سی او پی ڈی دنیا میں تیسری بیماری ہے جو موت کا سبب بنتی ہے

چسٹ سپشلسٹ ڈاکٹر مرزا ایوب بیگ سے خصوصی گفتگو
 فرزانہ چودھری
farzanach95@yahoo.com
  ڈاکٹر   مرزا ایوب بیگ نے  1989ء میں قائداعظم میڈیکل کالج بہاولپور سے ایم بی بی ایس کیا پھر انہوں  نے میڈیسن میں ٹریننگ کی  اور ایم سی پی ایس  کیا۔ اس کے بعد  جناح ہسپتال  میں چسٹ میڈیسن  کی ٹریننگ کی اور سروسز ہسپتال میں میڈیکل آئی سی یو میں ٹریننگ کی۔  اس کے بعد انہوں نے پلمونولوحی  (چسٹ میڈیسن ) میں ایف سی  پی ایس کا  امتحان  پاس کیا اور انہیں سینئر رجسٹرار بنا کر ان کا  تبادلہ  گنگا رام ہسپتال میںکردیا گیا۔ اس وقت ڈاکٹر  محمد ایوب  گنگا رام ہسپتال میں چسٹ سپشلسٹ کی خدمات  سرانجام دے رہے ہیں۔
٭ آپ کے خیال میں ٹی بی کے مریضوں میں پہلے سے کمی ہوئی یا اضافہ  ہوا ہے؟
ڈاکٹر ایوب: ٹی بی کے مریضوں میں پہلے سے اضافہ ہوا ہے۔بہت سے غریب مریض ٹی بی کے مرض میں مبتلا آتے ہیں۔ گنگا رام ہسپتال میں سروسز سے زیادہ غریب مریض آتے ہیں اور مریضوں کا علاج تسلی بخش کیاجاتا ہے۔ گنگا رام کی اپنی جائیداد مال روڈ پر اس کا کرایہ آتا ہے۔گنگا رام ہسپتال کے مالک جو انڈین ہیں وہ وہاں سے مریضوں کے علاج معالجے کیلئے پیسے بھیجتے ہیں۔اس لئے گنگا رام میں آنے والے مریضوں کو علاج کی بہتر سہولت میسر ہے یعنی انہیں تمام ادویات مفت مل جاتی ہیں۔
٭  وہ کونسی  بیماریاں ہیں جو ایک دوسرے سے لگ سکتی ہیں؟
ڈاکٹر ایوب: کچھ ایسی بیماریاں ہیں جو ایک دوسرے سے لگ سکتی ہیں ان کو اچھوت کی بیماریاں بھی کہہ سکتے ہیں مشال کے طور پر ہیپا ٹائٹس اور ٹی بی ایک دوسرے سے لگ سکتی ہے مگر یہ  اچھوت کی بیماری نہیں  ہے ٹی بی بہت خطرناک بیماری ہے۔ ٹی بی کے مرض میں مبتلا شخص جب  کھانسی کرتا ہے تو اس کے جراثیم ہوا کے ذریعے  پھیلتے ہیں۔ جب ٹی بی کے جراثیم فضا میں ہوں گے تو اس فضا میں جب ایک تندرست شخص   سانس لے گا تو وہ جراثیم اس کے اندر سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں چلے جائیں گے اور وہ بھی اس مرض میں مبتلا ہو جائے گا۔ اس لیے جس گھر میں ایک مریض ٹی بی کا ہو تو گھر کے باقی لوگوں کو بہت احتیاط کرنی چاہیے اور ان سب کو اپنا معائنہ بھی وقفے وقفے بعد ضرور کر وانا چاہیے جب تک ان کا مریض صحت یاب نہیں ہوجاتا۔
٭  ٹی بی کے مریض کے کھانسنے سے جو جراثیم فضا میں شامل ہوںگے  کیا وہ دور تک جاکر کسی صحت مند انسان کو متاثر کر سکتے ہیں؟
ڈاکٹر ایوب: ٹی بی کے جراثیم اگر فضا میں ہیں تو وہ ہوا کے ذریعے دور تک بھی جاسکتے ہیں اور صحت مند انسان کو متاثر کرسکتے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ٹی بی کا جراثیم کافی عرصہ تک زندہ رہتا ہے۔ یہ جراثیم صرف دھوپ میں ہی مرتا ہے۔ ٹی بی ہمارے ملک کی ایک بڑا مسلہ ہے اور پاکستان میں ٹی بی  کے مریضوں کی شرح بہت بڑھ رہی ہے  غربت کی وجہ سے  اب ٹی بی ہورہی ہے۔ ٹی بی کے علاوہ سب سے خطر ناک  سانس کی  ایک بیماری سی او پی ڈی(COPD ) ہے  جسے ہم  فضائی آلودگی سے لگنی والی سانس کی بیماری کہیں گے۔اس میں دھوئیں اور سگریٹ پینے سے پھیپھڑوں کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں  یہ بڑی خطر ناک بیماری ہے اور  جو  بہت بڑا چیلنج  ہے۔
