اصولی طور پر بھارت کو افضل گورو کی میت کو واپس کرنا چاہیے: سید علی گیلانی


سرینگر (این این آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سیدعلی شاہ گیلانی نے موجودہ حالات مےں افضل گروکی میت اورمحمدمقبول بٹ کے باقیات کی بھارت سے واپسی کو یک نکاتی پروگرام قراردیتے ہوئے واضح کیا آئندہ کالائحہ عمل بعدازاں مشاورت سے مرتب کیا جائیگا۔ نئی دہلی سے اپنے بےان مےںسید علی شاہ گیلانی نے کہا مرحوم افضل گورو کی میت کی واپسی اہل خانہ کا مذہبی، اخلاقی اور قانونی حق ہے اور بھارتی حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہے تھا۔ حریت (گ) چیئرمین نے کہا اگر چہ مرحوم کو عدالتی شنوائی کے دوران اپنے دفاع کا موقعہ فراہم نہیں کیا گیا تاہم تختہ دار پر چڑھانے کے بعد بھی جو سلوک انکے لواحقین کے ساتھ کیا گیا وہ نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ غیر جمہوری بھی ہے۔انہوں نے کہا اہل خانہ کو پھانسی کی بروقت اطلاع نہ دینا اور معصوم بچے اور انکی اہلیہ کو آخری ملاقات سے بھی محروم رکھنا بھارت کی جمہوریت پر ایک اور داغ ہے۔ محمد افضل گورو کے جسد خاکی اورمحمد مقبول بٹ کے باقیات کی واپسی کو یک نکاتی پروگرام قرار دیتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ اصولی طور پر بھارت کو مرحومین کی میت اور باقیات کو واپس کرنا چاہے۔بیان کے مطابق گیلانی نے مزید2دنوں تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کی طرف سے پروگرام کو سبوثار کرنے اور لیڈران و نوجوانوں کی گرفتاری کیخلاف (آج) اتوارکو بھی ہڑتال کی جائے تاہم انہوں نے کہا کہ سوموار سے کوئی بھی ہڑتال نہیں ہوگی جبکہ اس سلسلے میں مزید پروگرام بعد میں دیا جائےگا۔
علی گیلانی