پاکستان میں شرعی قوانین تب سے نافذ ہیں جب طالبان پیدا بھی نہ ہوئے تھے: بی بی سی

اسلام آباد (بی بی سی) طالبان سے بات چیت کا مقصد اگر واقعی نفاذِ شریعت ہے تب تو یہ مذاکرات ہونے ہی نہیں چاہیئں کیونکہ پاکستان میں رسمی و غیر رسمی انداز میں شرعی قوانین تب سے نافذ ہیں جب طالبان پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق قائداعظم محمد علی جناحؒ کی وفات کے ٹھیک پانچ ماہ بعد اور ملاعمر کی پیدائش سے دس برس پہلے ، 12 مارچ 1949ء کو کسی اور نے نہیں وزیراعظم لیاقت علی خان نے ابوالاعلی مودودی اور علامہ شبیر احمد عثمانی کی فکری رہنمائی سے فیض یاب ہوتے ہوئے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے قراردادِ مقاصد منظور کروا کے بطور اسلامی ریاست پاکستان کی نظریاتی سمت کا آئینی تعین کر دیا اور یہ بات تحریراً ہوگئی کہ تمام اختیارات کا مالک اللہ تعالی ہے اور ریاستِ پاکستان اپنی رعیت کے منتخب نمائندوں کے توسط سے جمہوریت، مساوات، سماجی انصاف و رواداری کے اصول بطور خدائی امانت شریعت کے دائرے میں لاگو کرے گی تاکہ مسلمان انفرادی و اجتماعی زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزاریں۔ دائیں اور بائیں بازو کی نظریاتی نقابوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے شیعہ اور سنی کی قید سے آزاد سب مسلمان ارکان نے اس قرارداد کی حمایت کی حتیٰ کہ قادیانی ممبران تک نے حق میں ووٹ دیا۔ لیاقت علی خان نے یونہی تو نہیں کہا تھا کہ قیامِ پاکستان کے بعد قرارداد مقاصد کی منظوری دوسرا اہم واقعہ ہے۔ چنانچہ قراردادِ مقاصد کے سنگِ بنیاد پر بعد ازاں دینی جماعتوں کے متفقہ تعاون سے 1973ء کے آئین کی عمارت کھڑی ہوئی اور اس قرارداد کو آئین کی تمہید اور پھر آرٹیکل ٹو اے کے ذریعے آپریٹنگ پارٹ بنا دیا گیا۔ بی بی سی کے مطابق پارلیمنٹ کو یہ تک اختیار ملا کہ وہ کسی کے بھی مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ دو تہائی اکثریت سے کر سکتی ہے کیونکہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت صرف صادق و امین اور کبیرہ گناہوں سے پرہیزگار غیر فاسق و فاجر ہی پارلیمنٹ کا بارِ امانت اٹھا سکتے ہیں۔ پھر بھی ارکانِ پارلیمان بتقاضائے بشری ارکان شریعت کے نفاذ میں کہیں چوک جائیں تو ان کا قبلہ درست رکھنے کے لئے اسلامی نظریہ کونسل کا آئینی ادارہ موجود ہے جو ہرقانونی ایکٹ کے مسودے کو شرعی کسوٹی پر پرکھنے کا ذمہ دار ہے۔ اسی آئین کے رہنما اصولوں کی روشنی میں احکاماتِ حدود، قانونِ شہادت اور توہینِ رسالت کے تدارک کیلئے سخت ترین سزا بھی نافذ ہوئی اور تھوڑا بہت عملدرآمد بھی ہوا۔ بلاسودی معیشت کی قانونی راہ بھی ہموار ہوئی۔اور اب تو ماشااللہ کئی مفتیانِ و علماِ کرام بھی بلاسود بینکاری کے ادارے ماورائے قانونِ فرنگ چلا رہے ہیں۔ (دروغ برگردنِ نیب)۔ پچھلے تیس برس سے سرکاری شرعی عدالتیں بھی موثر ہیں۔حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کو قتل کر کے جو کارنامہ انجام دیا اس پر مذہبی حلقوں سے کہیں زیادہ پھول کالے کوٹ ٹائی والے اینگلو سیکسن لاء اور فقہی نظائر کے بیک وقت ماہر وکلا نے برسائے۔ آئین و فوجداری ضابطوں کو بھلے آپ جو بھی کہیں سمجھیں۔ مگر یہ بات تو ماننے کی ہے کہ پچھلے بارہ برس میں کسی بھی حکمران کے ہوتے ہوئے کسی بھی ایسے شخص کی سزائے موت پر عمل نہیں ہو سکا جس نے اپنا عقیدہ بندوق میں بھر کے اپنے اپنے چنیدہ منافقین و مرتدین و کفار میں اتارنے کی کوشش کی۔ بی بی سی کے مطابق جب 2009ء میں تحریکِ طالبان سوات کو اعتماد میں لے کر مالاکنڈ میں نظامِ عدل ایکٹ کا نفاذ ہوا تو یہ کارِ خیر متحدہ مجلسِ عمل کے اسلامی حکومتی پلیٹ فارم سے نہیں بلکہ 1973ء کا اسلامی آئین بنانے کے باوجود سیکولر سمجھی جانے والی پیپلز پارٹی اور سرخ قوم پرستی کی سٹیکر زدہ عوامی نیشنل پارٹی کے دورِ حکومت میں ہوا اور پھر ان پارٹیوں نے مذہبی جماعتوں کے شانہ بشانہ شریف حکومت کو طالبان سے امن مذاکرات کا مینڈیٹ بھی دیا۔ چنانچہ مذاکرات کسی اور جواز یا بہانے کی آڑ میں ناکام ہوں تو ہوں آئین و قوانین کے ناقص و خالص کی بحث کا شکار ہرگز نہیں ہونے چاہئیں۔