٭ دمہ  کی بیماری کس وجہ سے ہوتی ہے ؟
ڈاکٹر ایوب: دمہ کی بیماری الرجی سے ہوتی ہے۔اگر آپ کو کسی  بھی چیز سے الرجی نہ ہوں تو  آپ کو دمہ نہیں ہوگا۔
٭ الرجی سے مراد؟
ڈاکٹر ایوب: ایسے لوگوں  جن کو کچھ چیزوں سے الرجی ہوتی ہے ان کو چھینکیں آتی ہیں۔ نزلہ زکام ہوجاتا ہے کچھ لوگوں کو پولین گرین سے ، کسی کو سپرے سے، کسی کو مٹی سے اور کسی کو دھوئیں سے الرجی ہوتی ہے۔ آپ خود کو الرجی سے  بچا بھی سکتے ہیں   بہرحال دمہ قابل علاج  مرض ہے۔
٭ سی او پی ڈی  کی بیماری کس لحاظ سے بہت خطرناک ہے ؟
ڈاکٹر ایوب: سگریٹ پینے سے پھیپھڑوں کی نالیاں سُکڑ جاتی ہیں  ۔ یہ  بیماری انتہائی خطرناک  اس لیے ہے کیونکہ اس بیماری کی ابھی تک قابل ذکر کوئی دوائی دریافت نہیں ہوئی ہے۔سی او پی ڈی دنیا میں تیسری بیماری ہے جو موت کا سبب بنتی ہے ۔ اس کے مریض ہر سال بکثرت مرتے ہیں یہ چھوت کی بیماری نہیں ہے۔ یہ بیماری انسان کی خود پید اکردہ ہے کیونکہ یہ سگریٹ پینے  اور فضائی آلودگی سے ہوتی ہے۔  مریض کو سانس چڑھتا ہے ، کھانسی آتی ہے اوربلغم بھی آتا ہے۔ دمہ اور اس بیماری میں یہی فرق ہے  کہ دمہ کے مریض کو  موسم بدلنے کے ساتھ سانس کی تکلیف ہوتی ہے۔ ہم شاپر بیگ کو اکٹھا کرکے آگ لگاتے ہیں اور فضا کو آلودہ کرتے ہیں اور خود کو بیماری لگاتے ہیں جس کا مکمل علاج بھی نہیں ہوتا۔ غریب مزدور سگریٹ بہت پیتے ہیں سارا دن محنت مزدوری بھی کرتے ہیں وہ لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ میرے پاس ایک مریض آیا جو مزدور تھا سگریٹ بہت پیتا تھا۔اس کی عمر چالیس سال تھی مگر سگریٹ نوشی سے اس کے پھیپھڑے   چالیس سال کی عمر ہی ختم ہوچکے تھے۔
٭ جو لوگ سگریٹ نوشی  کے عادی ہیں اور جو کبھی کبھی سگریٹ نوشی کرتے ہیں دونوں میں بیماری کے اثرات مختلف ہوتے  ہیں؟
ڈاکٹر ایوب: جی ہاں، سگریٹ نوشی کے  عادی لوگوں کے پھیپھڑے جلدی  خراب ہو جاتے ہیں اور جو کبھی کبھی سگریٹ پیتے ہیں ان کے دیر سے پھیپھڑے خراب ہوتے ہیں، بیماری دونوں کو ہوتی ضرور ہے ۔ جو لوگ چالیس پچاس سال کی عمر تک سگریٹ نوشی ترک کردیتے ہیں تو ان کے پھیپھڑے آہستہ آہستہ نارمل حالت میں آجاتے ہیں۔ سردیوں کا موسم سی او پی ڈی بیماری کیلئے بہت خطرناک ہوتا ہے سگریٹ نوشی کرنے والوں  کو نزلہ زکام کا انفیکشن ہوجائے تو ان کے پھیپھڑے پہلے ہی خراب ہونے  سے انفیکشن بڑھ جاتا ہے اور پھر ان کی طبیعت ناقابل یقین حد تک خراب ہوجاتی ہے۔
٭ سردیوں میں سگریٹ نوشی کرنے والوں کو انفیکشن سے بچنے کیلئے کیا کرناچاہئے ؟

