فضل الرحمن پر حکومت سے علیحدگی کیلئے دبائو، جلد وزیراعظم سے ملیں گے

اسلام آباد (آن لائن) وزارتیں نہ ملنے اور طالبان مذاکراتی عمل سمیت اہم قومی امور پر اعتماد میں نہ لینے پر جمعیت علمائے اسلام (ف)کی مرکزی مجلس عاملہ کا مولانافضل الرحمن پر حکومتی اتحاد سے علیحدگی کیلئے دبائو بڑھ گیا۔ مجلس عاملہ کا کہنا ہے کہ حکومت پر واضح کیا جائے کہ جمعیت حکومت کی اہم اتحادی ہے، اعتماد نہیں کیا جاتا تو حکومت سے علیحدگی اختیار کی جائے۔  ذرائع نے ’’آن لائن‘‘ کو بتایاکہ  ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود وفاقی وزیر اکرم درانی اور وزیر مملکت مولانا عبدالغفور حیدری کو وزارتوں کے قلمدان نہیں سونپے گئے جس پر جمعیت کی مرکزی قیادت نے اپنے سربراہ پر دبائو بڑھانا شروع کردیا ہے جس کے بعد مولانا نے وزیراعظم سے ملاقات کیلئے وقت مانگ لیا ہے۔ وہ آئندہ ہفتے وزیراعظم سے ملاقات کرکے تمام معاملات اٹھائیں گے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف)کے مرکزی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت کے اتحادی ہیں مگر ہمیں مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔ حکومت کی جانب سے طالبان مذاکرات پر ہمیں اعتماد میں لینے کا وعدہ کیاگیا تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا اور اچانک وزیراعظم نے اعلان کردیا۔