بھارت، امریکہ کا جماعة الدعوة پر مالی پابندی کا فیصلہ مداخلت ہے: مذہبی و سیاسی رہنما

لاہور (خصوصی نامہ نگار ) مذہبی و سیاسی قائدین نے امریکہ اور بھارت کی طرف سے جماعة الدعوة سمیت مختلف جماعتوں کے فنڈز بند کروانے پر اتفاق رائے کے حوالے سے شائع ہونیوالی خبروں پر ردعمل میں کہا ہے کہ جماعة الدعوة انسانیت کی خدمت کرنیوالی ایک معروف جماعت ہے، امریکہ اور بھارت کی جانب سے اس پر مالی پابندیاں لگانے کا فیصلہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔ حکومت پاکستان کو اس پر کسی صورت خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ ایسی صورتحال میں جب امریکہ، افغانستان سے بھاگ رہا ہے، پاکستان کو مزید دباﺅ میں نہیں آنا چاہئے اور بھارت، امریکہ کیساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانے کی بجائے ملکی سلامتی و خودمختاری کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دینی چاہئیں۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن، امیر جماعة الدعوة پروفیسر حافظ محمد سعید، جمعیت علمائے اسلام (س) کے امیر مولانا سمیع الحق، ممتاز عسکری ماہر جنرل (ر) حمید گل، جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، مسلم لیگ (ض) کے سربراہ اعجاز الحق اور امیر جماعت اہلحدیث حافظ عبدالغفار روپڑی نے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ منور حسن نے کہا ہے کہ جماعة الدعوة ایک رفاہی تنظیم ہے، امریکہ اور بھارت کی جانب سے جماعة الدعوة پر مالی پابندیاں لگانے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ جماعة الدعوة کے کارکنان آج بھی بلوچستان کے زلزلہ متاثرہ علاقوں میں ریلیف کے کاموں میں مصروف ہیں۔ پروفیسر حافظ سعید نے کہا ہے کہ امریکہ کی اپنی کوئی معلومات نہیں ہیں، وہ بھارتی پراپیگنڈہ سے متاثر ہو کر اس طرح کے اعلانات کرتا ہے۔ ہم پاکستان میں بھارتی و امریکی مداخلت کے خلاف ہیں اور اس سلسلہ میں عوامی سطح پر بھرپور آواز بلند کرتے ہیں اسلئے انہیں جماعة الدعوة کی ریلیف سرگرمیاں بھی برداشت نہیں ہیں۔ بھارت نے پاکستان کیخلاف مسلسل پراپیگنڈہ مہم شروع کر رکھی ہے اور امریکہ اسکے ہاتھوں استعمال ہو رہا ہے۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ امریکہ، پاکستان نہیں بلکہ بھارت کا اتحادی ہے۔ بھارت اور امریکہ کی طرف سے پاکستان کی مذہبی تنظیموں کے فنڈز بند کروانے کے فیصلوں سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے کہ یہ دونوں ملک پاکستان کیخلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ بھارت و امریکہ کا یہ اعلان پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ امریکہ اور بھارت کی طرف سے پاکستانی فلاحی جماعت جماعة الدعوة پر مالی پابندیاں لگانے کا فیصلہ بہت بڑا ظلم ہے۔ جماعة الدعوة پاکستانی جماعت ہے، اسکی مالی مدد امریکہ نہیں بلکہ پاکستانی عوام کرتے ہیں۔ جماعة الدعوة کی ملک میں بہت خدمات ہیں۔ ہمیں دباﺅ میں آنے کی بجائے مضبوط م¶قف اختیار کرنا چاہئے۔ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ امریکہ اور بھارت پرانے ساتھی اور پاکستان کے مشرکہ دشمن ہیں۔ مشکل وقت اور قدرتی آفات کے موقع پر سب سے زیادہ کام کرنے والی جماعة الدعوة پر مالی پابندیوں کے بعد حکومت کو سوچنا چاہئے کہ امریکہ، پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں اور وہ پاکستان کی فلاح نہیں چاہتا۔ اعجاز الحق اور حافظ عبدالغفار روپڑی نے کہا کہ جماعة الدعوة پاکستان میں کروڑوں روپے مالیت سے صحت و تعلیم کے منصوبہ جات جاری رکھے ہوئے ہے۔ حکومت پاکستان کو بھارت و امریکہ کے اس اعلان پر کسی صورت خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہئے۔ علاوہ ازیں منصورہ میں کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے منور حسن نے امریکہ اور بھارت کی طرف سے حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ کو فنڈز کی فراہمی رکوانے پر ایک دوسرے سے تعاون کرنے کے فیصلہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے سابق سیکریٹری خارجہ اور جنرل وی کے سنگھ کے اس اعتراف کے بعد کہ ”نہ صرف سمجھوتہ ایکسپریس، بھارتی پارلیمنٹ اور ممبئی حملے ہم نے خود کروائے بلکہ پاکستان میں تخریب کاری کیلئے انہوں نے باقاعدہ فورس بنا رکھی ہے اورکوئی پاکستانی بھارت میں ہونیوالی دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث نہیں تھا، اسکے باوجود امریکہ بھارت کی سرپرستی کر رہا ہے۔ بھارت میں درجنوں دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں جن کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں“۔ طالبان سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ اس وقت اچھا لگتا ہے جب ریاست جنگ بندی اور طاقت کا استعمال ترک کر کے بات چیت اور مذاکرات سے مسائل حل کرنے پر آمادہ نظر آئے۔ جب تک حکومت آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی پر عمل نہیں کرتی اور امریکی ڈکٹیشن پر چلتی رہے گی، ملک میں دہشت گردی بڑھتی رہے گی۔
مذہبی و سیاسی قائدین