ہزاروں قاتل پھر کسی مظفر نگر کی تلاش میں سرگرم‘ بھارت میں مذہبی فسادات رنگ برنگی جمہوریت کا بدترین کلنک ہیں : برطانوی میڈیا

لندن (اے پی اے) بھارت کے مذہبی فسادات رنگ برنگی جمہوریت کا بدترین کلنک ہیں، بھارت میں فسادات کے ہزاروں قاتل بے خطر گھوم رہے ہیں۔ 1947ئکی تقسیم کے بعد ہزاروں فسادات میں لاکھوں افراد مارے گئے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق بھارت میں کچھ دنوں سے یہ بحث چل رہی ہے کہ1984ء میں دو دن کے اندر تقریباً چار ہزار سکھوں کے قتلِ عام کے لئے راہول گاندھی کو معافی مانگنی چاہئے یا نہیں۔ یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران راہول گاندھی سے دہلی کے قتلِ عام کے بارے میں اس وقت کی کانگریس حکومت کی ذمے داروں کے بارے میں پو چھا گیا۔ راہول گاندھی نے جواب دیا کہ وہ اس وقت بہت چھوٹے تھے۔اس سے پہلے گجرات کے وزیرِاعلیٰ نریندرمودی سے ان کے مخالفین یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ گجرات کے 2002ء کے فسادات میں ایک ہزار سے زائد مسلمانوں کی شہادت کے لئے مسلمانوں سے معافی مانگیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گجرات کے فسادات بھارت کی تاریخ میں پہلے ایسے فسادات تھے جن کی جیتی جاگتی خوفناک تصاویر لوگوں نے ٹیلی ویژن کے توسط سے پہلی بار براہِ راست دیکھیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق بھارت میں آزادی کے بعد ہزاروں فسادات ہوئے جن میں لاکھوں افراد مارے گئے۔ چونکہ یہ فسادات یا تو انتظامی نااہلی کے سبب ہوتے ہیں یا پھر حکومت کی پشت پناہی سے اس لیے فسادیوں کے خلاف عموماً کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔  1984ء کے سکھ مخالف فسادات میں انسانیت کے خلاف جرائم کی نئی تاریخ لکھی گئی لیکن چار ہزار انسانوں کے قتل اور دس ہزار سے زیادہ انسانوں کو مجروح کرنے کے جرم کی پاداش میں شاید دس افراد کو بھی سزا نہیں ہوئی۔ گجرات میں بھی یہی صورت حال تھی۔ ملزمان میں مودی کی ایک خاتون وزیر بھی شامل ہیں۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد 1992 -93 میں ملک کے کئی شہروں میں فسادات ہوئے تھے۔ سب سے بڑا فساد ممبئی میں ہوا جس میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمان مارے گئے۔ سری کرشنا کمشن نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں اہم قصورواروں کی شناخت کی تھی لیکن ایک ہزار سے زیادہ انسانوں کے قتل کے لئے ایک بھی شخص کو سزا نہ دی جا سکی گئی۔ دوسری طرف ملائم سنگھ یادو نے میرٹھ کے مالیانہ اور ہاشم پورہ محلے کے تقرییاً 50 مسلمانوں کا قتل کرنے والے نیم فوجی فورس پی اے سی کے اہلکاروں کو نہ صرف بحال کیا بلکہ ان میں سے کئی کو ترقی بھی دی۔ یہ مقدمہ کئی دہائی سے سماعت کے بغیر پڑا ہوا ہے۔ سیاسی جماعتیں عوامی تقریبات میں اپنے ان رہنماؤں کی عزت افزائی کر رہی ہیں جن پر فسادات برپا کرنے کا الزام ہے۔ دو چار دن کی حراست کے بعد سبھی آزاد ہیں۔مذہبی فسادات بھارت کی رنگ برنگی جمہوریت کا بد ترین کلنک ہیں۔ پچھلے 30 برس سے ہزاروں قاتل سیاسی پشت پناہی، تحفظ اور قانون سے ماورا ملک کے مختلف علاقوں میں بے خوف خطر سرگرم ہیں اور انھیں پھر کسی مظفرنگر کی تلاش ہے۔