جاپان : پارلیمانی انخابات‘ حکمران جماعت کو شکست‘ لبرل ڈیمو کریٹک پارٹی جیت گئی


ٹوکیو (نوائے وقت رپورٹ +بی بی سی + اے ایف پی) جاپان کے پارلیمانی انتخابات میں وزیراعظم یوشی ہیکونوڈا کی ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان ہار گئی جبکہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے اکثریت حاصل کر لی۔ ابتدائی نتائج کے مطابق ایل ڈی پی نے ایوان زیریں کی 480 میں سے 310 اور ڈی پی جے نے 77 سیٹیں جیتی ہیں۔ شنزوایبے نئے وزیراعظم بنیں گے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا میں ملک کی سکیورٹی بہتر بناﺅں اور امریکہ کیساتھ دفاعی معاہدہ کروں گا۔ عام انتخابات میں حکمران پارٹی کے بڑے بڑے برج الٹ گئے۔ ایل ڈی پی 2009ء تک مسلسل 50 سال تک جیتتی چلی آ رہی ہے اور توقع ہے کہ یہ نئے پارلیمان میں مجموعی برتری حاصل کر لے گی۔ ایبے 2006ءسے 2007ء تک جاپان کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ انہوں نے عوام کی فلاح کے لئے اخراجات بڑھائے اور چین کے ساتھ حالیہ تنازعات کے پیش نظر ایک مضبوط خارجہ پالیسی کا وعدہ کیا ہے۔ دو ہزار نو کے انتخابات میں ڈی پی جے زبردست کامیابی حاصل کرکے برسراقتدار آئی تھی اور اس نے قدامت پسند پارٹی ایل ڈی پی کے پچاس سالہ اقتدار کے تسلسل کو ختم کیا تھا۔ اس وقت جاپان کے ووٹروں کے نزدیک سیلز ٹیکس، جوہری توانائی اور چین کے ساتھ تعلقات جیسے مسئلے اہم ہیں۔ ڈی پی جے پارٹی فلاحی کاموں میں زیادہ خرچ کرنے اور سماجی تحفظ فراہم کرنے کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی لیکن عالمی معاشی بدحالی اور گیارہ مارچ دو ہزار گیارہ کے زلزلے اور سونامی کے سبب انہیں اپنا وعدہ پورا کرنے میں کافی جدوجہد کا سامنا رہا۔ واضح رہے کہ ڈی پی جے کو قیادت کا مسئلہ بھی درپیش رہا اور تین سال میں پارٹی نے تین وزیراعظم بدلے اور بالآخر یوشی ہیکو نوڈا وزیراعظم بنے۔ سیلز ٹیکس دوگنا کرنے کے ان کے فیصلے کی وجہ سے عوام میں اس پارٹی کی مقبولیت میں شدید کمی ہوئی جس کے بارے میں حکومت کا موقف ہے کہ جاپان کے زبردست قرض سے نمٹنے کے لئے یہ قدم بہت ضروری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جوہری توانائی کی بجٹ، جوہری ری ایکٹروں کو پھر سے شروع کرنے پر ان کے بدلتے موقف کی وجہ سے بھی حکومت کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی۔ جاپان کی تیسری اہم پارٹی جاپان ریسٹوریشن پارٹی ہے جسے دائیں بازو کے دو رہنماﺅں کی قیادت حاصل ہے۔ ٹومارو پارٹی کی قیادت شگھاکے گورنر کر رہے ہیں او وہ جوہری پلیٹ فارم کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ جاپان کے وزیراعظم یوشیکو نوڈانے عام انتخابات میں شکست تسلیم کر لی۔ یوشیکو کاکہنا ہے کہ عام انتخابات میں شکست پر ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ کے عہدے سے مستعفی ہو جاﺅں گا۔