ریڈیو …پاکستانی ثقافت کا علمبردار

اصغر ملک
ریڈیو پاکستان ہر سال مارچ کے مہینے میں جشن بہاراں منایا کرتا تھا اور اسی ماہ میں درختوں‘ پھلوں اور پھولوں کی کونپلیں پھوٹنا شروع ہو جاتی ہیں ہر شجر  بہار کی آمد کا استقبال کرتا دکھائی دے رہا ہوتا ہے ایک زمانے میں ریڈیو پاکستان بھی جشن بہاراں کے نام سے اپنے سبزہ زار میں محفل موسیقی کا اہتمام کرتا تھا۔ جس میں سارے ملک کے گائیک اور نائیک حصہ لینے آیا کرتے ایک دوسرے کے گانے کے رنگ‘ انگ اور ڈھنگ سے آشنائی حاصل کرتے اکٹھے رہتے دعوتیں ہوتیں میل میلاپ سے محبت اور خوشیاں بانٹتے‘ اپنے اپنے ہاں آنے جانے کی ایک دوسرے کو تاکیدیں کرتے اور یہ سلسلہ تین دن تک جاری رہتا اور جشن بہاراں کی تقریب میں ملک کے نامور شعر و نغمہ سے دلچسپی رکھنے والوں کو دعوت نامے ارسال کئے جاتے اور اس جشن کی دھوم سارا سال مختلف طبقہ ہائے  زندگی میں سنائی دیتی رہتی۔ ریڈیو پاکستان کا قوم میں شعور و آگاہی پیدا کرنے میں ہمیشہ مثبت کردار رہا ہے اور موجودہ حالات میں جہاں ریڈیو عوام اور حکومت کے درمیان رابطے کا بڑا موثر ذریعہ ابلاغ ہے وہاں اس کے پروگراموں میں وطن سے محبت امن و امان‘ بھائی چارے اور اس کے استحکام کی فضا کو بحال رکھنے میں بڑا اہم رول سنائی دے رہا ہے۔ پرائیویٹ ایف ایم ریڈیو سے لیکر بعض TV چینلز  روکڑے کے لالچ میں لکڑ ہضم اور پتھر ہضم کے ایسے ایسے نسخے سامنے لا رہے ہیں جن کو دیکھ اور سن کر اگر لقمان حکیم زندہ ہوتے تو ان کی تاب نہ لاتے ہوئے غائب ہو جاتے سکندر اعظم ہوتے تو ہمارے موجودہ ملکی حالات دیکھ کر قلندر ہو جاتے اور فٹ پاتھ پر بیٹھ کر طوطوں کے ذریعے قسمت کا حال زمانے کی چال اور ہیرا پھیری کے جال کے قصے سنا کر دکھی لوگوں کے دل بہلاتے اور ہیر رانجھے کی داستان سناتے یہ درست ہے کہ قوموں اور ملکوں پر عروج و زوال کی کہانیوں میں کئی قسم کے مصائب و الام آئے حکومتوں کی بہترین پالیسیوں اور دانشمندوں کی حکمت عملی سے ٹل گئے لیکن یہاں تو صرف ریڈیو پاکستان ہی ایک ایسا ادارہ ہے جس کے مقابلے میں پرائیویٹ ٹی وی اور FM ریڈیو انڈین فلمی گیتوں‘ ڈراموں اور کورس ڈانسوں میں ایسے ایسے رومانی اور شیطانی سین دیکھا رہے ہیں جن کی وجہ سے نوجوان نسل اپنے اصل سے نظریں چرا کر ہندو تہذیب کی طرف راغب دکھائی دے رہی ہے عوام نے سابقہ دور کی پالیسیوں سے تنگ آکر میاں صاحبان کے سر پر ھما بیٹھا دیا اور میرے جیسے فقیروں نے بھی دعائیں کیں لیکن شریف برادران کی حکومت کو چومکھیا مقابلے سے واسطہ پڑا ہوا ہے امید ہے جس خالق کائنات نے انہیں اقتدار کی مسند عطا کی ہے وہ ان کی مدد بھی کرے گی یہاں چند کھیل تماشے والوں کو ریڈیو پاکستان کے پروگراموں میں نہ تو انڈین فلموں کے کورس گانوں کی گونج سنائی دے رہی ہے اور نہ یہاں بھانڈوں کی لچر گفتگو ریڈیو سے نشر ہو سکتی ہے اور فحاشی کے متلاشی یہاں بازاروں سے غیر اخلاقی سی ڈی وغیرہ خرید کر پرائیویٹ نشریاتی اداروں سے کھلے عام سنا اور دیکھا رہے ہوتے ہیں یہ کہاں کا فن ہے یہ تو معاشرے میں پھنکارتا ہوا زہریلہ سپولیا ہے جس کی ہمارے ہاں کوئی گنجائش نہ ہے۔ سنا ہے کرسیڈی بابو   چند پرائیویٹ چینلز کی مٹھی گرم کرکے یہاں مادر پدر آزاد معاشرے کی راہیں ہموار کرنے کے در پے ہیں لیکن میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ جب تک علماء کرام مفتی صاحبان اور مشائخ اسلام زندہ و تابندہ ہیں اس اسلامی ریاست میں ایسا نہ ہو سکے گا ریڈیو پاکستان اپنے پروگراموں کے ذریعے مقابلہ تو کر رہا ہے لیکن کچھ سرمایہ دار پارٹیوں نے ریڈیو کے مقبول پروگرام خرید کر اپنی تجوریاں بھر لیں ہیں یہ کبھی رکشے اور سائیکلوں پر آیا کرتے تھے آج قیمتی گاڑیوں پر آتے ہیں اگر اسی طرح ہوتا رہا تو ریڈیو پاکستان کے حکام بالا اور حکومت پاکستان کو اس طرف خصوصی توجہ دینی ہو گی کیونکہ تہذیب ادب علم و آگاہی اور وطن کے گیت گانے والا دوسرا ادارہ سامنے نہیں آرہا۔