کمیٹی میں جمہوریت دشمن شامل ہیں، مذاکراتی عمل شروع میں ہی ناکام ہوگیا: قمر زمان

حافظ آباد (نمائندہ نوا ئے وقت+ نیوز ایجنسیاں) پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت سابق وفاقی وزیر قمرالزمان کائرہ نے کہا ہے کہ ملک سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمہ کیلئے طالبان سے مذاکرات کیلئے بنائے جانیوالی کمیٹی میں شامل بعض افراد محب وطن نہیں اور ان کمیٹیوں میں میجر عامر جیسے افراد شامل ہیں جن کا ماضی داغدار ہے، وہ جمہوریت دشمن ہیں۔ سانحہ لال مسجد کے ذمہ دار مولانا عبدالعزیز اور دیگر طالبان ملک میں طاقت کے زور پر شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ طالبان کی شریعت دراصل ملا عمر کی شریعت ہے۔ مذاکرات کا عمل چلنے سے پہلے ہی ناکام ہوگیا ہے اور اس مذاکراتی عمل کا مستقبل بھی اچھا دکھائی نہیں دیتا۔ عمران خان، فضل الرحمن اور مولانا عبدالعزیز تو پہلے ہی کردار ادا کرنے سے معذرت کر چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سٹی صدر اختر حسین بٹ کی والدہ کی وفات کے موقع پر تعزیت کے بعد بات چیت کرتے ہوئے قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کے لئے بنائے جانے والی کمیٹیوں پر ہمیں تحفظات ہیں لیکن ہم پھر بھی ملک سے دہشت گردی کے خاتمے اور قیام امن کیلئے حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں تا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی سے جان چھوٹ جائے۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پرویز مشرف کو آج تک ہتھکڑی لگائی گئی ہے اور نہ ہی ان کیخلاف کوئی کاروائی کی گئی ہے۔ مشرف کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے اور انہیں علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ کمانڈو اب حقیقی کمانڈو بن کر دکھائے اور عدالتوں کا سامنا کرے۔ انہوںنے کہا کہ اگر عدالت نے پرویز مشرف کیلئے کوئی اور اور عام آدمی کے لئے کوئی اور قانون بنایا تو میں ایسے کسی قانون کو نہیں مانوں گا۔ عدالت نے اگر پرویز مشرف کا ٹرائل میرٹ پر نہ کیا تو ہم عدالتوں کے باہر احتجاج کریں گے۔