شہید پاکستان-- میجر جنرل ثناءاللہ خان نیازی

شہید پاکستان-- میجر جنرل ثناءاللہ خان نیازی

محمد یوسف علی خان چغتائی
 ےہ اےک حقےقت ہے کہ کائنات انسانی کے اندر کوئی انسان مرنے کے لئے تیار نہیں حالانکہ رب ذوالجلال کا فرمان ہے کہ تمام انسانیت کو موت کے بعد روز قیامت دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اس پر مسلمان کاملین کا کامل ایمان ہے کہ ہر انسان کو موت کی طویل ترین نیند کے بعد اپنا حساب کتاب دینے کے لئے روز محشر دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اموات کی بھی اقسام ہیں جن مےں عام آدمی کا بیماری ،حادثہ، ضعف العمر کی حالت میں رحلت کر جانا شامل ہے۔
لیکن ان اموات میں ایک موت اﷲ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے جان قربان کرنے کی بھی ہے۔ اس افضل ترین موت کو شہادت کہتے ہےں اور شہادت پانے والے کو شہےد کہتے ہےں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سپاہ میں شامل ہو کر اپنے ملک و ملت کی حفاظت کرتے ہوئے اور دین اسلام کا پرچم بلند کرنے کے لئے جہاد کے جذبے سرشار ہو کر اپنی جان کا نذرانہ پےش کرنے والے مجاہد پر پوری قوم ہی نہےں فرشتے بھی رشک کرتے ہوں گے۔
آج ہم ایسے ہی مرد مجاہد شہید پاکستان میجر جنرل ثناءاﷲ خان شہےد کی بہادری، جرا¿ت اور استقامت ذکر کرےں گے۔
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
دو نیم اِن کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
میانوالی کے علاقہ دادوخیل کی پرخلوص مٹی سے تخلیق ہونے والے مردِ مجاہد، شہید پاکستان میجر جنرل ثناءاﷲ خان نیازی پاک وطن کی سرزمین کی حفاظت کے لئے ہمیشہ اور ہر وقت کمر بستہ رہنے والے بہادر اور جرا¿ت مند پیشہ وارانہ مہارت اور تجربہ رکھنے والے باہمت نوجوان تھے۔
 میجر جنرل ثناءاﷲ خان نیازی پاک وطن کی سرزمین کی حفاظت کے لئے ہمیشہ ملک وقوم اوردشمن عناصر کے مقابلہ کے لےے سینہ سپر رہے ۔ وہ پاک سرزمین کی حفاظت کے لئے افغانستان کی بارڈر پر واقع علاقہ اپر دیر مےں سپاہ کی کمانڈ کرنے پر معمور تھے۔ موسم کی خرابی کے باعث عظیم مجاہد میجر جنرل ثناءاﷲ خان اپنے ساتھیوں کمانڈنگ آفیسر کرنل توصیف اور لانس نائیک عرفان ستار کے ہمراہ دشوار گزار پہاڑی کے پک ڈنڈی نما راستہ سے آ رہے تھے کہ دشمنان پاکستان نے راستے میں بارودی سرنگیں بچھائی ہوئی تھیں جن کی زد میں اُن کی گاڑی آ گئی ، جس کی وجہ سے میجر جنرل ثناءاﷲ خان اپنے دو ساتھیوں کرنل توصیف اور لانس نائیک عرفان کے ہمراہ شہید ہوگئے ۔ عسکری اور قومی سطح پر ان تینوں مجاہدوں کی شہادت پوری قوم ، ملک اور پوری پاک افواج کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے لیکن شہادت کاجام بھی خوش قسمت انسانوں کے مقدر ہوا کرتا ہے کیونکہ تمیداً اموا ت کا ذ کر کیا گیا۔ اُسی حوالے سے اموات کی بات کو آگے بڑھاتے ہےں کہ شہےد کی موت مرنے والا خداوند کریم کی بارگاہ سے فریاد ، دُعا اور التجا کرتا ہے کہ اے میرے رب مجھے دوبارہ زندہ کر کے دُنیا میں بھیج، میں دوبارہ کفر سے لڑتے ہوئے تیرے راستے میں شہید ہو کر حاضر ہو جاو¿ں اور اس طرح اے میرے رب تو مجھے سو بار زندہ کر کے دنیا میں بھیجتا رہے اور میں تیرے راستے میں کفر سے جہاد لڑتے ہوئے شہید کیا جاو¿ں۔ بقول شاعر
یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا
شہید پاکستان اور مجاہد افواج میجر جنرل ثناءاﷲ خان کے حالات زندگی بھی جہد مسلسل سے عبارت ہیں۔ شہید ثناءاﷲ خان داودخیل کے پٹھان قبیلہ علاو¿ل خیل میں پیدا ہوئے، آپ کے والد مرحوم حاجی حلاض خان ایس ایس پی کوئٹہ رہے ۔
میجر جنرل ثناءاﷲ خان شہید نے پانچویں تک تعلیم اپنے علاقے داودخیل کے پرائمری سکول سے حاصل کی اس کے بعد اپنے تینوں بھائیوں رحمت اﷲ خان، مدد خان اور امین اﷲ خان کے ہمراہ اپنے والد ایس ایس پی کوئٹہ حاجی حلاض خان کے پاس چلے گئے اور وہیں باقی تعلیم حاصل کی۔ ثناءاﷲ خان شہید نے چھٹی سے ایف اے تک تعلیم کوئٹہ کے سکول اور کالج سے حاصل کی ۔ ثناءاﷲ خان شہید کو بچپن سے ہی فوج سے گہرا لگاو¿ تھا اور پاک فوجی کو اپنا آئیڈیل سمجھتے تھے۔ ثناءاﷲ خان شہید قدآور نوجوان اور بڑے باہمت باصلاحیت ہونے کی وجہ سے ان کے والد حاجی حلاض خان ان کو 1983ءمیں 11 بلوچ رجمنٹ میں کمیشن دلوانے میں کامیاب ہوگئے اور 11 بلوچ رجمنٹ کے اس نوجوان نے پاک آرمی میں ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے لیفٹیننٹ سے کیپٹن اور میجر کے عہدے پر ترقی حاصل کی۔ میجر کے بعد 11 بلوچ رجمنٹ کے قواعد کے مطابق فل کرنل ہو گئے اس عہدہ کے دوران انہوں نے سیالکوٹ کھاریاں، خضدار، کوئٹہ اور سٹاف کالج میں کمانڈ نگ اور دیگر اہم عہدوں پر ڈیوٹی انجام دی ۔ پاک فوج میں ثناءاﷲ خان ایک خوش اخلاق اور بہترین پیشہ وارانہ تجربہ اور مہارت رکھنے والا آفیسر کے طور پر سامنے آتے رہے۔ کرنل کے بعد ثناءاﷲ خان نے ترقی پا کر بریگیڈئر کے منصب پر فائز ہوئے اور اس عہدہ پر بھی ان کی عسکری مہارت ، تجربہ، بہادری اور دلیری کوہر مقام پر تسلیم کیا گیا اور بریگیڈئر کے بعد میجر جنرل ثناءاﷲ خان کو ابتداءہی سے مشکل سے مشکل محاذوں پر بھیجا گیا لیکن اس مرد مجاہد نے سر پر کفن باندھ کر ہر مشکل محاذ پر بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمنوں کے عزائم خاک میں ملا کر ہی دم لیا۔ سوات آپریشن پوری قوم کے سامنے ہے۔ جس خدادادصلاحیتوں ، عسکری تجربے و مہارت، جرا¿ت اور بہادری سے سوات میں عظیم دلیرانہ منصوبہ بندی سے ملک دشمن عناصر کا مقابلہ کیا اس کی تاریخ میں قریب قریب مثال نہیں ملتی۔ ملک وقوم کے غیر ملکی دشمنوں کے اشارے پر وطن عزیز کو دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے والوں کے مذموم عزائم کو خاکستر کرنے کے لئے جس عزم و ہمت سے اپر دیر کے قریب ایک بارودی سرنگ کے پھٹنے کے حادثہ میں جام شہادت نوش فرماےا یہ ان کی زندگی کی کامیاب ترین مہم تھی ۔ دشمن ےہ بھول گےا ہے کہ ایک ثناءاﷲ خان شہید کر دیا گیا تو پاکستان کو متزلزل کر دیں گے ایسا ناممکنات میں سے ہے۔ پاکستان کی افواج کا ایک سپاہی اور ایک ایک محب وطن شہری ثناءاﷲ خان  کے مشن کا امین ہے اور یہ اپنی دھرتی کی حفاظت کر جاتے ہیں
وہ سحر جس سے لزرتا ہے شبستان وجود
ہوتی ہے بندہ مومن کی اذاں سے پیدا