ملک میں قیادت کے بحران کے باعث جمہوریت کو فروغ نہیں ملا: فخر امام


لاہور (خصوصی رپورٹر) سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام نے کہا ہے کہ پاکستان میں قیادت کا بحران ہے جس کے باعث یہاں جمہوریت کے ثمرات سمیٹنے میں کامیابی نہیں ہو رہی۔ وہ گذشتہ روز لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) کے زیراہتمام ایشیا فا¶نڈیشن کے تعاون سے ”پولٹیکل پارٹیز ان پاکستان آرگنائزیشن اینڈ پاور سٹرکچر“ کے موضوع پر تیار کردہ سالانہ رپورٹ کی تقریب رونمائی سے خطاب کر رہے تھے۔ اس تقریب کی صدارت سید فخر امام نے کی جبکہ مقررین میں مسلم لیگ (ن) کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل احسن اقبال ایم این اے‘ متحدہ قومی موومنٹ کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے ممبر محمد رضا ہارون ایم پی اے سندھ‘ وائس چانسلر لمز پروفیسر ڈاکٹر عادل نجم‘ ایشیا فا¶نڈیشن کے گریتھ ایکمین‘ پروفیسر محمد وسیم‘ اینکرپرسن و صحافی نجم سیٹھی شامل تھے۔ اس موقع پر احسان وائیں‘ بیگم عابدہ حسین‘ حافظ سلمان بٹ‘ خواجہ محمود احمد‘ سمیعہ راحیل قاضی بھی موجود تھے۔ سید فخر امام نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کی بری حالت ہے۔ ملک قائم ہوئے 64 برس ہو گئے ہیں لیکن اپنے وسائل سے اب تک بجٹ خسارے پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ ملک کے تین آئین بنے جن میں سے 1956ءاور 1973ءکے متفقہ آئین ہونے کے باوجود ملک میں جمہوریت کے فروغ نہ پانے کی وجوہات میں لیڈر شپ کا نہ ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جو صورت حال ہے اس پر ملک کے باقی صوبوں میں سے کسی لیڈر کو توفیق نہیں ہوئی کہ مسئلہ بلوچستان حل کروانے کے لئے وہاں جا کر بیٹھتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں جاگیردار اور سرمایہ دار اسمبلیوں میں جاتے ہیں اور وہاں اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل و رکن قومی اسمبلی احسن اقبال نے کہا کہ اس وقت ملک کی معیشت تباہ‘ قومی ادارے پی آئی اے‘ ریلوے‘ نیشنل سٹیل مل کرپشن کے باعث تباہی کے کنارے پر ہیں۔ بلوچستان اور کراچی کے حالات ظاہر کرتے ہیں کہ وہاں صوبائی حکومتوں کی رٹ ختم ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود ہم اس لحاظ سے بہتری کی طرف گامزن ہیں کہ ملک قانون کی حکمرانی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ چند سال پہلے جس بات کا تصور نہیں تھا آج وہ ہو رہی ہے کہ عدلیہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف فیصلے دے رہی ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع جیسے معاملات پر میڈیا میں بحث ہوتی ہے۔ 1980ءاور 1990ءکی رہائی کے برعکس اب محاذ آرائی نہیں بلکہ افہام و تفہیم سے اٹھارہویں‘ انیسویں اور بیسویں آئینی ترمیم ہوتی ہے۔ 20 سال پہلے پڑھے لکھے لوگ جلسے جلوس میں نہیں جاتے تھے سیاست سے اجتناب کرتے تھے لیکن ججوں کی بحالی تحریک نے صورت حال تبدیل کر دی ہے۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے انتخابات‘ منشور کے حوالے سے تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ترکی کی طرح پاکستان میں بھی سیاسی جماعتوں کو اسمبلیوں میں حاصل کی جانے والی نشستوں کی بنیاد پر ریاست فنڈز مہیا کرے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما رضا ہارون نے کہا کہ مارشل لاءنے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے لیکن جنہیں عوام نے اختیار دیا وہ بھی سویلین مارشل لاءایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ گورنر راج لگائے گئے‘ اسمبلیاں تحلیل کی گئیں