نومنتخب حکومت اور مسائل کا گرداب

نومنتخب حکومت اور مسائل کا گرداب

محسن گورایا

موجودہ حکومت کو مسلم لیگ(ن)کے متوالے شیر کی حکومت کہتے ہیں ،شیر مسلم لیگ (ن)کا انتخابی نشان تھا اور اب بھی اسکی پہچان ہے الیکشن کے دوران جن لوگوں نے اپنی گاڑیوں اور گھروں پر شیر کی تصویریں یا ڈمیاں لگائی تھیں انکی اکثریت نے انہیں ابھی تک اتارنا پسند نہیں کیا یہ انکی شیر کے ساتھ محبت ہے۔ اسی طرح الیکشن میں جہاں یہ نعرہ لگتا تھا کہ میاں ساڈا شیر اے، باقی ہیر پھیر اے، وہاں مسلم لیگ (ن)کے کارکنوں کا ایک پسندیدہ اور مقبول نعرہ یہ بھی تھا کہ شیر اک واری فیر ۔یہ انکے دل کی آواز اور خواہش تھی جو پوری ہوئی اور شیر اک واری فیر آ چکا ہے ۔ شیر کی
حکومت کے سو دن بھی پورے ہو چکے ہیں اور پٹرول بھی سو کے ہندسے کو پیچھے چھوڑ کر شیر کی طرح پھرتی سے آگے بلکہ بہت آگے نکل گیا ہے، عوام کی سانس میں سانس آئی نہ بجلی آئی اور مہنگائی کا جن عفریت بن گیا۔حکومتی عہدیدار کہتے ہیں کہ ہم نے سو دنوں میں معاملات کو درست سمت میں ڈال دیا ہے وہ ٹھیک کہتے ہیں پچھلی حکومت میں بجلی شہروں میں ہر گھنٹے بعد دیدار کراتی تھی اور دیہات والوں کو کم کم ہی دکھائی دیتی تھی ۔یہ معاملہ اب بھی جاری ہے ۔ گزرے دور میںحکومت کو پھر بھی عوام کا خیال تھا اس لئے عوام سے ڈرتے ہوئے بجلی کو مہنگا نہ کیا مگر ہماری موجودہ حکومت تو عوام دوست ہے اس لئے یہ عوام سے کیوں ڈرے اس لئے پہلے سو دنوں میں ہی بجلی کو مہنگا کر کے اسے درست سمت میں ڈال دیا ۔سی این جی کو تہتر سے چوراسی روپے تک پہنچا دیا تا کہ غریبوں کی گاڑیاں درست سمت میں چل سکیںاو ر رہا ڈالر تو اسے اٹھا کر ایک سو پانچ تک لے گئے تاکہ عوام کے دماغ درست سمت میں سوچیں ۔حکومت کی درست سمت سوچ کو سلام۔ پاکستانی عوام کے ہر دل عزیز شیر نے عوام کو جو امیدیں دی تھیں جو خواب دکھائے تھے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں ہوا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پرعوام سڑکوں پر نکلے مگر ان کی کون سنتا ہے ، اگر دیکھا جائے تو گزشتہ دور میں بھی مہنگائی رہی لیکن موجودہ حکومت نے تو عوام سے ووٹ ہی مہنگائی کے خلاف لئے تھے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 5سے 10فیصد تک غیر اعلانیہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور اس کا ڈائریکٹ اثر اشیاءضروریہ کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے آٹا بھی ہر دوسرے روز فی تھیلا مہنگا ہو جاتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ شیر کی حکومت میں غریب عوام کب تک مہنگائی کے بوجھ تلے پستے رہیں گے۔ آج کل ایک ایس ایم ایس بہت گردش میں ہے جس میں ایک آدمی نے دوسرے سے پوچھا کہ بھائی خوشیاں کیا ہوتی ہیں تو اس نے کہا بھائی میں تو پاکستان میں رہتا ہوں ، شادی شدہ ہوں اور ووٹ بھی شیرکو دیا تھا اب میں کیا جانوں کہ یہ خوشیاں کیا بلا ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت عوام کے اس خاموش احتجاج کو سمجھے اور اپنی راہ کو درست کرتے ہوئے اپنے وعدوں پر عمل کر ے مگر اس کے الٹ ہو رہا ہے۔ موجودہ حکومت جب اقتدار میں آئی تھی تو اس کی ترجیحات میں دہشت گردی اور امریکی ڈرون حملوں کا خاتمہ، انرجی کرائسز کا حل ،ملک میں مجموعی امن وامان خصوصاً بلوچستان اور کراچی میں امن کا قیام ، مہنگائی کا خاتمہ وغیرہ شامل تھیں اور میاں نواز شریف نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے 100دن کے اندر ملک میں ایک مثبت تبدیلی لائیں گے اور عوام کی مشکلات میں واضع کمی واقع ہوگی لیکن اگر جائزہ لیا جائے تو جب سے نئی حکومت اقتدار میں آئی ہے ملکی معیشیت کی صورتحال کچھ زیادہ ہی دگرگوں ہو رہی ہے اور نئی حکومتی ٹیم ابھی تک کسی ایک بھی میدان میں کوئی ایسی تبدیلی نہیں لاسکی جس سے امید ہی بندھ سکے کہ حکومت کی سمت کا تعین درست ہے اس حکومت کے قیام کے بعد جہاں دہشت گردی ، امریکی ڈرون حملوں ، کراچی وبلوچستان کے حالات اور انرجی کرائسز میں بہتری آتی نظر نہیں آئی وہیں پٹرول کی قیمتیں اب آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جس کے بعد اب خود بخود دیگر اشیاءضروریہ اور بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا اور عوام جو کہ سو دن کے اندر ملک میں خوشحالی کے خواب دیکھ رہی تھی اب باقی مہینوں کو گننے کی فکر میں مصروف ہوجائے گی۔ عوام کو پٹرول ، سی این جی کی لائنوں اور یوٹیلیٹی سٹورز پر اسقدر مصروف رکھا جائے گا کہ وہ امریکی ڈرون کو شاید بھول ہی جائیں۔مرکزی اور صوبائی حکومتیں تاحال ان تمام مسائل کے حل کےلیے کسی قسم کی کوئی پالیسی نہیں بنا سکی ہیں ملکی سلامتی کے مشیر کا کہنا ہے کہ ملکی سلامتی کے لیے پالیسی دوماہ تک بن جائے گی ان حالات میں تو دل سے ملکی سلامتی کی دعا ہی نکلتی ہے ۔ صوبائی حکومتیں اپنی اپنی پسند اور ضرورتوں کے مطابق بلدیاتی نظام لانے کی خواہاں ہیں اور ان حالات میں شفاف انتخابات کا انعقاد ہی عوام کی نمائندگی یقینی بنا سکتا ہے دوسری طرف تاحال یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ عدلیہ کے کردار کے بغیر وقت پر بلدیاتی انتخابات ہو پائیں۔اس بنتے بگڑتے سیاسی ماحول میں تمام جماعتیں بلدیاتی انتخابات کےلیے بھرپور تیاری کر رہی ہیں اور موجودہ ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد تو سابقہ حکومت کی اتحادی جماعتیں بھی بہت زیادہ سرگرم ہیں ۔نواز لیگ کے لیے اس وقت سب سے اہم مسئلہ پنجاب میں ن لیگ کی روز بروز گرتی ہوئی ساکھ ہے جس کی وجہ سے عوام دوسری جماعتوں کی طرف متوجہ ہورہے ہیں اور اگر اس دفعہ ن لیگ نے پنجاب کے عوام کے دل نہ جیتے تو پھر اس جماعت کےلیے بہت سے مسائل پیداہوسکتے ہیں اس وقت پنجاب میں وزیراعلیٰ شہباز شریف کی عدم دلچسپی کہہ لیجیئے یا ان کی وفاق میں مصروفیت وجہ جو بھی ہو پنجاب کے عوام کو اچھی طرح اندازہ ہو رہا ہے کہ ان کے مسائل کے حل پر توجہ دینے اور ان کی مدد کو پہنچنے والا خادم اعلیٰ موجود نہیں ہے اور دوسری طرف خیبر پختونخوا میں وہاں کے وزیر اعلیٰ نے تو ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں وہ کہتے تھے کہ عمران خان 90دن کا کہتے ہیں میں 30دن میں صوبے میں تبدیلی لاکے دکھا و¿ں گا اس حوالے سے انہوں نے واضع کر دیا ہے کہ یہ 90روز چور دروازے بند کرتے گذر گئے ہیں اب عوام کے مسائل پر توجہ دیں گے چلیں یہ 90نہیں تو پرویز خٹک کے 30دن ہی دیکھ لینے میں کیا ہرج ہے؟ وزیر اعظم نوازشریف نے بھی کہا ہے کہ قوم کو تمام مسائل سے نجات ملنے کا وقت دور نہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ سو دن کے بعد یہ وقت کب آئے گا ۔