بلدیاتی انتخابات وقت کا تقاضا....

بلدیاتی انتخابات وقت کا تقاضا....

سلیم پروانہ مظفرآباد
آزاد کشمیر میں حالیہ بارشوں کے بعد موسم کے مزاج کی تبدیلی کے اثرات خوشگوار انداز میں انسانی مزاج پر بھی مرتب ہوئے ہیں دوسری جانب ریاست میں سیاسی‘ دینی جماعتوں‘ مہاجرین اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی سرگرمیاں بھی عروج پر ہیں‘ عوام کے بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں الزاماتی سیاست میں تیزی پیدا ہو چکی ہے۔
وزیراعظم چودھری عبدالمجید کے خلافت تحریک عدم اعتماد کا مکمل ہوم ورک پاکستان مسلم لیگ نواز آزاد کشمیر کے سربراہ میاں محمد نوازشریف کے اس موقف کے بعد کہ آزاد کشمیر انتخابی خرابی کے باوجود وہاں کی حکمران جماعت کے مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہیں عدم اعتماد کی کارروائی میں ان کی جماعت کی آزاد کشمیر شاخ حصہ نہیں بنے گی۔ موجودہ حکمران ٹیم کو سیاسی آکسیجن فراہم ہو گئی تھی۔ پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن جماعتوں کے 95 فیصد ممبران کی یہ خواہش ہے کہ وہ اقتدار کی کشتی میں ”مفاہمت“ کی پالیسی کے نام پر سوار ہو جائیں‘ مسلم لیگ نواز اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے ممبران نے اپنے اپنے قائدین کو شرکت اقتدار کا فارمولا مرتب کرنے کا مشورہ دے دیا تھا۔ رہی ایم کیو ایم انہوں نے جانے والوں کو الوداعی کر کے آنے والوں کے ساتھ اقتدار کا سفر طے کرنا ہوتا ہے۔ عوام کو خوشخبری منانے کی تاریخ دی جاتی ہے‘ عوام کے لئے دودھ کی نہر نہ کسی نے پہلے کھودی تھی اور نہ اب رہا کوئی فارمولہ عملاً زیر بحث ہے۔
پارلیمنٹ کی جماعتوں کے اندر اختلافات موجود ہیں اگر اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے تو اس مسئلہ کو حل کرنا کیا جمہوریت کا تقاضا نہیں ہے؟ وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف انہوں نے اپنا کام روکا نہیں ہے‘ قائدحزب اختلاف و سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان اور داﺅد نذیر احمد نے اخباری کانفرنس میں دعوی کیا ہے کہ 10 ارب روپے کی (مبینہ طور پر ) کرپشن کی گئی ہے۔ جس کے ثبوت وہ میاں نوازشریف کو پیش کریں گے جس کے بعد بقول ان شخصیات کے موجودہ وزیراعظم کا جانا ٹھہر گیا ہے‘ جبکہ کئی وزراءکرام نے الزامات کی تردید کی ہے۔ تاہم آزاد کشمیر میں بدعنوانی کے لئے ایک چین بنائی گئی ہے۔ جس میں خاندانوں کے افراد کے ساتھ کئی بیورو کریسی کے ارکان و متعدد افسران بھی شامل ہیں‘ قیمتی معدنیات‘ لکڑی کو سمگل کرنے کا دہندہ اپنے جوبن پر ہے‘ آزاد کشمیر میں سرے دست امید کا سچا کوئی چراغ دکھائی نہیں دیتا جس کی روشنی کے سامنے دیانتدار اور باضمیر لوگ جرائم کی داستان بیان کر سکیں۔
آزاد کشمیر کے سینئر وزیر بلدیات چودھری محمد یاسین نے مارچ‘ اپریل 2014ء میں سیاسی بنیادوں پر بلدیاتی انتخاب کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔ پرانا نظام ہی بحال کیا جائے گا۔ الیکشن کمشنر بلدیات کا تقرر کرنے کے ساتھ نئی فہرستیں مرتب کی جائیں گی‘ اگر اعلان پر عملدرآمد ہو گیا تو خطہ میں 22 سال کے بعد بلدیاتی انتخابات ہوں گے۔ حکومت پنجاب نے بلدیاتی اداروں میں مختلف مکاتب فکر کی شخصیات کے لئے بھی نشستیں مختص کی ہیں۔ اگر آزاد کشمیر میں بھی یہاں کے بلدیاتی نظام میں مناسب ترامیم کے ساتھ انہیں شامل کیا جائے تو گلدستہ کو خوبصورت بنانے میں مدد ملے گی اور سیاسی کارکنوں کی اچھی نرسری اسی وقت تیار ہوگی۔ آزاد کشمیر میں خرابیوں کو دور کر کے نہ صرف بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہونا چاہئے بلکہ ضابطہ اخلاق اور قانون سازی کے بعد طلبہ تنظیموں پر عائد پابندی بھی اٹھائی جانی چاہئے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے تجویز دی ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان کے ممبران اسمبلی کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے جس کے مہمان خصوصی وزیراعظم پاکستان ہوں گے۔ قائد حزب اختلاف راجہ فاروق حیدر خان نے آزاد کشمیر پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اور 10 ممبران کی تقرری کو اپنے موقف کے ساتھ ہائی کورٹ آزاد کشمیر میں چیلنج کیا تھا ہائی کورٹ نے تقرریوں کو کالعدم قرار دے کر اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے اور قرار دیا ہے کہ اہلیت والوں کی سفارشات وہی مرتب کر سکتے ہیں جن کی اپنی اہلیت ثابت ہو گی‘ آئینی اداروں کو غیر جانبدار ہونا چاہئے وغیرہ‘ متاثرہ چیئرمین و ارکان نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی ہے کہ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو معطل کر کے چیئرمین و ممبران پبلک سروس کمیشن کو ان کے عہدوں پر اس شرط کے ساتھ بحال رکھا ہے کہ وہ ٹیسٹ انٹرویو دینے اور سفارشات مرتب کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔ چیف جسٹس آزاد کشمیر محمد اعظم خان نے فل بنچ تشکیل دیا ہے۔ جو کہ 23 ستمبر سے اپیل کی سماعت کرے گا۔سابق وزیراعظم و صدرمسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے تجویز دی ہے کہ افواج پاکستان کے آئینی کردار کا تعین کیا جائے۔ انہوں نے نیشنل سکیورٹی کونسل کے قیام کو نوازشریف کا امن اقدام قرار دیا اور اور کہا کہ ہم نے 1995ءمیں یہی تجویز دی تھی۔ انہوں نے بے وقت کی راگنی کے مصداق تجویز دی ہے کہ سابق آرمی چیف صدر پاکستان کے عہدہ پر فئز ہونا چاہئے۔ حاضر آرمی چیف کے وزیراعظم ہاﺅس آنے سے بہتر ہے کہ سابق آرمی چیف کو ایوان صدر میں لایا جائے۔ اپر دیر میں بارودی سرنگ کے دھماکہ میں میجر جنرل ثناءالہ‘ کرنل توصیف سمیت دیگر جوانوں کی شہادت پر آزاد کشمیر میں افواج پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا‘ اور انہیں شہید کرنے والوں کو پیغام دیا گیا کہ قوم دفاع وطن کے لئے اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے مکار دشمن کچھ بھی کر لیں ہمارے حوصلوں کو متزلزل نہیں کر سکتے ہیں‘ مہاجرین‘ سیاسی جماعتوں‘ مظفرآباد عوامی اتحاد آزاد کشمیر نے دعائیہ تقریبات کا بھی انعقاد کیا اور شہداءکو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ہو سکتی ہے۔