”لیاقت علی خان مرحوم کے قتل کے تحقیقاتی کمشن میں دیئے چند گواہان کی شہادت“

”لیاقت علی خان مرحوم کے قتل کے تحقیقاتی کمشن میں دیئے چند گواہان کی شہادت“

”ہمارے سکیورٹی اداروں کی ناقص منصوبہ بندی اور کوتاہیوں کا تسلسل“
پروفیسر محمد مظہر عالم
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے سکیورٹی اداروں کی کارکردگی اور اس سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات دراصل ان کی سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کی آئینہ دار ہوتے ہیں اور ان میں جدید نوعیت کے طریقے وضع کئے جاتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں شروع ہی سے ناقص منصوبہ بندی اور ناکافی دلچسپی حالات کی سنگینی کا باعث رہی ہے۔ وطن عزیز میں جب بھی کوئی سانحہ¿ دھماکوں، خودکش حملوں کی صورت میں وقوع پذیر ہوتا ہے تو وزیر داخلہ سے لیکر ادنیٰ کارکن تک کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ”ہم نے دہشت گردوں کے داخلہ“ کی خبر اور بروقت اطلاع دے دی تھی۔ بھئی اگر اطلاع تھی تو ان کے خلاف بر وقت کارروائی کیوں نہ کی گئی۔ اس کا جواب اور ذمہ داری قبول کرنے پر کوئی تیار نہیں ہوتا۔ ہمارے ملک میں یہ طرفہ تماشہ آج نہیں بلکہ نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ سے جاری ہے۔
16اکتوبر 1951ءپاکستان کے پہلے وزیراعظم، قائداعظمؒ کے دست راست لیاقت علی خان مرحوم، لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ¿ عام میں شہید کردیئے گئے۔ ان کے قتل کی تحقیقات کرنے والے کمشن کے روبرو چند اہم گواہان کے بیان کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر عیاں ہو جاتی ہے کہ ہمارے سکیورٹی اور انتظامی ذمہ دار اداروں کی کارکردگی ایک سوالیہ نشان اس وقت بھی تھی آج بھی ہے۔ جبکہ یہ حقیقت اپنی جگہ تلخ اور افسوسناک ہے کہ اعلیٰ انتظامی افسران خود مسلح گارڈز کے ساتھ محصور و محفوظ ہوگئے اور عوام غیر محفوظ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پولیس کے انتظامات کے حوالہ سے مسٹر ہارڈی (ڈپٹی کمشنر راولپنڈی) نے کہا
”میں نے ڈی آئی جی، ایس پی سے دریافت کیا کہ کیا پولیس کے نکتہ¿ نگاہ سے انتظامات مکمل ہیں۔ ڈی آئی جی/ایس پی نے بتایا کہ انتظامات ٹھیک ہیں۔ مسلم لیگی کارکنوں نے کہا کہ یہ بری بات معلوم ہوتی ہے کہ لیگ کے صد ر کو جسے ڈائس پر نہیں بیٹھنے دیا گیا، اعلان بھی نہیں کر سکیں گے۔ مسٹر لیاقت علی خان مسلم لیگ کے نیشنل گارڈز کی طرف سے نیزوں کی بنائی ہوئی آرچ میں سے ہو کر ڈائس پر پہنچ گئے۔
تلاوت کلام پاک کے بعد شیخ صادق مسعود نے سپاسنامہ پڑھا۔
مسٹر لیاقت علی خان یہ الفاظ ہی کہے تھے ”برادران ملت! کہ یکے بعد دیگرے دو فائر ان پر کئے گئے۔ وزیراعظم ڈائس پر گر پڑے۔ میں فوراً ڈائس پر ان کے پاس گیا۔ نواب صدیق علی جو ڈائس کے پیچھے بیٹھے تھے مرحوم کے پاس پہنچے۔ مسٹر لیاقت علی خان نواب صدیق علی کے بازوﺅں میں لڑ کھڑا رہے تھے اور ان کی زبان پر کلمہ جاری تھا۔ جونہی میں ڈائس پر پہنچا ایک تیسرا فائر ہوا اور میں جھک گیا۔ مجھے معلوم نہیں کہ فائر کس طرف سے ہوا۔ میں مسٹر لیاقت علی خان پر جھکا اور ان سے دریافت کیا کہ گولی انہیں لگی۔ انہوں نے انگریزی میں جواب دیا کہ انہیں کمر میں بائیں جانب درد ہو رہاہے۔ میں نے پانی کے لئے پکارا جبکہ ایمبولینس اور ڈاکٹر کے لئے پہلے ہی پکار رہا تھا، کچھ دیر بعد گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہوگئی“۔ ایک سوال کے جواب میں مسٹر ہارڈی نے کہا ”جہاں تک مجھے معلوم ہے مسلم لیگ کے کسی ممبر نے حفاظتی انتظامات میں مداخلت نہیں کی تھی۔“
