فیصل آباد میں ہائیکورٹ بنچ قائم نہ کرنے کیخلاف وکلاءکی ہڑتال‘ عدالتوں کی تالہ بندی


فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) فیصل آباد میں ہائیکورٹ بنچ قائم نہ کرنے کے خلاف وکلا کی احتجاجی تحریک زور پکڑ گئی۔ ڈویژن بھر کے سینکڑوں وکلا نے گذشتہ روز سیشن کورٹ اور ماتحت عدالتوں، سیشن کورٹ کے دونوں مین گیٹس کی تالہ بندی کر دی۔ فیصل آباد میں ہائیکورٹ بنچ قائم نہ کرنے کے خلاف ڈویژن بھر کے وکلا نے گذشتہ روز صبح سویرے عدالتوں کی تالہ بندی کر دی۔ وکلا نے احتجاجی جلوس بھی نکالا اور پنجاب حکومت اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خاں کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ وکلا نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر پنجاب حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔ وکلا نے چوک گھنٹہ گھر میں احتجاجی ریلی نکالی اور نعرے بازی کی۔ علاوہ ازیں وکلا نے سوموار سے ڈی سی او آفس کے سامنے احتجاجی کیمپ لگانے اور موٹروے بند کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ وکلا رہنما¶ں نے کہا کہ پنجاب حکومت ہائیکورٹ بنچ کے قیام کی سمری منظور کرے ورنہ فیصل آباد کے صنعت کار اور تاجر ریونیو دینا بند کر دیں گے جبکہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے ترجمان کے مطابق ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن فیصل آباد کے سینکڑوں وکلا نے ڈویژنل کنونشن بابت قیام ہائیکورٹ بنچ کے فیصلہ کے مطابق پنجاب حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے پر آج سیشن کورٹ، DCO آفس اور محکمہ ریونیوکی تمام عدالتوں کو تالے لگا دئیے۔ قبل ازیں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں سینکڑوں وکلا کا اجلاس زیر صدارت میاں جاوید اقبال ایڈووکیٹ منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری کے فرائض چودھری نوید مختار گھمن ایڈووکیٹ نے انجام دئیے۔ اجلاس کے بعد وکلا نے پنجاب حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے نکلے اور فیصل آباد کی تمام عدالتوں کو تالے لگا دئیے۔ ریلی کے بعد جنرل ہاﺅس کا اجلاس دوبارہ منعقد ہوا جس میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ مورخہ 18 فروری کو DCO آفس کے سامنے احتجاجی اجلاس کیا جائیگا اور دھرنا دیا جائیگا۔ جڑانوالہ سے نامہ نگار کے مطابق فیصل آباد کے وکلا کی حمایت میں جڑانوالہ کے وکلا نے بھی مکمل ہڑتال کی اور جوڈیشل کمپلیکس کے گیٹ پر تالہ لگا دیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رشید قمر نے کہا کہ فیصل آباد میں ہائی کورٹ بنچ کا قیام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے جبکہ بنچ صوبائی حکومت قائم کرتی ہے۔ وکلا کی جانب سے عدالتوں کو تالے لگانا فو جداری جرم ہے۔ سرگودہا سے نامہ نگار کے مطابق سرگودہا کے وکلاءنے ہائیکورٹ بینچ کے قیام کیلئے جارحانہ حکمت عملی اختیار کر لی‘ غیر معینہ مدت کیلئے عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان جو وکیل عدالت میں پیش ہوا وہ ممبرشپ کینسل کرواکر گھر جائے گا ‘ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ گذشتہ روز سرگودہا میں ریجن بھر کی بارز کی ہنگامی میٹنگ کے بعد سرگودہا میں ہائیکورٹ بینچ کے قیام تک عدالتوں کے مکمل بائیکاٹ کا فیصلہ اور جارحانہ انداز میں احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلہ میں ریلیاں‘بھوک ہڑتالی کیمپ سمیت دیگر آپشنز کو استعمال کیا جائے گا۔
فیصل آباد / وکلا