پاکستان ناقابل تسخیر‘ دشمن میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا: ڈاکٹر قدیر خان

لاہور (کلچرل رپورٹر) یہ دنیا مکافات عمل ہے جس پرویز مشرف نے مجھے اور جنرل (ر) ضیاء الدین کو قید کیا وہ خود آج قید ہے۔ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہو چکا ہے کوئی بھی دشمن اب پاکستان کی طرف میلی آنکھ دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ شریعت جبر سے زبردستی نہیں بلکہ دلوں کو جیت کر ہی نافذ کی جا سکتی ہے۔  پاکستان کے آئین کی بنیاد قرآن و سنت ہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے قیوم نظامی کتاب ’’معاملات رسولؐ‘‘ کی ٹیک سوسائٹی کلب میں تقریب رونمائی کے دوران کیا۔ جرمن نیوز کمپنی کی اردو سروس سے منسلک صحافی تنویر شہزاد نے کہا کہ ’’معاملات رسولؐ‘‘ کتاب میں قیوم نظامی کی تحریریں دلوں کو بدلنے والی ہیں اور یہ اپنی نوعیت کی پہلی عام فہم کتاب ہے۔ سیاست کو ہمیشہ عبادت سمجھا اور معاملات کو سیدھا رکھا شاید اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں سیرت نبوی جیسی کتاب یکجا کرنے کی سعادت بخشی۔ جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ ہم شریعت جبر، ظلم، بربریت، خوف، دہشت، بم دھماکوں سے زبردستی نہیں بلکہ دلوں پر انفرادی طور پر بااخلاق طریقے سے ہی نافذ کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ ہمارے نبیؐ تو اپنے دشمنوں کو جنہوں نے ان کے پیاروں کو قتل کیا ان پر ظلم و ستم ڈھائے ان کو بھی معاف کر دیتے تھے۔ زبیر شیخ نے کہا کہ ہم دوسروں کو تو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کا کہتے ہیں لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتے۔ مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ کسی نے جب رسول پاک کی شخصیت کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ حضور پاک ایک چلتا پھرتا قرآن ہیں۔ لیاقت بلوچ نے کہا پاکستان کے آئین کی بنیاد قرآن و سنت ہی ہے جس میں صاف لکھا ہوا ہے کہ ایسے تمام قوانین جو اسلام کی تعلیمات سے متصادم ہونگے وہ کالعدم ہونگے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ میری داڑھی میرے دل میں چھپی ہوئی ہے ہم اس رسول کے پیروکار ہیں جو اخلاقیات کے اعلیٰ درجے پر فائز تھے۔ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہو چکا ہے کوئی بھی دشمن اب پاکستان کی طرف میلی آنکھ دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