گرینڈ مسلم پاکستان ہوٹل کے منشی گل بہار شاہ نے بیان میں کہا۔
”سید اکبر ولد ببرک ساکن ایبٹ آباد اپنے آپ کو سی آئی ڈی پنشنر بتاتا تھا۔ جب اس نے ہوٹل کے رجسٹر میں اپنی تفصیلات درج کیں سولہ اکتوبر کو بارہ بجے سید اکبر میرے پاس آیا اور کمرہ کی چابی مجھے دینے کے خیال سے مجھے کہنے لگا ”میں باہر جا رہا ہوں اور شاید واپس نہ آﺅں اور اگر میں واپس نہ آیا تو آپ میرا سامان کسی اور جگہ منتقل کر دیں۔ گل بہار شاہ نے کہا کہ جب تک سید اکبر ہوٹل میں مقیم رہا، سی آئی ڈی کا ایک آدمی وہاں ہر وقت رہتا تھا۔ صرف وہ بارہ بجے رات کو جاتا تھا اور علی الصبح پانچ چھ بجے واپس آ جاتا تھا۔
راولپنڈی کے ساٹھ سالہ قصاب لال دین نے اپنے بیان میں کہا۔
(یاد رہے کہ لال دین کو قاتل پر سب سے پہلے جھپٹنے پر 500 روپے انعام میں دیئے گئے)
”میں جلسہ میں تین بجے کے قریب پہنچا، پٹھان قاتل میرے پہنچنے سے قبل وہاں موجود تھا۔ جب وزیراعظم نے ”برادران ملت! کے الفاظ کہے میں نے اپنی دائیں طرف یکے بعد دیگرے دو دھماکوں کی آواز سنی۔ بائیں طرف مڑ کر میں نے پٹھان کو گھٹنوں کے بل کھڑے دیکھا۔ وہ اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں فی الفور اس پر پل پڑا اور اسکو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس نے تیسری بار گولی چلائی۔ اس نے یہ گولی مجھے نشانہ بنانے کے لئے چلائی تھی لیکن یہ گولی دوسری طرف چلی گئی۔ جب میں اس سے لپٹا ہوا تھا کہ مولا داد (میونسپل کمشنر) اور پولیس کا ایک حوالدار بھی وہاں پہنچ گئے۔ وہ بھی اسکے پکڑنے کی کوشش میں مصروف ہوگئے۔ وہ اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا کہ ایک پولیس افسر آیا اور اسے گولی سے ہلاک کردیا۔ اس نے بتایا کہ جب قاتل کو ہلاک کر دیا گیا تو کچھ لمحوں بعد خان نجف خان کو دیکھا گیا۔
مولاداد میونسپل کمشنر نے بتایا ”میں دوسرا آدمی تھا جو لال دین کے بعد قاتل کے پاس پہنچا۔ جب قاتل کو گولی سے ہلاک کردیا گیا۔ وہ ابھی جدوجہد کر رہا تھا میں نے اس کا پستول والا ہاتھ پکڑ رکھا تھا۔“
اس واقعہ کے بعد میں نے دو تین پولیس افسر دیکھے، جن میں خان نجف خان بھی شامل تھے۔ (بحوالہ نوائے وقت 30نومبر 1951ئ)
قارئین! بدقسمتی سے آج بھی ہماری اشرافیہ، جاگیرداروں، موجودہ صنعتی سیاستدانوں کے غیر منضبط رویہ اور انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی، ہمارے ملکی وسائل کو بے دریغ خرچنے کے باوجود وطن عزیز میں سکیورٹی کے انتظامات فرسودہ اور ناقابل اعتبار ہیں اور عوام اللہ تعالیٰ کے بھروسہ پر ہر وقت دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہیں ۔ حکومتی اقدامات صرف چند عہدے داروں کی حفاظت کی خاطر محدود ہیں۔درحقیقت لیاقت علی خان کی شہادت کے پس منظر میں گواہان کے بیانات کی روشنی میں یہ واضح نظر آتا ہے کہ اس سازش میں پولیس کے چند بااختیار عہدیداران ملوث تھے جس کا اسوقت بھی دانستہ طور پر تعین نہ کیا جا سکا۔
فنش،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،