کوئٹہ : وٹل پر دستی بم حملہ‘ کالج پرنسپل کی گاڑی پر فائرنگ گیس کمپنی کے کیمپ پر راکٹ فائر


کوئٹہ (بیورو رپورٹ) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہوٹل پر دستی بم کے حملے میں 4 افراد زخمی ہوگئے۔ جناح روڈ پر حملے میں 4 افراد عادل عباسی، نصیر احمد عباسی، عاشق اور محمد عارف شدید زخمی ہوگئے۔ علاوہ ازیں نامعلوم مسلح افراد نے تعمیر نوکالج کے پرنسپل پروفیسر فضل حق کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس کی زد میں آکر راہگیر عبدالنبی زخمی ہوگیا۔ حملہ مشرقی بائی پاس کے قریب ہوا۔ چاغی کے علاقے سے اینٹی نارکوٹکس فورس کے عملے نے اربوں روپے مالیت کی منشیات قبضے میں لے لی۔ بارکھان کے علاقے میں نامعلوم افراد کی جانب سے تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنی کے کیمپ پر راکٹوں سے حملہ کر دیا جو کھلے میدان میں گرکر زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔ ادھر بالاناڑی سے نامعلوم مسلح افراد نے ٹرک ڈرائیور محمد اللہ کو اغوا کر لیا۔ ادھر تربت کے علاقے سے اغوا ہونے والا شخص نواب خان بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔ علاوہ ازیں دالبندین کے علاقے سے سکیورٹی فورسز نے بھاری مقدار میں منشیات اور ایمونیشن قبضے میں لے لیا۔ گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی نے تعمیر نو پبلک کالج کے پرنسپل پروفیسر فضل الحق میر پر ہونے والے فائرنگ کے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ علم کی روشنی پھیلانے والوں پر اس طرح کے وحشیانہ حملوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ پروفیسر فضل الحق میر اس حملے میں محفوظ رہے۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے پروفیسر فضل الحق میر پر فائرنگ کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروفیسر فضل الحق میر جو صوبے میں تعلیم کی ترقی کے لئے گرانقدر خدمات انجام دے رہے ہیں پر قاتلانہ حملہ صوبے کے خلاف ایک گہری سازش اور نوجوانوں کو علم کے نور سے محروم رکھنے کی کوشش ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