معیاری فلم پروڈیوس کروں گی : اداکارہ زری

معیاری فلم پروڈیوس کروں گی : اداکارہ زری

سیف اللہ سپرا
 اداکارہ زری کا شمار پاکستان فلم انڈسٹری کی چند ان اداکاراﺅں میں ہوتا ہے جنہوں نے بہت کم عرصے میں ترقی کی منازل طے کیں۔ انہوں نے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز تقریباً آٹھ سال قبل معروف فلم ڈائریکٹر ناصر ادیب کی فلم” آج کی لڑکی“ سے کیا۔ اس فلم میں زری کا کردار مرکزی نوعیت کا تھا جو زری نے بہت خوبصورتی سے نبھایا۔ اس کے بعد ہدایت کارہ سنگیتا نے انہیں اپنی فلم” بلو گھنٹہ گھریا“ میں کاسٹ کیا۔ اس فلم میں زری کی اداکاری بہت زیادہ پسند کی گئی۔اس کے بعد ہدایت کارہ سنگیتانے ہی انہیں اپنی فلموں” مصطفی خان، ڈاکو حسینہ، سوہنا یار پنجابی اور گلابو“ میں مرکزی کرداروں میں کاسٹ کیا اور لوگوں نے ان کی اداکاری کو پسند بھی کیا۔ اس کے علاوہ ہدایت کار رشید ڈوگر نے انہیں اپنی فلم ” مرڈر“ میں کاسٹ کیا۔ اس فلم میں بھی ان کی اداکاری پسند کی گئی اور اب رواں سال میں ان کی دو فلمیں نوٹینشن اورلباس ریلیز ہوئی ہیںجو لوگوں نے پسند کی ہیں۔ان کی ایک فلم نصیبو 22نومبرکوریلیزہورہی ہے زری کی متعدد فلمیں مکمل ہیں جن میں ایک فلم ہدایتکارہ سنگیتا کی ”ملتے ہیں دل یہاں“ ہے۔ اس فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی تمام شوٹنگز دوبئی کی خوبصورت لوکیشنز پر ہوئی۔ زری کی متعدد فلمیں زیر تکمیل ہیں جن میںمکھن گجر‘بلو بدمعاش‘داستان‘ اذان، منڈا شہر لاہوردا،طوفانی رات اور پیسہ پیسہ منی منی شامل ہیں۔انہیں ان کی شاندار فلمی خدمات پر حال ہی میںدوبئی میں منعقدہ تقریب میں بولان کلچرل سوسائٹی کی طرف سے بہترین اداکارہ کا ایوارڈملا ہے۔ اداکارہ زری اس وقت پاکستان کی فلم انڈسٹری کی مصروف ترین اداکارہ بن چکی ہیں ان سے گزشتہ دنوں ایک نشست ہوئی جس میں انہوں نے اپنی فنی اور نجی زندگی کے حوالے سے تفصیل کے ساتھ گفتگو کی جس کے منتخب حصے نذر قارئین ہیں:۔
٭    آپ شوبز میں کیسے آئیں؟
زری:     شوبز میں آنے کا شوق تو مجھے بچپن سے ہی تھا۔ زمانہ طالب علمی میں ہم نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی خصوصاً ڈراموں میں میری اداکاری بہت پسند کی جاتی۔تعلیم سے فارغ ہوئی تو مجھے معروف فلم ڈائریکٹر ناصر ادیب نے اپنی فلم ”آج کی لڑکی“ میں اداکاری کی پیشکش کی جو میں نے قبول کرلی۔ اس کے بعد ہدایت کارہ سنگیتا نے اپنی فلم” بلو گھنٹہ گھریا“ میں کاسٹ کیا۔اس فلم میں میری ادکاری لوگوں کو پسند آئی۔ دراصل اس فلم نے مجھے فلم انڈسٹری میں بھرپور طریقے سے متعارف کرایا۔اس کے بعد مجھے فلمیں ملنا شروع ہوگئیں میری اب تک متعدد فلمیں ریلیز ہوچکی ہیں جن میں ” آج کی لڑکی“ اور ” بلو گھنٹہ گھریا“ کے علاوہ ” مصطفی خان، ڈاکو حسینہ، سوہنا یار پنجابی، گلابو اور مرڈر‘نو ٹینشن اور لباس شامل ہیں۔ میری ایک فلم نصیبو 22نومبر کو ریلیز ہورہی ہے۔اس فلم کے ڈائریکٹر پرویزرانا ہیں۔اس فلم میںمیرا کردار مختلف نوعیت کا ہے۔امید ہے میری یہ فلم لوگوں کو پسند آئے گی۔میری متعدد فلمیں مکمل ہیں جن میں ایک فلم ہدایتکارہ سنگیتا کی ” ملتے ہیں دل یہاں“ شامل ہے۔ اس کے علاوہ میری متعدد فلمیں زیر تکمیل ہیں جن میں فلم اذان ‘مکھن گجر‘داستان اور بلو بدمعاش شامل ہیں۔ میں ایک چیز یہاں پرواضح کردیناچاہتی ہوں کہ میں کوانٹٹی کی بجائے کوالٹی پر یقین رکھتی ہوں۔ دھڑا دھڑ فلمیں سائن کرنے کے حق میں نہیں۔ ایسی فلم سائن کرتی ہوں جس کا سبجیکٹ بھی اچھا ہو اور اسمیں میرا کردار بھی اچھا ہو۔ میں نے ہدایتکارہ سنگیتا کی فلم ” ضدی بد معاش“ محض اس لئے چھوڑی کہ اس میں جوکردار مجھے آفر کیا گیا وہ بہت زیادہ” بولڈ“ تھا۔
٭    کیا آپ نے ٹی وی ڈراموں میں بھی کام کیا ہے؟
زری:     جی نہیں! ٹی وی ڈراموں میں بالکل کام نہیں کیا آفرز تو بہت ہو رہی ہیں مگر کام نہیں کیا کیونکہ میں سمجھتی ہوں کہ بڑی سکرین کا چارم زیادہ ہے۔
