کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز…مختلف شعبوں میں فیلو شپ کے امتحانات کروا رہا ہے

 وقاراحمد قریشی
ملک میںاعلی تعلیم کا سب سے بڑا ادارہ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان 1962میں آڑڈیننس نمبرxxکے تحت لیفٹیننٹ جنرل ڈبلیو اے  برکی کی قیادت میں قائم ہوا۔ا س وقت کالج کے انیس ہزار سے زائدماہرین ،ملک بھر کے سول اور آرمی کے طبی اداروں میںپچاسی فیصد سے زائد سپیشلسٹ ڈاکٹر ز خدمات سر انجام دے رے ہیں۔یہ ملک کا واحد ادارہ ہے جو 69مختلف شعبوں میں فیلو شپ کے امتحانات کروا رہا ہے۔اس کاہیڈ کوارٹر کراچی میں ہے ۔ اندرون ممالک 14جبکہ بیرون ممالک میں اس کے تین سنٹرز ہیں۔ اس وقت 17000سے زائد ڈاکٹر زاندرون ملک  159، بیرون ممالک  اور 96تسلیم شدہ اداروں میں 2500سپروائزرز کی زیر نگرانی تربیت کے مختلف مراحل میں ہیں۔کالج کی بنیاد برطانیہ کے رائل کالجزکی طرز پر رکھی گئی۔امتحانات ، پیشہ ورانہ تربیت اور قابلیت کے تمام اصول اورقواعد و ضوابط برطانیہ، آئرلینڈ ، کینیڈا ،اور آسٹریلیا کے رائل کالجز سے مطابقت رکھتے ہوئے ترتیب دیئے گئے۔تاہم امتحانی نصاب اور تربیتی کورس کو ترتیب دیتے ہوئے قومی اور علاقائی ضروریات کو مّدِنظر رکھا گیا اور کالج کو ایک خود مختار ادارے کے طور پر منظم کیا گیا۔ کالج کے تمام معاملات اور انتظامی امور کی ذمہ داری کالج کے تمام فیلوز کی منتخب کردہ کونسل پر ہے جس کا انتخاب چار سال کیلئے ہوتا ہے اور کونسل عہدیداران کا انتخاب ہر سال کرتی ہے۔ برطانیہ، آئرلینڈ کے رائل کالجز بھی پچھلی پانچ صدیوں سے اسی اصول پر کار بندہیں۔فروری 2007میں ملک بھر کے فیلوز نے بیس رکنی کونسل کاانتخاب کیا جسمیں گیارہ اراکین کا تعلق پنجاب ، چھ کا سندھ ،دو کا سرحد اور ایک کا بلوچستان سے ہے۔ 2011کے الیکشن میں فیلوز نے کونسل کی اعلی کارکردگی کے اعتراف کے طور پر ان کو چار سالوں کے لیے دوبارہ منتخب کر لیا ہے۔ گزشتہ ہفتہ 2014 کے الیکشن میں کونسل نے متفقہ طور پر پروفیسر ظفر اللہ چوہدری کوصدر ، پروفیسر رضوان عازمی اور پروفیسر محمد اصغر بٹ کونائب صدر منتخب کیا۔ جبکہ خزانچی کے فرائض پروفیسر عبدالستار میمن اور انٹرنیشنل افئیرز کی نگرانی پروفیسر خالد مسعو دگوندل کررہے ہیں۔
کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنزپاکستان نے بین الاقوامی ACLS,ATLS کورسزکی کامیاب تکمیل کے 5 سال مکمل کر لئے ہیں۔ سی پی ایس پی سائوتھ ایشیاء کا واحد ادارہ ہے جو پانچ سال سے تسلسل کے ساتھ اس معیاری کورس کے انعقاد کو ملک بھر کے سول ، پرائیوئٹ اور آرمی کے ماہرین ڈاکٹرز کے لئے منعقد کر رہا ہے۔بین الاقوامی کورس کی پانچ سالہ تکمیل پر امریکہ کے شہر واشنگٹن میں سی پی ایس پی ATLS ٹیم کو مدعو کیا گیا اور ایک پروقار تقریب میں چیئرمین بین الاقوامی  ATLS کورس پروفیسر جان کاٹ بی نے پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر کورس پروفیسر محمود ایازاور انکی ٹیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے اعزازی شیلڈ دی گئی۔ 2007ء میںپاکستان اس کورس کاآغاز کرنے والا پہلا ملک تھا بعد ازاں سارک ریجن کے دیگر ممالک میں اس کورس کا آغاز ہوا۔  پروفیسر خالد مسعودگوندل کا کہنا  ہے کہ ان کورسز کی مدد سے حادثاتی مریضوں کو کم وقت میں طبی امداد دینے اور مرض کا تدارک کرنے میں خاطر خواہ مدد ملتی ہے جس کے نتیجہ میں قیمتی جانوں کے ضائع ہونے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
 کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان نے ملکی سطح پر ترقی کے مراحل طے کرنے کے ساتھ بیرون ملک سنٹر پر امتحانات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔سعودی عرب اور نیپال سے تھیوری امتحان کا سلسلہ گزشتہ دو دھائیوں سے جاری ہے۔سعودی عرب کے درالحکومت ریاض میں پہلی مرتبہ عملی امتحان کا آغاز کروایا گیا  برطانیہ کے بعد پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پاکستانی سینئر پروفیسرز نے سعودی پروفیسرز کے ہمراہ زیر ِ تربیت ڈاکٹرز کا عملی امتحان لیا۔ابتداء میں سرجری ،میڈیسن اور گائنی سے شروع ہونے والا سلسلہ میں تمام شعبے بتدریج شامل ہوں گے۔
 سی پی ایس پی کے کونسلر ، ریجنل ڈائریکٹر ،ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل ریلیشنز اور سوسائٹی آف سرجنز پاکستان کے مرکزی صدرپروفیسر خالد مسعود گوندل کو صدر پاکستان کی طرف سے سول ایوارڈ تقریب میں گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود نے تمغئہ امتیاز عطاء کیا۔ آپ نے 60 تحقیقی مقالات تحریر کیے جو قومی اور بین الاقوامی سطح کے جرائد شائع ہو چکے ہیں ۔آپ 30 سے زائد پریزنٹیشن بھی دے چکے ہیں ۔میڈیکل تعلیم کے شعبے میںآپ کی شاندارخدمات کے اعتراف میں صدراسلامی جمہوریہ پاکستان نے پروفیسر خالد مسعود گوندل کو شعبہ میڈیکل ایجوکیشن میں 14 اگست 2012 '' تمغئہ امتیاز '' کا اعزاز عطا کیاہے۔ بین الاقوامی سطح پر سی پی ایس پی کی طبی و تحقیقی خدمات کے اعتراف میں برطانیہ کی جانب سے یورپ کے سب سے بڑے سقراط ایوارڈ کے لئے کالج کا نام منتخب کیا ہے جو ملک و قوم لے لئے باعث فخر ہے
 صدر سی پی ایس پی پروفیسرظفر اللہ چوہدری نے کہا کہ کوئٹہ ،حید ر آباد اور ایبٹ آباد میں نئے سنٹر کے ساتھ کراچی ہیڈکواٹر ، اسلام آباد ، پشاور ، فیصل آباد، ملتان سنٹر پر توسیعی منصوبے رواں سال مکمل کئے جائیں گے اور ڈاکٹرز کو تربیت اور مانیٹرنگ کی بہترین سہولیات ان سنٹر پر فراہم کی جائیں گی۔  ڈی جی آئی آر پروفیسر خالد مسعود گوندل نے سی پی ایس پی کی سال 2007 تا 2013 سال تک کے ترقیاتی کاموں پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سی پی ایس پی کی موجودہ کونسل زیر تربیت ڈاکٹرز کے لئے جدید مشینوں کی مدد سے ورکشاپس کا انعقاد کرتی ہے جس سے تدریس کے عمل میں خاطر خواہ مدد ملتی ہے۔ صدر سی پی ایس پی پروفیسر ظفر اللہ چوہدری کی خصوصی ہدایت پر ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ مفاہمتی یاداشت پر دستخط کے بعد فیلوز کی مانگ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔  کالج جدید ویڈیو لنک کے ذریعے ایک سنٹرز تک لیکچر کے عمل کو یقینی بناتا ہے جسکی مدد سے کم وقت میں نصاب کے عمل کو طلباء تک منتقل کیا جا رہا ہے۔ سی پی ایس پی میڈیسن کے شعبہ میں 6 نئی فیلو شپ کا آغاز کر رہا ہے جس کے نتیجہ میں مختلف شعبوں میں ماہرین ڈاکٹرز میسر ہوں گے۔
سی پی ایس پی کے زیر تربیت ڈاکٹرز بیرون ممالک اعلیٰ طبی خدمات سرانجام دے رہے ہیں  تاکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام مزید مستحکم ہو ۔ یہاںیہ بات قابل فخر ہے کہ بہترین ایوارڈکے حصول کے بعد آئرلینڈ کے وزیر صحت مسٹر وائٹ اور ایلس میگورن نے صدر سی پی ایس پی پروفیسر ظفر اللہ چوہدری اور ڈی جی آئی آر پروفیسر خالد مسعود گوندل کو آئر لینڈ مدعو کیا اور پاکستانی وفد کے اعزاز میں عشائیہ کااہتمام کیا جس میں رائل کالجز کے صدور سمیت پاکستانی ڈاکٹرز نے شرکت کی۔آئرلینڈ میں تعینات پاکستان کے سفیر مسٹر جی آر ملک نے ملاقات کے دوران سی پی ایس پی کی خدمات کو سراہا۔بعد ازاں آئرلینڈ میں مقیم پاکستانی سفیر نے حکومت پاکستان کو خط لکھ کر سی پی ایس پی اور آئرلینڈ کے درمیان مفاہمتی یاداشت کے بارے میں آگاہی فراہم کی اور اس معاہدہ کو خوش آئند قرار دیا۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ سی پی ایس پی ملک و قوم کے روشن نام کا باعث ہے اور کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی مرکزی و صوبائی سطح پر سرپرستی سے اعلیٰ طبی تعلیم کو فروغ ملنے کیساتھ ساتھ طبی تعلیم کا معیار بلند ہو گا۔
٭…٭…٭…٭…٭