اہم شخصیات کے ریلوے سیلون 3سال سے ناکارہ، مرمت کیلئے فنڈز موجود نہیں


لاہور (میاں علی افضل سے) فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی، صوبوں کے سربراہوں کے ریلوے سیلون 3سال سے ناکارہ کھڑے ہیں، ان اہم شخصیات کی جانب سے منصب پر تعیناتی سے اب تک ایک بار بھی سیلونوں پر سفر نہیں کیاگیا ان سیلونوں میں موجود ائرکنڈیشن سسٹم مکمل طور پر زنگ آلود ہو چکا ہے اور سپیئرپارٹس خراب ہو چکے ہیں، سیلونوں میں موجود فرنیچر بھی شدید خستہ حالی کا شکار ہے جبکہ واش روموں میں بھی پرانا سینٹری سامان لگا ہے، ریلوے ورکشاپ میں موجود 8سیلونوں کی مرمت بھی فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے رکی ہوئی ہے، مناسب دیکھ بھال نہ ہونے پر سیلونوں کی بیرونی حالت بھی مایوس کن ہے، سیلونوں کے بڑے حصوں پر زنگ کے بڑے دائرے بن گئے ہیں، سیلونوں کے اندر موجود کچن میں لگے کوکنگ اوون بھی بند پڑے ہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور، چیئرمین ریلوے عارف عظیم اور جی ایم ریلوے جنید قریشی، آئی جی ریلوے سید ابن حسین اور دیگر ریلوے افسران کے زیراستعمال سیلونوں کی مرمت اور تزئین و آرائش بروقت کی جاتی ہے۔ سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے زیراستعمال سیلون ان کے احکامات پر ہی ٹورزم کے استعمال کیلئے پراکس کو دیدیا گیا اور آرمی چیف کا سیلون نمبر 27ان کی جانب سے استعمال سے انکار کے بعد اب ریلوے منسٹری کو الاٹ کیا جا رہا ہے۔ ایف جے آئی آر کا سیلون نمبر 50اور بلوچستان گورنمنٹ کا سیلون نمبر 47بھی خراب پڑا ہے، سیلونوں کی حالت زار بہتر نہ ہونے پر سابق چیئرمین سینٹ میاں محمد سومرو کے بعد کسی اہم شخصیت نے سیلون میں سفر نہیں کیا اس کے ساتھ ساتھ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بھی اب ان سیلونوں میں سفر کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ ریلوے سیلونوں کے قیام کا فیصلہ 1847ءمیں ریل سسٹم کے آغاز کے ساتھ ہی شروع ہوا، انگریز حکمرانوں، انکی فیملیز اور انگریز دوست مہاراجوں کو بھرپور آرام دہ اور مکمل حفاظتی سفر کی فراہمی کے لئے ریلوے سیلون سسٹم متعارف کرایا گیا۔ کانگرس کے رہنما گاندھی، جواہر لعل نہرو اور دیگر رہنما بھی ان سیلونوں میں سفر کرتے رہے ہیں، قیام پاکستان کے وقت ریل سسٹم کے بٹوارے کے بعد 30سیلون پاکستان کے حصے میں آئے جن میں سے چند آج بھی مرمت کے بعد زیراستعمال ہیں۔