ڈاکٹر ایوب: سگریٹ نوشی کے عادی لوگوں کو نمونیا اور زکام کی ویکسینیشن ضرور کرانی چاہئے کیونکہ ان لوگوں  پر عام طورپر فلو کا وائرس اٹیک کرتا ہے اس کے بعد ان کی طبیعت  سیریس ہوتی ہے۔ ہر سال نومبر کے مہینے میں  فلو کی ویکسینیشن ضرور لگوائیں  اور سگریٹ نوشی بھی ترک کردیں۔60 سال  یا اس سے زائد  عمر ، دل   اور شوگر   کے مریضوں کو بھی فلو اور نمونیا کی ویکسین لگوانی چاہئے۔  یہ ویکسین پانچ سال کیلئے  ہوتی ہے ۔
٭ کیا جو لوگ سگریٹ نوشی کے عادی ہوتے ہیں ان کیلئے نزلہ زکام خطر ناک ہوسکتا ہے ؟
ڈاکٹر ایوب: جی ہاں، جو لوگ سگریٹ نوشی کرتے ہیں ان کیلئے نزلہ زکام خطرناک بن سکتا ہے اس لئے ان کو ویکسی نیشن ضرور  لگوانی چاہئے جن کو دمہ  کی شکایت ہے  ان کو بھی ویکسین  لگوانی چاہئے۔
٭  سگریٹ  نوشی  کرنے والوں کے درمیان بیٹھنے کس حد تک اس کے دوئیں سے متاثر ہوتے ہیں ؟
ڈاکٹر ایوب:  ان کے لیے سگریٹ کا دھواں پینے والے کی نسبت زیادہ خطر ناک ہوتا ہے کیونکہ وہ بغیر کسی فلٹر کے  سگریٹ کا دھواںاپنی سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں  لے کرجارہا ہوتا ہے سگریٹ نوشی کرنے والا تو فلٹر لگا  سگریٹ پی رہا ہوتا ہے ۔جب سگریٹ جلتی ہے  تو سگریٹ کے تمباکو اور پیپر جلنے سے دھوئیں  میں خطرناک کیمیکل نکلتے ہیں اور جلتی سگریٹ سے نکلنے والے بارہ سو میں سے تین سو سے زائد کیمیکلز ایسے ہیں جو پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بنتے ہیں اور یہ بات ثابت ہوچکی ہے۔
٭ الرجی  سے اور وائرس سے ہونے والا نزلہ زکام میں کیسے  تمیز کی جاسکتی ہے؟
ڈاکٹر ایوب: الرجی سے  ہونے والے  نزلہ زکام سے بخار نہیں ہوتا جبکہ نزلہ کے وائرس سے لگنے والے زکام سے بخار ہوجاتا ہے۔ الرجی سے زکام میں آنکھ سے پانی بہتا ہے۔ فلو کا وائرس  فوگ  میںبڑھتا ہے۔ فوگ اصل میں فضا کی آلودگی ہی ہوتی ہے۔ فوگ سانس کی بیماری کے مریضوں کیلئے بہت زہریلی ہوتی ہے سانس کی تکلیف کے مریضوں کو دھند میں نہیں نکلناچاہئے۔ دھند صحت کیلئے نقصان دہ ہوتی ہے۔
٭ سانس کی کونسی بیماریاں خطرناک حد تک بڑھ رہی ہیں؟
ڈاکٹر ایوب: پھیپھڑوں کا کینسر بڑھ رہا ہے اس کا تعلق بھی سگریٹ نوشی اور فضائی آلودگی سے ہے ایک ٹو سٹوک رکشے کا دھواں شہر بھر کی تمام گاڑیوں کے دھوئیں کے برابر ہوتاہے۔ یہ دھواں سانس کی بیماریاں پیدا کرنے کیلئے کافی ہے۔گورنمنٹ کو ایک ٹو سٹوک رکشے گاڑیاں بین کردینے چاہئیں۔ ان کا دھواں صحت کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔اس سے پھیپھڑوں کا کینسر بڑھ رہا ہے۔جن مریضوں کے پھیپھڑے ختم ہوجاتے ہیں ان کو مصنوعی آکسیجن پر رکھاجاتا ہے۔آکسیجن اتنی مہنگی ہے کہ کوئی بھی شخص 24 گھنٹہ کیلئے سالہا سال اس کا استعمال افورڈ نہیں کرسکتا۔ فضائی آلودگی کو کنٹرول کریں، کھلی جگہ پر کوڑا کرکٹ نہ جلائیں۔ مارکیٹوں میں پاسٹک  کے شاپر بیگز اکٹھے کرکے وہیں ان کو آگ لگادی جاتی ہے جو مضر صحت ہے۔ ہم ان چیزوں سے خود کو بچا سکتے ہیں۔ گورنمنٹ کو چاہئے کہ وہ پلاسٹک کے شاپر کے استعمال پر پابندی لگائے۔ گورنمنٹ نے جگہ جگہ لکھ کر لگا تو دیا ہے کہ کوڑے کو آگ لگانا جُرم ہے مگر لوگ پھر بھی آگ لگاتے ہیں مگر  کوئی ان کو پوچھتا نہیں ہے۔
