بقر عید ، بہت سے طبقوں کےلئے حصول روزگار کا ذریعہ

بقر عید ، بہت سے طبقوں کےلئے حصول روزگار کا ذریعہ

ملتان سلیم ناز
فلائی اوور سے نیچے اترتے ہوئے بائیں جانب سوئیٹس کی دکانوں کے درمیان ایک دکان پر لوگوں کا کافی رش نظر آرہاتھا۔ عموماً سال بھر یہاں اکا دکا گاہک ہی نظر آتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی بقر عید کا چاند نظر آتا ہے۔ چھری کانٹے تیز کرانے والوں کا یہاں کافی رش نظر آتا ہے۔ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ قصائی حضرات بڑے بڑے چھرے تیز کرانے کےلئے موجود ہوتے ہیں۔ دکان میں موجود ایک شخص چھریاں وصول کر کے رسید کاٹنے میں محو ہوتا ہے تو دوسرا مشین پر لگے پتھر پر چھریوں کو تیز کرنے اور اس کی دھاربنانے میں اس قدر مصروف ہوتا ہے کہ اسے سر کھجانے کی فرصت نہیں ملتی۔
اس کے ساتھ ہی جانوروں کے بناو¿ سنگھار والی اشیاءکے اسٹال سج جاتے ہیںا ور چلتے پھرتے دکاندار بھی بناو¿ سنگھار کی ا شیاءفروخت کرتے نظر آتے ہیں۔شہر کے جن علاقوں میں اس طرح کی دکانیں موجود ہوتی ہیں وہاں اس قسم کے گاہکوں کا جم غفیرہو جاتا ہے۔ دوسری طرف قر بانی کے جانوروں کی عارضی منڈیوں میں خریدار خال خال ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک تو مہنگائی نے لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اوپر سے قربانی کے جانور بیچنے والوں کی ڈیمانڈ اور نخرے دیکھے نہیں جاتے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ بقر عید کی آمد کے ساتھ ہی مختلف طبقے خاص متحرک ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ چند روز کےلئے انہیں روزگار میسر آجاتا ہے۔ ان دنوں قصائی ”وی آئی پی “کا درجہ اختیار کر لیتے ہیں۔ گلیوں سڑکوں پر پروفیشنل قصائی کم اور ”فصلی قصائی “ زیادہ نظر آتے ہیں۔
اسی طرح گھاس اور جانوروں کے چارے کی مانگ میں اضافہ کی وجہ سے ان دوکانوں پر رونقیں بڑھ جاتی ہیں۔ چھریاں‘ کانٹے تیز اور جانوروں کے بنا¶ سنگھار کی اشیاءفروخت کرنے والوں کی بھی ان دنوں چاندی ہو جاتی ہے۔سنت ابراہیمیؑ کی ادائیگی اور مذہبی جذبہ سے سرشار لوگ قربانی کے جانوروں کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ خصوصاً ”دیسی بکرے“ تو وی آئی پی کا درجہ رکھتے ہیں۔ بنا¶ سنگھار سے ان کی خوبصورتی میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔قربانی کے بکرے ہوں یا بیل ان کے جسم پر مہندی لگائی جاتی ہے اور کمر پر عیدمبارک لکھا جاتا ہے۔قربانی کے جانوروں کو گانی‘ ماتھے کا جھومر‘ جانجھریاں‘ پونئے پہنا اور مہندی لگا کر سڑکوں اور گلیوں میں گھمایا جاتا ہے تو چھن چھن کی آواز سے تمام لوگ متوجہ ہو جاتے ہیں۔ خصوصاً اونٹوں کے گلے میں لٹکے ہوئے ٹل جب بجتے ہیں تو بچے اس کے اردگرد اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ آرائشی اشیاءفروخت کرنے والے ایک دکاندار نے بتایا عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کے بنا¶ سنگھار کے لئے خصوصی طور پر آرائشی اشیاءبنوائی جاتی ہیں۔ اس موقع پر جھانجھڑوں اور گانوں کی ڈیمانڈ زیادہ ہوتی ہے۔ بعض لوگ قربانی کے جانور کے گلے میں صرف گانا باندھنا پسند کرتے ہیں جبکہ بعض جھانجھڑوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ہر قسم کے جانورکےلئے مختلف ڈیزائنوں میں دیدہ زیب اشیاءدستیاب ہوتی ہیں۔ کچھ لوگوں نے بڑے جانوروں کے نام بھی رکھے ہوئے ہیں۔ سوھنا‘ سانول‘ جیون‘ سوھنی‘ سہاگن اور دیگر ناموں سے انہیں پکارتے ہیں جس کا مقصد جانوروں سے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ جانور فروخت کرنے والے بھی قربانی کے جانوروں کو خوب سجا کر منڈی میں لاتے ہیں تاکہ اس کی قیمت زیادہ وصول ہو سکے۔
