حضرت سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری کا امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری

حضرت سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری کا امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری

محمد سعیدمغل
حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ 1834 ءمیں علی پور سیداں ضلع سیالکوٹ پنجاب میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد گرامی کا نام حضرت پیر سید کریم شاہ تھا جو خود بھی عارف باللہ اور ولی کامل تھے ۔ انہوں نے اس ہونہار بیٹے کی تربیت کا خاطر خواہ بندوبست کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے سات سال کی عمر میں ہی قرآن پاک حفظ کر لیا۔ بچپن سے ہی آپ کی پیشانی پر نورِ ولایت ظاہر ہوتا تھا اور مجددانہ بزرگی کے آثار نمایاں تھے ۔ آپ نے نامور اساتذہ¿ عصر سے کتب معقول و منقول، تفسیر ، فقہ ، کلام ، میراث، منطق اور حدیث کی تعلیم حاصل کر کے سند فضیلت حاصل کی ۔ حضرت امیر ملت تمام علوم و فنون کے جامع اور تبحر علمی میں یگانہ روزگار تھے ۔ خصوصاً حفظ حدیث کا یہ عالم تھا کہ ایک بار آپ نے بطورِ تحدیثِ نعمت فرمایا کہ مجھے 10 ہزار احادیث بمع اسناد کے یاد ہیں۔ حضرت امیر ملت کو ذہن و قاد طبع سلیم اور عقل کامل فطری طور پر عطا ہوئی تھی۔ چنانچہ آپ حفظ میں امام ذہبی اور ضبط میں حافظ ابن حجر عسقلانی کے ہم پلہ تھے ۔ آپ نجیب الطرفین سید ہیں ۔ آپ کا سلسلہ نسب اڑتیس واسطوں سے حضرت علی المرتضیٰ تک پہنچتا ہے اور آپ کا شجرہ نسب ایک سو اٹھارہ واسطوں سے حضرت آدمؑ تک پہنچتا ہے۔ علوم ظاہری کے بعد آپ فیوض باطنی کی طرف متوجہ ہوئے تو امام کاملین قطب زماں بابا جی فقیر محمد چوراہی قدس سرہ العزیز کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں داخل ہو کر اسی وقت خرقہ¿ خلافت سے نوازے گئے ۔ اس پر مریدین نے اعتراض کیا تو حضرت باو ا جی نے فرمایا کہ جماعت علی تو چراغ بھی ساتھ لایا تھا، تیل بتی اور دیا سلائی بھی اس کے پاس موجود تھی، میں نے تو صرف اس کو روشن کیا ہے ۔ اس کے بعد آپ نے افغانستان سے راس کماری اور کشمیر سے مدراس اور برما سے ایران تک تبلیغ و اشاعتِ اسلام کے سلسلہ میں گرانقدر خدمات سر انجام دیں اور لاتعداد افراد کو راہِ ہدایت دکھائی اور لاکھوں غیر مسلموں کو حلقہ بگوشِ اسلام کیا۔ حضرت امیر ملت من جانب اللہ مجددِ دوراں کے مرتبے پر فائز اور تجدید و احیائے دین کے لیے مامور من اللہ تھے ۔ آپ چودہویں صدی کے مصلح اور مجدد تھے ۔ آپ نے مسلسل طول و طویل اور دور دراز مقامات پر پہنچ کر ہر قسم کے مصائب برداشت کر کے اپنی شبانہ روز محنت و ریاضت سے دین حق کی تجدید فرمائی اور ارکان و شعائر اسلام کا احیا فرمایا۔ جب بر صغیر میں مسلمانوں میں دین متین کی صحیح روح مفقود ہونے لگی تھی تو آپ نے تجدید دین اور احیائے مذہب کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں جا بجا دینی مدارس، مساجد، سرائیں ، رفاعی ادارے اور علاج معالجے کے لیے ہسپتال تعمیر کرائے۔ 1885 ءمیں لاہور میں انجمن نعمانیہ کی بنیاد رکھی اور 1901 ءمیں انجمن خدام الصوفیہ کی بنیاد رکھی ۔

