بھارت، چین سے زرعی درآمدات، پاکستانی کسان بدحالی کا شکار ہونے لگا


لاہور (ندیم بسرا) وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث زراعت تباہی کی طرف بڑھنے لگی جبکہ بھارت اور چین سے زرعی مصنوعات درآمد کرنے سے پاکستانی کسان معاشی بدحالی کا شکار ہو رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ملکی ضروریات کیلئے لہسن کی کاشت جو ہزاروں ایکڑ پر کی جاتی تھی مگر اب درآمد کے باعث چند ایکڑ تک محدود ہو کر رہ گئی۔ بھارتی اور چین کا لہسن ملکی منڈیوں میں عام فروخت ہو رہا ہے۔ مارکیٹ میں اس وقت چین کا لہسن 2100 روپے من، بھارت کا 11 سو روپے من اور پاکستان کے لہسن کا ریٹ 1 ہزار روپے من ہے۔ زرعی ماہر ڈاکٹر عامر سلمان نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ پاکستان میں ایک مخصوص لابی زرعی ملک پاکستان کو تباہ کرنے کی سازشیں کر رہی ہے۔ بھارت کا دیرینہ خواب ہے کہ پاکستان کو ہر لحاظ سے تباہ کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس طرح بھارت، چین سمیت دیگر ملکوں میں کسانوں کو نہری پانی مفت ملتا ہے ڈی اے پی کی بوری کی قیمت 600 روپے ہے، بجلی مفت ہے اور دیگر زرعی مداخل میں بہت زیادہ رعایت دی جاتی ہے پاکستانی کسانوں کو بھی یہ سہولتیں دی جائیں اور وفاقی اور صوبائی حکومتیں غیر ملکی زرعی درآمدات پر فوراً پابندی لگائیں اور اس کے لئے قانون سازی کی جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب کسان فاقہ کشی میں مبتلا اور پاکستان قحط زدہ ملک ہو گا۔