الیکشن ایک دو ماہ آگے پیچھے بھی ہو سکتے ہیں: فضل الرحمن


پشاور (آن لائن) جمعیت علماءاسلام (ف)کے قائد مولانا فضل الرحمان کہاکہ قبائل کے سیاسی مستقبل کے بارے میں فاٹا کے عوام اس وقت تک کوئی رائے نہیں دیں گے جب تک قبائل میں امن قائم کر کے قبائل کی سابقہ پوزیشن بحال نہ ہو۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں بیرونی مداخلت بند کر کے غیر ملکی افواج کا انخلا یقینی بنایا جائے جبکہ قبائل میں ڈرون حملے اور فوجی آپریشنز کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کہ پشاور میں قبائلیوں کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ جرگہ تمام سیاسی پارٹیوں کی مشاورت سے بنایا گیا ہے جس پر کسی بھی پارٹی کو کوئی تحفظات نہیں ہیں اس لئے یہ جرگہ قبائل کے سیاسی مستقبل کا فیصلے کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ جرگے نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکہ اور نیٹو افغانستان میں کسی بھی کارروائی کے لئے پاکستان کی سرزمین استعمال نہیں کر سکیں گے۔ دریں اثناءتلہ گنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جمعیت علمائے اسلام عام انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی اور بیرونی ایجنڈوں پر کام کرنے والوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ کارکن الیکشن کی تیاری کریں۔ انہوں نے کہا ہے کہ کسی بھی جماعت سے انتخابی اتحاد کا فیصلہ آنے پر کیا جائیگا، ایم ایم اے کو مکمل فعال کیا جائے گا، پاکستان کی بقا جمہوریت اور تمام اداروں کے آئینی حدود میں رہنے میں ہی ہے۔ انہوں نے الیکشن اور نگران حکومت کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے یا ایک دو ماہ آگے پیچھے بھی ہو سکتے ہیں اور نگران سیٹ اپ حکومت ختم ہونے کے بعد ہی ملے گا۔