بجلی چوروں کیخلاف گھیرا تنگ

بجلی چوروں کیخلاف گھیرا تنگ

راﺅ شمیم اصغر
سیاسی جماعتیں خاموش - این جی اوز متحرک
ضمنی انتخابات کے بعد ملتان‘ بہاولپور اور ڈیرہ غازیخان ڈویژنوں میں سیاسی محاذ پر تقریباً سناٹا ہے اور اس سناٹے کو توڑنے کیلئے نان ایشوز کو ایشوز بنانے کی کوشش کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ایک سو دنوں کی کارکردگی پر بھی تنقید کا سلسلہ ان لوگوں کی جانب سے جاری ہے جن کا یہ منصب ہی نہیں۔ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ اپوزیشن کا سارا کردار این جی اوز نے سنبھال لیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے خاموشی حیران کن ہے۔ مہنگائی کا عفریت بے قابو ہے۔ جی ایس ٹی میں ایک فیصد اضافہ کے اثرات دس فیصد اضافے جیسے ہیں لیکن مہنگائی کا باعث بننے والوں کے پاس اسکا معقول جواز ہے کہ پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے نرخوں میں اضافوں نے مہنگائی کی ہے۔ یہ درست ہے کہ لوڈشیڈنگ میں کمی ہوئی ہے جس کی ایک وجہ موسم کی بہتری ہے۔بجلی کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن اس بہتری اور لوڈشیڈنگ کی بلاشبہ وجہ بجلی کی چوری میں کمی اور لائن لاسز کا مسلسل کم ہونا ہے۔ میپکو کے وہ اہلکار جنہوں نے عوام کو بجلی چوری کے طریقے سکھائے تھے بلکہ اس کا باقاعدہ بندوبست کر کے دیا تھا اب وہی بجلی چوروں پر چھاپے ڈلوا رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ میپکو حکام کو ٹارگٹ دیا گیا ہے کہ کم از کم چار بجلی چوروں کو روزانہ پکڑا جائے۔ شروع میں خیال کیا جا رہا تھا کہ اس پکڑ دھکڑ کا سلسلہ چند روز جاری رہے گا لیکن اس سلسلے میں طوالت نے بہت سے لوگوں کو پریشان کر دیا ہے۔ بجلی چور تو پریشان ہیں ہی ان اہلکاروں کی بھی جان پر بنی ہوئی ہے جو اپنے گاہکوں کو بچانا چاہتے ہیں۔ اس میں سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بڑے چور آرام سے فرار ہو جاتے ہیں‘ چھوٹے چوروں کو پکڑ لیا جاتا ہے۔ بڑے چوروں کے خلاف مقدمات کے اندراج کیلئے طویل سوچ بچار ہوتی ہے۔ اب تک کی رپورٹس کے مطابق گیس یا بجلی کے کسی بڑے چور کو حوالات یا جیل کا چہرہ نہیں دکھایا گیا۔ لاکھوں کروڑوں کی بجلی و گیس چوری پکڑے جانے کی خبریں تو شائع ہوتی ہیں پھر کیا ہوتا ہے اس کے بارے میں مکمل خاموشی چھا جاتی ہے۔ نان ایشوز کو ایشوز بنانے والوں نے ملتان میں خواتین یونیورسٹی کے قیام کے بعد فیسوں میں اضافے کو ایشو بنا رکھا ہے۔ این جی اوز کی جانب سے دو چار مظاہرے بھی روزانہ کئے جا رہے ہیں۔ لیکن حکمرانوں کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ اس معاملے میں مداخلت کریں یا فیسوں میں اضافے کا جواز پیش کریں۔ ملتان کو خواتین یونیورسٹی کا تحفہ دیا گیا ہے تو والدین کو فیسوں کے نام پر نچوڑنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ مہنگائی نے پہلے ہی عوام کی چیخیں نکلوا رکھی ہیں۔ اگر اضافہ ہوا ہے تو فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔ اگر اضافہ نہیں ہوا تو وضاحت کر دی جانی چاہیے۔ ایک بدقسمتی کی بات یہ بھی ہے کہ حکمران صرف اپنی ناک کے نیچے دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ صوبے کے دور دراز علاقوں تک انکی نظر نہیں جاتی اور حکمران اس قسم کے ایشوز سے بے خبر رہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران دور دراز علاقوں میں جنم لینے والے مسائل سے باخبر رہنے کا کوئی نظام بنائیں۔ بصورت دیگر نئے صوبوں کا مطالبہ کرنے والوں کی تعداد بڑھتی ہی جائے گی۔ کامیاب حکمرانی اسی وقت قرار دی جا سکتی ہے کہ حکمران جس طرح دارالحکومت کے معاملات سے باخبر رہتے ہیں اسی طرح راجن پور‘ رحیم یار خان اور ملتان کے مسائل سے باخبر رہنے کے نہ صرف انتظامات کریں بلکہ ان کے حل کے لئے بھی کوئی طریقہ کار وضع کرنا ہو گا۔ ضمنی انتخابات کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ اس خطے کے عوامی نمائندوں کو کابینا¶ں میں مزید نمائندگی ملے گی اگرچہ یہ خبریں اڑتی رہتی ہیں کہ فلاں صاحب کو وزیر بنایا جا رہا ہے لیکن ابھی تک ایسی کوئی بات منظر عام پر نہیں آئی۔ کہا جا رہا ہے کہ ڈیرہ غازیخان کے لغاری خاندان کو وفاقی کابینہ میں جگہ دی جا رہی ہے اور جمال لغاری نئی فہرست میں شامل ہونگے۔ اس خطے میں مسائل زیادہ ہیں۔ کابینہ میں نمائندگی بھی ان مسائل کو مدنظر رکھ کر ہی دی جانی چاہیے۔ ضلع راجن پور کو صرف پنجاب اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر شپ ملی ہے۔ ڈیرہ غازیخان اب تک محروم چلا آ رہا ہے۔ اسی طرح رحیم یار خان کے عوام بھی توقع رکھتے ہیں کہ انہیں نمائندگی ملے گی۔ اس بارے میں معیار یہ ہونا چاہیے کہ محرومیاں رکھنے والے علاقوں کی محرومیاں ختم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں ورنہ نان ایشوز ایشوز بنتے رہیں گے اور حکمرانوں کی کچھ مقبولیت مہنگائی کے سیلاب میں بہہ چکی ہے باقی مقبولیت بھی دا¶ پر لگی ہے۔ انتظامات نہ ہوئے اور درست فیصلے نہ ہوئے تو پانچ سال گزرتے پتہ بھی نہیں چلتا۔