کراچی اٹوٹ انگ ہے، سندھ کی تقسیم کا کوئی فارمولا قبول نہیں: قادر مگسی

کراچی (سٹاف رپورٹر) سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا ہے کہ کراچی ہمارا اٹوٹ انگ ہے اس کی سودے بازی نہیں ہونے دیں گے۔ جو لوگ 40 فیصد یا آدھے سندھ کا فارمولہ دے رہے ہیں ہمیں اپنی ماں کی تقسیم کا کوئی فارمولہ قبول نہیں۔ سندھ میں تمام زبانیں بولنے والے سندھی ہیں اور انہیں سندھی سیکھنا لازمی ہے۔ آج مزار قائداعظم ؒ کے پہلو میں یہ عہد کرتے ہیں کہ اپنی دھرتی ماں کی حفاظت کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گلشن حدید سے مزار قائد تک سندھ دھرتی سے اظہار یکجہتی کے لئے نکالی جانے  والی ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ڈاکٹر قادر مگسی کاکہنا تھا لسانی دہشت گردی، نسل پرستی کے آگے سر جھکانا ہمارے لئے ممکن نہیں، ہم پاکستان کو مذہبی نہیں جمہوری ریاست دیکھنا چاہتے ہیں۔ جہاں تمام انسانوں کو اپنی مذہبی آزادی حاصل ہو۔ اگر کوئی مولوی بندوق کے زور پر اپنا  نظریہ مسلط کرے گا وہ ہمیں قبول نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہر آدمی کی اپنی مادر ی زبان ہے اس کے بولنے سے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہم سب کا احترام کرتے ہیں اگر 65  برس میں سندھی زبان نہیں آئی تو آئیں ہم سکھاتے ہیں اس سے نفرتیں ختم ہو جائیں گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں پانچ زبانوں سندھی، بلوچی، پنجابی، سرائیکی اور پشتو کو قومی زبانوں کا درجہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایم کیو ایم کو پیغام دیتے ہیں ہم کو کوئی اعتراض نہیں کہ آپ کے پاس کتنی دولت ہے یا آپ کے پاس کیا ہے لیکن سندھ کی تقسیم کبھی بھی برداشت نہیں کریں گے۔ ایم کیو ایم اگر نسل پرستی سے باہر آجائے تو ہم اس کے ساتھ بات کرنے کو بھی تیار ہیں۔ جب تک ایم کیو ایم بے گناہوں کا خون کرنا بند نہیں کرے گی ہم اس کے ساتھ بات نہیں کریں گے۔ لسانیت پسند گورنر کو قبول نہیں کرتے۔ ڈاکٹر قادر مگسی کا کہنا تھا کہ میرے پاس نیٹو کے لوٹے ہوئے کنٹینر نہیںاور نہ ہی میرے پاس کسی عالمی مافیا کا سرمایہ ہے میرے پاس اس دھرتی کی حفاظت کے لئے قانونی حق ہے۔