنر اسامہ وڑائچ کررہے ہیں۔ البتہ جہاں انکی نگرانی کے بغیر ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن ہوا ہے وہاں کنٹونمنٹ کی طرح کا آپریشن ہو رہا ہے۔ ایبٹ آباد میں یوں تو تجاوزات مافیا کے سیوریج نالوں پر قبضہ کرکے بڑی بڑی عمارات دوکانیں اور اپنے گھر بنائے ہوئے ہیں۔ ان کےخلاف ابھی تک آپریشن نہیں ہوا سیوریج نالوں پر قبضہ کے باعث بارش والے دن ایبٹ آباد کے بڑے رہائشی علاقوں میں پانی شہریوں کے گھروں میں داخل ہو جاتا ہے فوارہ چو ک، ہائی سکول نمبر دو، کریم پورہ سمیت درجنوں ایسے سیوریج نالے ہیں جن میں قبضہ مافیا نے قبضہ کرکے ہوٹل مارکیٹیں اورگھر تعمیر کئے ہوئے ہیں۔ ان کے خلاف آپریشن نہ ہونا سوالیہ نشان ہے البتہ ضلعی انتظامیہ نے جو آپریشن ڈپٹی کمشنر اور اسٹنٹ کمشنر کی نگرانی میں کئے ہیں وہ ٹھیک آپریشن تھے۔ بندہ کھوہ کے قریب بااثر سیاسی شخصیات کی اشیرباد پر 25 سال سرکاری اراضی پر قبضہ کیا ہوا تھا۔ اسٹنٹ کمشنر اسامہ وڑائچ کا کہنا تھا کہ خوشدل عباسی نے صرف 400 فٹ کا ٹکڑا لیز کروایا ہوا ہے جبکہ اس نے 2766 فٹ اراضی پر قبضہ کیا ہوا تھا جسے بار بار نوٹس دیتے رہے لیکن سیاسی اشیرباد کے باعث وہ قبضہ نہیں چھوڑ رہا تھا جس پر مجبوراً آپریشن کرکے سرکاری اراضی کو واگزار کروایا جبکہ اسی طرح بانڈی عطائی خان جوکہ ٹی ایم اے حویلیاں کی حدود میں واقع ہے میں 217 کنال اراضی پر 8 سالوں سے قبضہ مافیا نے قبضہ کر رکھا تھا کہ مذکورہ علاقے میں متاثرین زلزلہ کےلئے عارضی طور پر بستی بنائی گئی تھی جس پر قبضہ ہی کر لیاگیا۔ انہیں ٹی ایم اے اور ڈسڑکٹ انتظامیہ نے بار بار نوٹس دیئے لیکن انہوں نے قبضہ نہ چھوڑا جس پر ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر ایبٹ آباد اسامہ وڑائچ اور ٹی ایم اے حویلیاں نے مشترکہ طور پر آپریشن کرتے ہوئے 8 سالوں سے قابض قبضہ مافیا سے 217 کنال اراضی پر قابض قبضہ مافیا نے رضا کارانہ طور پر قبضہ چھوڑ دیا جس وجہ سے کوئی گرفتاری نہیں ہوئی مذکورہ اراضی پر صوبائی حکومت سرکاری ملازمین کےلئے کالونی بنانے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے اگر ایبٹ آباد کی خوبصورتی کو قائم رکھنا ہے تو ناجائز تجازوات کے خلاف آپریشن جاری رکھیں اور ان بڑی مچھلیوں کے خلاف بھی کارروائی کریں جنہوں نے سیوریج نالوں پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔ فوارہ چوک سے گزرنے والا سیوریج نالہ 30 فٹ سے بڑا تھا اسی طرح ہائی سکول نمبر 2 کے سامنے سے گزرنے والا سیوریج نالہ چھ فٹ اور کنٹونمنٹ پلازہ کے سامنے سے گزرنے والا نالہ 15 فٹ اسی طرح کریم پورہ سے گزرنے والا نالہ جو بندہ کھوہ تک جاتا ہے وہ 6 فٹ تھا جب کہ لنک روڈ DHQ ہسپتال کے سامنے سے گزرنے والا سیوریج نالہ تقریباً 8 فٹ تھا، جو اب بالترتیب فوارہ چوک چھ فٹ ہائی سکول نمبر 2 دو فٹ کریم پورہ 2 فٹ اور کنٹونمنٹ پلازہ کے ساتھ گزرنے والا نالہ چھ فٹ DHQ کے سامنے سے گزرنیں والا نالہ 4 فٹ رہ گیا ہے باقی نالے پر قبضہ مافیا نے قبضہ کرکے ہوٹل دوکانیں گھر بنا لئے ہیں۔ ان نالوں کو واگزار کروانا ضلعی انتظامیہ اور ٹی ایم اے کی ذمہ داری ہے تب جاکر یہ کہا جا سکے گا کہ ضلعی انتظامیہ نے میرٹ پر آپریشن کیا ہے بصورت دیگرناجائز تجاوازت کے خلاف ہونے والے آپریشن سوالیہ نشان بن جائیں گے جو آپریشن ہوئے ہیں اس سے ثابت ہوگا کہ وہ ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر ہوئے ہیں۔ اس میں انتظامیہ افراد کے مفادات تھے کمشنر ہزارہ عابد علی خان کی تعیناتی کے بعد ان کے نگرانی میں دیگر انتظامیہ افسران ناجائز تجاوازت کے خلاف آپریشن کررہے ہیں وہاں ہزارہ بھر میں ٹمبر مافیا کے خلاف بھی گھیرا تنگ کیا گیا ہے۔ ٹمبر مافیا محکمہ جنگلات کے افسران اور اہلکاروں کی ملی بھگت سے ہزارہ کے جنگلات کو مولی گاجر کی طرح کاٹ رہے ہیں اور ہزار ہ کے گھنے جنگل چٹیل میدانوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی کو روکا جائے۔ جنگلات کی وجہ سے ہزارہ ڈویژن کا خطہ سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ کر لاتا ہے جس سے ہزاروں لوگوں کو روز گار کے مواقع میسر آتے ہیں اس لئے ہزارہ میں اگر سیاحت کو فروغ دینا ہے تو ہزارہ کے جنگلات کو بچانا ہوگا جنگلات کو بچانے کےلئے کمشنر ہزارہ کے اقدامات خراج تحسین کے مستحق ہیں لیکن یہ کارروائیاں وقتی نہیں ہونی چاہئیں بلکہ مستقل بنیادوں پر ہونی چاہئیں۔ کیونکہ اکثر افسران اپنی کرپشن کے ریٹ میں اضافے کےلئے نئی تعیناتی کے بعد اس طرح کے اقدامات اُٹھاتے ہیں جب ان کی کرپشن کے ریٹ انہیں اضافی مل جاتے ہیں تو پھر وہ خاموش ہو جاتے ہیں اس لئے کمشنر ہزارہ اپنی نیک نامی کو زندہ رکھنا ہے تو سابق ڈی آئی جی ہزارہ موجودہ آئی جی موٹر وے پولیس ذوالفقار چیمہ کی طرح اقدامات کرنے ہوں گے جو انہوں نے ہزارہ میں تعیناتی کے دوران کئے جنہیں آج تک ہزارہ کے عوام اچھے لفظوں سے یاد کرتے ہیں۔