پاکستان اور چین کا مستحکم اور پرامن افغانستان پر اتفاق ہے: مشاہد حسین

اسلام آباد (اے پی اے) سینٹ ڈیفنس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کا ایک مستحکم اور پرامن افغانستان پراتفاق ہے، ملا عمر کے زیراقتدار طالبان کا افغانستان چین سے دوستانہ تعلقات کا خواہاں تھا اور اس سلسلے میں اسلام آباد میں متعین چینی سفیر لوشولن نے دسمبر 2000ء میں قندھار میں سپریم کمانڈر ملا عمر سے ملاقات کی تھی جس میں طالبان رہنما نے چین کی علاقائی سالمیت کو مقدم رکھتے ہوئے چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور افغان سرزمین کو ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس بات کا انکشاف سینیٹر مشاہد حسین سید نے اسلام آباد میں ریجنل پیس انسٹیٹیوٹ کے زیراہتمام پاکستان، چین اور افغانستان کے مابین سہ فریقی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر مشاہد کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کا ایک مستحکم اور پرامن افغانستان پراتفاق ہے اوررواں سال افغانستان سے نیٹو کے انخلاء کے وقت 1989ء کی تاریخ دہرائے جانے سے علاقائی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے شرکاء کو سینٹ ڈیفنس کمیٹی کا حالیہ دورہ برسلز، دورہ کابل سمیت پاکستان چائنہ انسٹیٹیوٹ کے زیراہتمام بیجنگ میں منعقدہ سہ فریقی تھنک ٹینکس کے اجلاس کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ قبل ازیں، سیمینار کی کلیدی مقرر مادام چن ہوائے فان نے چائنیز پیپلز ایسوسی ایشن فار پیس اینڈ ڈس آرمامنٹ کے وفد کے ہمراہ پاکستان چائنہ انسٹیٹیوٹ کا دورہ کیا اور سینیٹر مشاہد حسین سید سے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے پاکستان چائنہ انسٹیٹیوٹ کی خدمات کو سراہا۔