مغرب سے سیاسی اور اقتصادی قوت مشرق کی طرف تبدیل ہو رہی ہے: مشاہد حسین


اسلام آباد (ثناءنیوز) مسلم لےگ ق کے جنرل سےکرٹری اور پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین و سینیٹر سید مشاہد حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چےن کے تعلقات آزمودہ اور پختہ ہیں اس لیے چین میں آنے والی نئی قیادت افغانستان اور خطے کی صورتحال کے پیش نظر پاکستان سے تعلقات کو مزید گہرا اور مضبوط کرے گی۔ چین 1966ءسے 1980ءتک پاکستان کو مفت اسلحہ دیتا رہا کیونکہ امریکی اسلحہ بند تھا اور پاکستان کو اس کی شدید ضرورت تھی۔ چین کے فوجی تعاون کی انوکھی بات یہ ہے کہ وہ پاکستان کو دفاعی پیداوار میں اپنے پا¶ں پر کھڑا کر رہا ہے جو مغرب سے نہیں ملتی۔ چین کی نئی سیاسی قیادت کے حوالے سے ردعمل میں مشاہد حسین نے کہا کہ چین نے پاکستان کی فضائیہ کے لیے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارے، بحریہ کے لیے سمندری جنگی جہاز اور بری فوج کے لیے الخالد جیسے ٹینک بنانے کی ٹیکنالوجی فراہم کی اور اب اس کی پاکستان میں پیداوار شروع ہے۔ سید مشاہد حسین نے مزید کہا کہ مغرب سے سیاسی اور اقتصادی قوت مشرق کی طرف تبدیل ہو رہی ہے ،چین کی نئی قیادت پاکستان سے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گی۔ پاکستان نے چین کی تشویش دور کرنے کے لیے مناسب اقدامات کئے ہیں۔ ایئر وائس مارشل (ریٹائرڈ) شہزاد چوہدری کہتے ہیں کہ چینی قیادت کی تبدیلی سے دونوں ممالک کے تعلقات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ دونوں ممالک کے تعلقات آنے والے وقتوں میں مزید گہرے اور بہتر ہوں گے۔ چین سے ملنے والا اسلحہ سستا ہوتا ہے اور اگر کوئی چیز نہیں ملتی تو وہ مشترکہ طور پر تیار کرتے ہیں۔ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کو باسٹھ سال ہو چلے ہیں لیکن دونوں ممالک میں بظاہر کوئی سرد مہری نظر نہیں آئی۔