ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشنز میں چیئرمین، ڈی جی کے عہدے کئی سال سے خالی

اسلام آباد (اسماء غنی/ دی نیشن رپورٹ) ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے کام کرنے والی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشنز کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود کچھ بھی نہیں کر رہیں۔ اکثر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشنز سربراہ کے بغیر ہی کام کر رہی ہیں۔ تقریباً پندرہ آرگنائزیشنز وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت کام کر رہی ہیں اور یہ تنظیمیں نئے منصوبے بنا رہی ہیں اور نہ ہی کوئی نئی حکمت عملی طے کر رہی ہیں اور بدقسمتی سے وزارت کی جانب سے عہدوں پر تعیناتی یا بھرتی کیلئے کوئی بھی سمری اعلیٰ حکام کو نہیں بھجوائی گئی۔ ڈیپوٹیشن یا جونیئر اہلکار قائم مقام سربراہان کے طور پر کام کر رہے ہیں جن کی تعلیمی قابلیت اس عہدے کیلئے موزوں ہے نہ ہی انہیں متعلقہ کام میں کوئی تجربہ ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرونکس اسلام آباد، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانو گرافی کراچی میں ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پچھلے چار سال سے خالی پڑی ہیں اور ان پر انتہائی جونیئر اہلکار کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح سنٹر فار اپلائیڈ مالیکیولر بیالوجی لاہور میں کوئی ڈائریکٹر جنرل تعینات نہیں کیا گیا اور پچھلے تین سال سے ڈیپوٹیشن والوں کو ہی عہدوں پر ترقی دی جاتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ کونسل فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں بلوچستان کے پروفیسر ڈاکٹر مدثر اسرار پچھلے دو سال سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ پاکستان کونسل فار ری نیو ایبل انرجی ٹیکنالوجیز اسلام آباد، پاکستان نیشنل ایکریڈیشن کونسل اسلام آباد، پی ایس کیو سی اے کراچی، پی ایس ایف اسلام آباد میں بھی قائم مقام ڈائریکٹر جنرل اور چیئرمین کام کر رہے ہیں۔