امیر ملت کے ذکر خیر سے پیشتر صرف ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ حافظ پیر جماعت علی شاہؒ اور جماعت علی شاہ ثانی دو الگ الگ شخصیات ہیں ۔ دونوں نے ہم عصر ہونے کے علاوہ ایک ہی بزرگ بابا جی فقیر محمد چوراہی کے دست حق پرست پر بیعت کی۔ ”جماعت علی شاہ صاحب“ ثانی کی عرفیت سے مشہور ہوئے اور ان کا وصال 1939 ءمیں ہوا، جبکہ حافظ پیر جماعت علی شاہ صاحب کی ایک پہچان ”محدث علی پوری “ قرار پائی اورخلق خدا نے ان کو ”امیر ملت“ کا لقب دیا اور ان کا انتقال 30 اگست 1951 ءکو ہوا۔ امیر ملت اور ثانی صاحب کے مقامات کا موازنہ مقصود نہیں۔ ہم تو ان کی ”خاک پا“ کا دعویٰ بھی نہیں کر سکتے ، موازنہ تو بہت دور کی بات ہے ۔ ہم صرف ان کا تعارف پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔ ثانی صاحب میدان ”خلوت“ کے شہسوار تھے تو امیر ملت ”جلوت“ کے شہسوار ۔ گویا ثانی صاحب گوشہ نشینی کو پسند فرماتے تھے اور سیاست کے لئے تو روزِ روشن میں خلق خدا سے پالا پڑتا ہے ۔ امیر ملت حسنی سید تھے ۔
مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کا عہد حکومت تھا۔ شیراز کے ایک بزرگ سید محمد حنیف ہندوستان تشریف لا کر علی پور سیداں میں رہائش پذیر ہوئے ۔ موصوف کے زہد و تقوے کے پیش نظر بادشاہ نے ان کو ایک جاگیر کا مالک و مختار بنا دیا۔ ہر طاقتور حکمران اندر سے کمزور ہوا کرتا تھا (اور ایسا تا حیات ہوتا رہے گا) اسی کمزوری کی پردہ پوشی کیلئے اللہ والوں سے عقیدت کا اظہار بھی کوئی نئی چیز نہیں ۔ بہرحال اس سید خاندان کی چوتھی پشت میں خاندان کے سربراہ سید کریم شاہ تھے جن کے ہاں 1834 کے قریب اس بچے نے جنم لیا جسے برصغیر پاک و ہند میں ”امیر ملت“ کے لقب سے مشہور ہونا تھا۔ یہ بچہ اللہ والوں کے دستور حیات کے عین مطابق دیگر بچوں سے یکسر مختلف و منفرد تھا۔ یہ زمانہ ہندی مسلمانوں کیلئے کڑی آزمائش سے کم نہیں تھا۔ سلطنت مغلیہ کے چراغ کی لو مدہم پڑ چکی تھی۔ اورنگزیب کو سفر آخرت اختیار کئے ایک سو اڑتیس برس گزر چکے تھے ۔ مذکورہ چراغ نے 12 برس بعد سنبھالا لینا تھا۔ جب امیر ملت نے اس کون و فساد میں آنکھ کھولی ۔ اس دور میں عربی فارسی کو وہی مقام حاصل تھا جو بعد میں دوسری زبان کو حاصل ہوا۔
 حکیم الامت علامہ اقبالؒ کو امیر ملت سے گہری عقیدت تھی ۔ ایک بار امیر ملت کی صدارت میں انجمن حمایت اسلام کا جلسہ ہو رہا تھا۔ جلسہ گاہ میں بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی۔ علامہ اقبال ؒ ذرا دیر میں آئے اور امیر ملت کے قدموں میں بیٹھ کر کہا: ”اولیا ءاللہ کے قدموں میں جگہ پانا بڑے فخر کی بات ہے۔“ یہ سن کر امیر ملت نے فرمایا: ”جس کے قدموں میں ”اقبال“ آ جائے اس کے فخر کا کیا کہنا۔“