٭ کیا پھیپھڑوں کے کینسر  قابلِ علاج ہے؟
ڈاکٹر ایوب:  پھیپھڑوں کے کینسر کا علاج بہت مہنگا ہے ایک مریض پر دس بارہ لاکھ روپے خرچ آسکتے ہیں ۔
٭ سانس کی تکلیف سے فوری آرام کیلئے کوئی دوائی استعمال کرنی چاہئے ؟
ڈاکٹر ایوب:  دمہ  کے  یا سانس کی تکلیف میں مبتلا مریضوں کو سانس کی تکلیف ہوتو فوری آرام کیلئے اِن ہیلر استعمال کرناچاہئے۔اس سے دوائی  سیدھی سانس کی نالی میں جاتی ہے جس سے فوری آرام ملتا ہے یہ نقصان دہ بھی نہیں ہے اس کا سائیڈ افیکٹس بھی نہیں ہوتا جبکہ  دوائی کھانے سے سائیڈ افیکٹس کے چانسز ہوسکتے ہیں۔  اس سے شوگر بلڈ پریشر کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اس لئے سب سے اچھا علاج اِن ہیلر ہے۔
٭    اس کے علاوہ کس چیز سے سانس کی بیماری ہو سکتی ہیِ؟
ڈاکٹر ایوب: موٹاپے سے بھی سانس کی بیماری  ہوتی ہے۔ اصل میں موٹاپے کی وجہ سے ان کے پھیپھڑے پوری طرح پھولتے نہیں ہیں  یعنی آدھے پھیپھڑے پھولتے ہیں اور وہ آدھ سانس لیتے ہیں۔ جس سے ان کے دما غ کی سانس لینی کی Sens ختم ہوجاتی ہے  نیزجب وہ سوتے ہیں تو ان کی گردی موٹی ہونے کی وجہ سے  گردن کی چربی ان کی سانس کی نالی کو دبا دیتی ہے جس سے خراٹے بھی پیدا ہوتے ہیں ان کو انگلش میں  obstractive sleep apneaکہتے ہیں یعنی ایسی بیماری جس میں سوتے میں مریض کا سانس رکتا ہے ، خراٹے آتے ہیں اور ان کی آکسیجن گر جاتی ہے۔
٭ خراٹے تو پتلی گردن والے کو بھی آتے ہیں؟
ڈاکٹر ایوب: اگر آپ کی گردن کا سائز30 سینٹی میٹر ہے تو گھبرانے کی بات نہیں اس میں خراٹے آنے کی کوئی اور وجہ ہوگی جو خطر ناک نہیں ہے لیکن اگر آپ کی گردن کا سائز 40 سینٹی میٹر ہے یا اس سے زائد ہے تو پھر خطر ناک بات ہے پھر تو آپ نے خود اپنے گلے میں پھندا فٹ کرلیا ہے۔ پھر آپ کو انتہائی خطرناک بیماری ہوگی جیسے obrtruetive sleep Apnea یعنی سوتے ہوئے سانس کا گھٹنا اور آکسیجن کا کم ہوجانا۔  جن لوگوں کو سوتے میں دل کا اٹیک ہوتا ہے ا س کی یہی وجہ ہوتی ہے کہ سوتے ہوئے ان کی آکسیجن کم ہوجاتی ہے اس سے ان کے دل پر بوجھ پڑتا ہے اور دل کا اٹیک ہوجاتا ہے۔  جن موٹے لوگوں  میں یہ بیماری ہوتی ہے  ان کی آکسیجن کم ہوتی تو پوری باڈی سٹریس میں آجاتی ہے۔دماغ کو فکر پریشانی ہوجاتی ہے کہ اس کو آکسیجن پوری نہیں مل رہی ہے۔ دماغ کہتا ہے آکسیجن پوری  کرو اور جیسے بھی ہو اس کا بندوبست کیاجائے۔ اس سے آپ کے جسم  کے مختلف حصوں سے مختلف قسم کے کیمیکلز نکلتے ہیں ۔ وہ کیمیکلز آپ کو شوگر  اور بلڈ پریشر کا مریض بنا دیتے ہیں اور اس کا علاج بلڈ پریشر  اورشوگر کی دوائی کھانے سے نہیں ہوگا۔ جب تک آپ موٹاپے کا علاج نہیں کریںگے تب تک کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ obrtruetive sleep Apnea  کا علاج مشکل اور مہنگا ہوتا ہے  اس کے علاج کیلئے مریض کو سوتے وقت خاص قسم کی مشین لگائی جاتی ہے ۔ وہ مشین ڈیڑھ دو لاکھ روپے کی آتی ہے اس میں مریض کی پوریPoly Somnography کی جاتی ہے۔مریض کا پورا ریکارڈ لیاجاتا ہے۔