معذوری کے اسباب،عالمی قوانین اور ہماری ذمہ داریاں

قاسم علی  
معذور افراد جنہیں اقوام متحدہ کی ہدایت پر خصوصی افراد بھی کہا جاتا ہے ایسے افراد  جو کسی ایسے جسمانی یا دماغی عارضے میں مبتلا ہوں جو انسان کے روزانہ کے معمولاتِ زندگی سرانجام دینے کی اہلیت و صلاحیت پر گہرے اور طویل اثرات مرتب کرتا ہویا دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ عارضہ اس فرد کے کام کرنے کی اہلیت یا صلاحیت کو ختم یا کم کر دے ۔
ماہرین کے مطابق معذوری تین قسم کی ہوتی ہے۔جسمانی،ابلاغی اوردماغی معذوری ،   جسمانی معذوری میں جسم میں ایسا نقص ،زخم یا عیب ہے جو انسانی زندگی کے معمولات سر انجام دینے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہو ۔قوتِ گویا ئی یا سماعت میں کمی یا مکمل طور پر اس صلاحیت کا نہ ہونا ابلا غی معذوری کہلا تاہے۔ دماغی معذوری کی تینوں اقسام میں سب سے زیادہ خطرناک تصور کی جاتی ہے جس کا اظہار ملک کے نامور ترین سائیکالوجسٹ اور سائیکا ٹرسٹ ڈاکٹر آئی ۔اے۔کے ترین  نے اپنے ایک آرٹیکل میں ان الفاظ میں کیا ہے ’’بعض دماغی امراض کینسر، شوگر اور بلڈ پریشر جیسی موزی امراض سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہیں ۔دماغی امراض اکثر اوقات بچپن سے لاحق ہو جاتی ہیں اور بعض دفعہ اس کا سبب زندگی میں پیش آنے والے تلخ حادثات اور واقعات بھی بن جاتے ہیں ،بہرحال ایسی کسی بھی صورت میں اگر بر وقت کسی اچھے معالج سے اس کا علاج کروایا جائے تو شفا یا بی ممکن ہے ورنہ دوسری صورت میں ایسے افراد معاشرے اور دھرتی پر بوجھ بن کر رہ جاتے ہیں ۔‘‘
وہ اسباب جو عموماـ کسی نہ کسی معذوری کا سبب بنتے ہیں ان پر اگر نظر ڈالی جائے تو وہ بظاہر منشیات خصوصا شراب کا کثرت سے استعمال ،ٹریفک حادثات ، بیماری، سیلاب اور زلزلے وغیرہ کی صورت میں قدرتی آفات ،دہشتگردی ،جنگیں اور خودکش دھماکے ہیں لیکن اس کی بنیادی وجوہات معاشرے میں اجتماعی تعلیم و شعور کی کمی ،مذہب سے دوری اور حکمرانوں کی تسخیرِعالم کی خواہش ہے ۔
مثال کے طور پر اگر عوام اگر باشعور اور تعلیم یافتہ ہیں تو ٹریفک قوانین کا پوری طرح احترام کریں گے جس سے حادثات کم ہوں گے جن کے باعث ہر سال بے شمار افراد مختلف اعضاء سے محروم ہوجاتے ہیں اسی طرح بعض اوقات معمولی قسم کی بیماری بھی مناسب اور بروقت علاج معالجہ نہ ہونے کے باعث زندگی بھر کا روگ بن جاتی ہے معذوری کے اسباب میں ایک اہم کردار مذہب سے دوری کا بھی ہے جو لوگ مذہب سے لگائو رکھتے ہیں ڈپریشن جیسی خطرناک بیماری سے  اکثر ا وقات محفوظ رہتے ہیں
1982ء میں اقوام متحدہ نے معذور افراد کے حقوق کو انسانی حقوق کا درجہ دیتے ہوئے تمام ممبر ممالک سے مطالبہ کیا کہ معذور افراد کو صحت ،تعلیم اور ملازمت میں عام افراد کے برابر مواقع فرہم کریں علاوہ ازیں اقوام متحدہ میں 1982ء کو معذور افراد کا عالمی سال قرار دیتے ہوئے ان کیلئے باقائدہ ایک World  Program  of  actionبھی ترتیب دیا اقوام متحدہ کی معذور افراد میں اس دلچسپی کا خاطر خواہ پیدا ہوااور دنیا بھر میں معذور افراد کو اقوام متحدہ کی ہدایت پر نہ صرف خصوصی افرادکا خطاب دیا گیا بلکہ ان کی کفالت اور ملازمت کا بھی مناسب انتظام کیا جانے لگا ۔
دنیا میں ہرسال معذورافراد کا عالمی دن 3دسمبر کو منایا جاتا ہے پاکستان میں اس کے منانے کا آغاز 1992ء میں ہوا ۔لیکن  پاکستان کے معذور افراد کے مسائل اور مشکلات میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ ہی ہو رہا ہے اگرچہ پاکستان میں اس حرماں نصیب طبقے کی بحالی تو دور کی بات ان کے درست عدد شمار ہی جمع نہیں کئے گئے لیکن پھر بھی ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں معذور افراد کی تعداد پونے دو کروڑ تک پہنچ چکی ہے اور ویسے بھی World  health  organization  2009کی روشنی میں ہر ملک اپنی مجموعی آبادی کا دس فیصد معذور کائونٹ کرنے اور اسی تناسب سے انہیں ملازمت اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا پابند ہے چنانچہ اسی تناسب سے بھی اگر دیکھا جائے تو پاکستان کی 18کروڑ آبادی کا دس فیصد تقریبا پونے دو کروڑ ہی بنتا ہے حکومت کو چائیے کہ وہ ہر سال ۳ دسمبر کو دو چار رٹے رٹائے بیانات اور چند سرکاری کنونشنز میں معذور افراد کیلئے مگر مچھ کے آنسو بہانے کی بجائے معذور افراد کیلئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک ٹھوس اور جامع Plan of  actionترتیب دے اگرچہ  دس اگست ۹۰۰۲ء کو حکومت نے اس سلسلے میں چند اقدامات کا اعلان کیااور معذورافراد کیلئے سپیشل کارڈ اجراء کیا لیکن یہ بھی معذورافراد کو کوئی ریلیف نہ دلا سکا  معاشرے کو چایئے کہ وہ ان افراد کیلئے معذور دوست ماحول کو پروان چڑھائے تاکہ معذور افراد خود کو تنہا نہ سمجھیں اور زندگی کو ایک چیلنج سمجھ کر قبول کرتے ہوئے معاشرے اور قوم کیلئے ایک کا ر آمد فرد کا کرادار ادا کر سکیں ۔