علامہ اقبال ؒ کے آخری ایام کا ذکر ہے ۔ ایک محفل میں امیر ملت نے کہا: ”اقبال! آپ کا ایک شعر ہمیں بے حد پسند ہے۔“ پھر یہ شعر پڑھا:
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
علامہ اقبال کی خوشی دیدنی تھی چنانچہ آپ نے کہا: ”ولی اللہ کی زبان سے ادا ہونے والا میرا یہ شعر میری نجات کیلئے کافی ہے۔“
سیکرٹری تحریک خلافت مولانا شوکت علی نے چندے کی اپیل کی تو امیر ملت نے اپنے مریدوں کو حکم دیا کہ ہر فرد ایک ایک روپیہ اس فنڈ میں جمع کرائے ۔
بڑے بڑے دولت مند بھی آپ کے مریدوں میں شامل تھے مثلاً بمبئی کا سیٹھ نورانی وغیرہ اور اہم بات یہ کہ مریدوں سے پہلے پیر صاحب نے خود اس فنڈ میں دل کھول کر چندہ دیا۔ تحریک پاکستان کیلئے امیر ملت کے خلوص کو دیکھتے ہوئے مولانا ظفر علی خان جیسے سیاسی مخالف نے بھی اپنے اخبار زمیندار میں آپ کو خراج تحسین پیش کیا۔
1935 ءمیں مسجد شہید گنج کے سلسلے میں راولپنڈی شہر میں عظیم الشان جلسے کا انعقاد ہوا، جس میں پیر صاحب کو امیر ملت کا لقب دیا گیا۔
 اس کے بعد امیر ملت نے تحریک پاکستان کی کامیابی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا اور احرار کے گڑھ کو ہاٹ میں جا پہنچے۔ یہاں آپ نے اپنے متوسلین کو حکم دیا کہ سب مسلم لیگ کو کامیاب بنائیں ۔ کوہاٹی مریدوں کی اکثریت احراری اور خاکساری تھی مگر دیکھتے ہی دیکھتے ہوا کا رخ بدل گیا اور مسلم لیگ کے آگے سب کے چراغ بجھ گئے ۔ 1946 ءمیں امیر ملت کے صاحبزادے سید محمد حسین نے بھی مسلم لیگ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
1946 ءمیں آل انڈیا سنی کانفرنس کا انعقاد بنارس میں ہوا، جس کی صدارت امیر ملت نے فرمائی ۔ یہی وہ مثالی کانفرس تھی جس میں 5 ہزار سے زائد مشائخ نے شرکت فرمائی اور اس کانفرنس کے خطبہ، صدارت میں جب امیر ملت نے تحریک پاکستان کی حمایت کا دو ٹوک اعلان کیا تو ساری کسر پوری ہو گئی ۔
 25 مئی بروز سوموار 1908 کو اسلامیہ کالج گراو¿نڈ میں ایک بہت بڑے جلسہ¿ عام میں پھر اعلان کیا کہ مسلمانوں میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ مرزا کا خدائی فیصلہ ہو چکا ہے اور وہ اگلے 24 گھنٹوں میں ذلت و رسوائی کی موت مرے گا اور میری اس پیش گوئی کو مرزا کی پیش نہ سمجھنا۔ چنانچہ 26 مئی صبح دس بج کر دس منٹ پر مرزا صاحب اس دنیا سے کوچ کر گئے ۔ ان کی موت پر تبصرہ کرنا، زیر نظر تحریر سے نا انصافی والی بات ہو گی ۔ اگر کسی نے تفصیل میں جانا ہے تو از راہِ کرم مولانا محمد عالم آسی امرتسری کی معروف کتاب الکاویہ علی الغادیہ جلد دوم ملاحظہ فرمائے ۔
 قیام پاکستان کے بعد امیر ملت صرف ایک دکھ اپنے ساتھ لے کر دنیا سے رخصت ہوئے کہ حکمرانوں نے اسلام نافذ کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ 26 ذیقد 1370 ھ بمطابق 30 اگست 1951 ءامیر ملت اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ (اناللہ و انا الیہ راجعون) پیر غلام دستگیر مرحوم و مغفور نے تاریخ وصال کہی۔