٭    کیا تھیٹر پر کام کیا ہے؟
زری:     تھیٹر پر بھی کام کرنیکی کی آفرز تو بہت ہو رہی ہیں مگرکیا نہیں اور نہ ہی کرنے کا ارادہ ہے۔کیونکہ آج کل پاکستان میں کمرشل تھیٹر جس معیار کا ہو رہا ہے۔ وہ آپ کے بھی علم میں ہے وہاں پر انسان کی عزت نہیں جو ڈرامہ آپ اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر نہ دیکھ سکیں۔اس میں کام کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ویسے بھی اگر لوگ فلم سٹارکوتھیٹر میں دیکھ لیں تو پھر وہ انہیں سینما میں دیکھنے نہیں جائیںگے۔
٭    کیا ماڈلنگ میں دلچسپی رکھتی ہیں؟
زری:    جی ہاں! ماڈلنگ میں بہت دلچسپی ہے۔ ماڈلنگ میں مجھے معروف فیشن فوٹو گرافر افتخار پاشا نے متعارف کرایا، میگزین کیلئے پہلا شوٹ انہوں نے ہی کیا، فیشن شوز بہت کئے ہیں، پاکستان کے علاوہ امریکہ، برطانیہ اور دوبئی میں بھی فیشن شوز کئے ہیں۔
٭    پاکستان فلم انڈسٹری کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
زری:    پاکستان کی فلم انڈسٹری اس وقت شدید بحران کا شکار ہے، عروج و زوال تو ہر کاروبار میں ہے، یہ ہی فلم انڈسٹری جو آج زوال کا شکار ہے، وہ کبھی عروج پر تھی۔ یہ بحرانی دور عارضی ہے اس دور میں بھی اگر کوئی اچھے موضوع پر فلم بنائی جائے اور اس پر محنت کی جائے تو وہ کامیاب ہو گی۔ فلم میں ہوں شاہدآفریدی اور واراسی دور میں بنیں، جو لوگوں نے پسند کیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ فلم انڈسٹری سے وابستہ ہر شخص اپنے کام سے انصاف کرے تو وہ دن دور نہیں کہ پاکستان فلم انڈسٹری ایک مرتبہ پھر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر لے گی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں زیادہ سے زیادہ اور معیاری فلمسازی ہو، میں خود اپنے ذاتی پیسوں سے بہت جلد ایک فلم پروڈیوس کروں گی جس کیلئے اچھے سبجیکٹ کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔ امید ہے کہ یہ فلم پاکستان کے فلم انڈسٹری کا بحران کم کرنے میں مدد دے گی۔
٭    کیا پاکستانی سنیما گھروں میں بھارتی فلموں کی نمائش ہونی چاہیے؟
زری:    بھات والوں کی یہ دیرینہ خواہش تھی کہ وہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے سنیما گھروں میں بھی اپنی فلموں کی نمائش کریں۔ آخر کار وہ اس کوشش میں کامیاب ہو گئے ہیں لیکن ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان کے عوام نے بھارتی فلموں کو مسترد کر دیا ہے اور بھارتی فلموں کے مقابلے میں پاکستانی فلموں کو زیادہ پسند کیا ہے، حالانکہ بھارت کی فلمیں پاکستانی فلموں کے مقابلے میں بہت زیادہ بجٹ کی ہوتی ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان میں بھارتی فلموںکی نمائش نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس کے دو نقصانات ہیں، ایک نقصان تو یہی ہے کہ وہ بڑے بجٹ کی فلم ہوتی ہے اور ہمارے ہاں کم بجٹ کی فلمیں بنتی ہیں، چنانچہ ہماری فلموں کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسرا نقصان یہ کہ ہماری نئی نسل جو انڈین ٹی وی چینلز سے پہلے ہی بہت متاثر ہے، بھارتی فلموں کی نمائش سے مزید متاثر ہو گی اور اس پر بھارتی ثقافت کے اثرات مرتب ہوں گے۔
س:آپ فرصت کے لمحات کیسے گزارتی ہیں؟
زری:آرٹسٹ کو فرصت کے لمحات ملتے ہی کب ہیں۔مجھے ڈانس کا بہت شوق ہے میں فلمی مصروفیت سے وقت نکال کرمعروف ڈانس ڈائریکٹرآغا خالد زبیری سے ڈانس سیکھ رہی ہوں۔
٭    کیا آپ گھر داری بھی جانتی ہیں؟
زری:    گھر داری میں گھر کی سجاوٹ خود کرتی ہوں، کھانا بنانا نہیں آتا، وہ سیکھ رہی ہوں۔
٭    شادی کب کرا رہی ہیں؟
زری:    شادی کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں، میری سینئر جن میں میرا، ریشم، نرما شامل ہیں، نے ابھی شادی نہیں کرائی، میں تو ان سے بہت جونیئر ہوں۔
oo