اے پی سی کے بعد وفاقی حکومت نے طالبان کیساتھ مذاکرات کو پہلی ترجیح قرار دے کر کام کا آغاز کیا لیکن ا بھی چند دن ہی نہیں گزرے کہ فوج جو کہ کچھ تحفظات کا اظہار کرنے کے بعد مذاکرات پر حکومت کی ہم نوا ہے اسے ایک نیا جھٹکا لگا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری بارہ سال سے جاری جنگ میں پاکستان فوج کا تیسرا میجر جنرل شہید ہوگیا اور جس بارودی سرنگ کے دھماکے کے نتیجے میں شہید ہونے والے میجر جنرل ثناءاللہ نیازی اور لیفٹیننٹ کرنل توصیف پر حملہ کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی ہے جو کہ ملک میں جاری بدامنی کے خاتمے کی نوید کے لیے بہت نقصان دہ ہے اور اس حوالے سے بہت سے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں کیونکہ طالبان کا مطالبہ ہے کہ فوج سیز فائر کرے جبکہ فوج چاہتی ہے کہ حکومت کی رٹ قائم ہو ان حالات میں جبکہ حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ بھی ہونا شروع ہوگیا ہے یہ خبریں ملک کے سیاسی منظر نامے پر نئی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہیں ۔دوسری طرف کراچی میں حالات ایک دفعہ پھر نیا رنگ لیتے نظر آرہے ہیں جہاں معاملات سدھرنے کی بجائے مزید پیچیدہ ہوتے نظر آرہے ہیں۔کراچی کے حوالے سے وفاقی حکومت کا کردار بہت اہم ہے کیونکہ کراچی اس وقت انتظامیہ کی ایک تکون کے زیر سایہ ہے جن میں وفاقی حکومت مسلم لیگ نواز ، صوبائی پاکستان پیپلز پارٹی اور وفاق کا نمائندہ ایم کیو ایم سے ہے اور ان حالات میں وزیراعظم نواز شریف نے ایک اچھا فیصلہ کیا ہے کہ کراچی کے عوام کے سکون کے لیے وہاں صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر ایسا ٹارگٹڈ آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ امن کے ساتھ شہر کی روشنیا ں بھی واپس لائی جاسکیں ۔ وفاقی حکومت نے موجودہ حالات میں اپنے نمائندے اور وفاقی وزیر داخلہ کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کو پیغام دیا ہے کہ آپریشن نتیجہ خیز ہونا چاہیے دوسری طرف انہوں نے ایم کیو ایم کے بابر غوری کو بھی فون کر کے یقین دہانی کروائی ہے کہ ان کے خلاف کوئی ناجائز کارروائی نہیں ہوگی،الطاف حسین نے 60ویں سالگرہ کے موقع پر کارکنوں سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر ہر تکلیف برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اب بات یہ ہے کہ یہ ذہنی اور جسمانی تکلیف کیا ہے کیونکہ الطاف حسین اس وقت لندن میں ہیں اور جسمانی تکلیف موجودہ حالات میں انہیں صرف لندن پولیس سے ہی مل سکتی ہے۔جبکہ ذہنی پریشانی کے مختلف عوامل ہیں جن میں اہم ترین گورنر سندھ کا استعفیٰ اور دبئی روانگی ، ایم کیو ایم کے اندر سابق راہنماو¿ں کا عمران فاروق کے نام پر تنظیم سازی کا اعلان اور سکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا کہ عمران فاروق کا قتل سیاسی وجوہات کی بناءپرکیا گیا بات جو بھی ہے حالیہ الیکشن کے بعد پاکستان میں ایم کیو ایم کی کمر سیدھی نہیں ہو پارہی دوسری طرف موجودہ حکومت کو درپیش مسائل میں سب سے اہم مسئلہ کراچی جو کہ پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے وہاں کے عوام کو امن اور امان فراہم کیا جاسکے۔ایم کیو ایم کے سابقہ راہنماءنعیم احمد نے اعلان کیا ہے کہ عمران فاروق کے نام پر ایم کیو ایم کے راہنماو¿ں نے ایک نئی تنظیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ اس میں بہت سے سینیئر لوگ شامل ہیں ۔