حق مانگنا توہین عدالت نہیں، 7 جنوری کو لاکھوں لوگ سپریم کورٹ جائینگے: فاروق ستار


کراچی (خبر نگار) ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر و حق پرست وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کراچی سمیت ملک بھر کے لاکھوں عوام الطاف حسین کو توہین عدالت کے نوٹس پر7 جنوری کو سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے ، الطاف حسین کو توہین عدالت کا نوٹس انصاف کا خون ہے ، ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے ، نوٹس اس جج کو ملنا چاہئے تھا جس نے لفظ ”اجارہ داری “استعمال کیا، آج ہم نے پھر انصاف مانگا ہے اور لفظ اجارہ داری پر اعتراض کیا ہے اوراس مظاہرے کے لاکھوں شرکاءپھر مطالبہ کرتے ہیں فاضل جج کے خلاف نہ صرف کارروائی کی جائے بلکہ وہ قوم سے معافی بھی مانگے، جج کے خلاف جوڈیشل کمشن میں ریفرنس دائر کریں اور الطاف حسین کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس لیا جائے۔ اس موقع پر مظاہرے کے شرکاءنے ہاتھ اٹھا کر فاروق ستار کے اس مطالبہ کی تائید کی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کلب کراچی پر الطاف حسین کو توہین عدالت کے نوٹس کے خلاف منعقدہ بڑے احتجاجی مظاہرے کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا دو روز سے لاکھوں شہری بالخصوص سندھ اور بالعموم ملک بھر میں اپنے گھروں سے باہر سڑکوں پر سراپا احتجاج ہےں اور توہین عدالت کے نوٹس پر شدید غم و غصہ کا اظہار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ الطاف حسین کا جرم اور گناہ صرف یہ ہے کہ وہ اعلیٰ عدلیہ کے منصفوں سے انصاف طلب کرنے گئے تھے، ایک جج نے اجارہ داری کا توہین آمیز لفظ استعمال کیا ، اس کی کہیں تردید نہیں آئی ،دنیا کا کونسا آئین و قانون ہے جو کسی جماعت کے مینڈیٹ کیلئے کسی ادارے کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ عوامی مینڈیٹ کو اجارہ داری سے تعبیر کرے ، یہ لفظ انصاف کی توہین ہے ، انصاف، جمہور اور عوام کی رائے کا قتل ہے۔ انہوں نے کہا فاضل جج کے متعصبانہ ریمارکس سے کروڑوں عوام کی دل آزاری اور توہین ہوئی اس کا ازالہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا آج یوم سقوط ڈھاکہ ہے ماضی کے غلط فیصلوں کے نتائج قوم بھگت چکی، کسی قوم کو دیوار سے لگانے کے نتائج 16دسمبر کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ آج ہم لاکھوں لوگوں کی جانب سے عدالت میں پٹیشن دائر کررہے ہیں ڈی لمیٹیشن پورے ملک میں کرائی جائے۔ ہر ادارے کو اپنا کام کرنا چاہئے ، ڈی لمیٹیشن ، ووٹرز تصدیق کا کام الیکشن کمشن کا ہے اور سپریم کورٹ کو یہ کام کرنے ہیں تو الیکشن کمشن کو گھر بھیج دیاجائے۔کراچی میں فوجی آپریشن کی بات کی جاتی ہے، پشاور دہشت گردی کا مسکن بنا ہوا ہے اس پر سوموٹو نوٹس لے کر چیف جسٹس پشاور میں گھر گھر تلاشی اور اسلحہ کی برآمد گی کا حکم دیں۔ اے این این کے مطابق فاروق ستار نے کہا حلقہ بندیوں سے قبل مردم شماری کرائی جائے، ایم کیو ایم تعاون کرے گی، الطاف حسین کا قصور کمزور طبقے کیلئے آواز اٹھانا ہے، ہم نماز بخشوانے گئے تھے روزے بھی گلے پڑ گئے، اپنا حق مانگنا توہین عدالت نہیں۔