چھری کانٹے تیز کرنے کی دکان کسی نہ کسی علاقے میں نظر آتی ہے لیکن عید کے موقع پر شہر کے وسط میں دکان پر بیٹھا اچھو خان کا سارا دن چھریاں تیز کرنے میں گزر جاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ لوگ نئی چھریاں خریدنے کی بجائے پرانی چھریاں تیز کراتے ہیں۔ اس موقع پر زیادہ تر گھریلو لوگ آتے ہیں۔ قصاب تو ہر ماہ چھریاں اور بڑے چھرے تیز کراتے رہتے ہیں۔ پتھر پر رگڑ سے چھری کی جو دھار بنتی ہے اسے استعمال کرنے والے کو دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ چھریاں تیز ہوں تو گوشت آسانی سے کٹ جاتا ہے اور قیمہ بھی آپ گھر پر بنا سکتے ہیں۔ سری پائے بھوننے والے عید کی رات ہی رہائشی علاقوں میں سڑکوں پر عارضی تندور بنا کر عید کا سارا دن دھوئیں اور آگ میں گزار دیتے ہیں۔ ایک سری اور چار پائے کی قیمت ڈیڑھ سو سے دو سو روپے تک وصول کی جاتی ہے۔ تندور پر بیٹھا ایک شخص بکنگ پر مامور ہوتا ہے اور دوسرا سری پائے پر نشان کے لئے چٹ اور نمبر لگاتا ہے جبکہ دوسرا ان کو سیخ پر چڑھا کر آگ میں ڈال دیتا ہے۔ تیسرا آدمی جلے ہوئے سری پائیوں کو دھونے میں مصروف ہوتا ہے اور چوتھا سری توڑنے اور پائے کاٹنے پر مامور ہوتا ہے۔ ایک گھنٹے کے دوران یہ سارا عمل پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے۔ سری پائے بھوننے والے جہاں جلانے کا معاوضہ وصول کرتے ہیں وہاں جانور کے دانت اور دیگر اعضاءبھی محفوظ کر لیتے ہیں۔ عید کے بعد وہ انہیں فروخت کر کے خوب کمائی کرتے ہیں۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سری پائے بھوننے والے نہ صرف آلودگی بلکہ گندگی پھیلانے کا موجب بھی بنتے ہیں جنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا نہ ہی صحت و صفائی کے محکمے اس طرف توجہ دیتے ہیں۔
عید کے موقع پر گھاس اور دانہ بیچنے والوں کی بھی چاندی ہو جاتی ہے۔ عام دنوں میں جو گھاس 20 روپے کا ملتا ہے عید کے دنوں میں پچاس روپے وصول کئے جاتے ہیں۔حتیٰ کہ برگد کے پتے تک فرخت کئے جاتے ہیں۔ دانہ‘ بھوسہ کے نرخ بھی معمول سے زائد ہوتے ہیں۔ بقر عید کے موقع پر گلی محلوں میں قیمہ نکالنے اور سری پائے بھوننے والوں کی دکانیں سج جاتی ہیں۔ ایک کلو قیمہ بنانے کے 20 روپے مزدوری وصول کی جاتی ہے لیکن گوشت صاف کر کے مشین میں ڈالنے کی طرف توجہ کم کم دی جاتی ہے۔ قیمہ بنانے والے عمر دین کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ پہلے ہم گوشت کو صاف کریں۔ قیمہ بنوانے والے گوشت خود صاف کر کے لائیں۔ بعض اوقات تو گوشت میں ہڈیاں بھی موجود ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ہماری مشینیں خراب ہو جاتی ہیں۔
عید قرباں کے موقع پر مختلف دینی مدارس‘ سماجی تنظیمیں اور معروف رفاعی ادارے جانوروں کی کھالیں جمع کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اس موقع پر دیہاڑی پر بھی کچھ لوگ کھالیں اکٹھی کرتے ہیں۔ شام کو وہ معروف اداروں اور مدارس کو جتنی کھالیں اکٹھی کر کے دیتے ہیں انہیں اس کا معاوضہ مل جاتا ہے۔ اگرچہ قربانی کی کھالوں سے غرباءکی امداد عین عبادت ہے لیکن ایدھی سنٹر‘ جماعت اسلامی‘ جماعت الدعوة‘ شوکت خانم‘ سہارا ٹرسٹ اور بہت سی فلاحی رفاعی تنظیمیں عید کے موقع پر کھالیں اکٹھی کرنے میں سرگرم ہوتی ہیں۔
 عیدالضحیٰ کے موقع پر بہت سے پیشہ ور لوگ ضابطہ اخلاق اور ضابطہ حیات سے عاری سرگرمیوں کا باعث بنتے ہیں لیکن سنت ابراہیمیؑ کی تکمیل پر ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔بقر عید کے دنوں میں کمائی کرنے والے پھر اگلے سال کے انتظار میں اپنی معمول کی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