خدمت کے جذبے سے سرشار…ادارہ پنجاب ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن

 میگرین رپورٹ
ادارہ پنجاب سوشل سیکورٹی کا مقصد تحفظ یافتہ کارکنان اور ان کے لواحقین کو بیماری، زچگی دورانِ کار حادثہ یا فوتیدگی جیسے معاملات میں مالی امداد فراہم کرنا ہے۔ تحفظ یافتہ کارکنان اور اُن کے اہل خانہ بشمول والدین کو طبی سہولیات کی فراہمی، کارکنان میں مالی فوائد کی تقسیم اور سوشل سکیورٹی کنٹری بیوشن اہداف کی وصولی ادارہ کے کلیدی کردار ہیں۔
ادارہ کے معاملات اور انتظامی اُمور کو چلانے کے لئے گورننگ باڈی قائم کی گئی ۔ جو کمشنر سوشل سکیورٹی کی معاونت سے تفویض شدہ اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ادارہ کے امور کو سرانجام دیتی ہے۔ حکومت پنجاب نے ادارہ کی گورننگ باڈی کے لئے وزیر محنت وانسانی وسائل کو چیئرمین کمشنر پنجاب سوشل سکیورٹی کو بطور ممبر / سیکرٹری، آجران اجیران کے چار نمائندگان اور حکومتی 4 نمائندگان کو بطور ممبران نامزد کیا ہے ۔ ادارہ نے اپنے 8 لاکھ سے زائد تحفظ یافتہ کارکنان اور اُن کے 50 لاکھ سے زائد اہل خانہ کو طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے پنجاب بھر میں 13 ہسپتال، 40 میڈیکل سنٹر، 140 سوشل سکیورٹی ڈسپنسریاں اور 88 سوشل سکیورٹی ایمرجنسی سنٹرز قائم کر رکھے ہیں ۔ انتظامی اموراور سوشل سیکورٹی کنٹری بیوشن کی وصولی کیلئے 17 ذیلی ڈائریکٹوریٹ ہیں۔ 610 بستر پر مشتمل نواز شریف سوشل سیکورٹی ہسپتال ملتان روڈ لاہور ادارہ کا سب سے بڑا ہسپتال ہے جہاں گیما یونٹ، ممیو گرافی، سی ٹی سکین، ڈائلسیز جیسی سہولیات میسر ہیں ۔رحمت العالمین انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ملتان روڈ لاہور میں امراض قلب کا مکمل علاج کیا جاتا ہے اور بائی پاس آپریشن کی سہولت بھی میسر ہے اس ہسپتال کا موزانہ کسی بھی بہترین ہسپتال سے کیا جا سکتا ہے۔ ادارہ پنجاب سوشل سیکورٹی تحفظ یافتہ کارکنان اور ان کے اہل خانہ کو درج ذیل مالی و طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ 
بیماری کی صورت میں کارکنان کو سال میں 121 دن تک اُجرت کے 75 فیصد شرح سے ادائیگی
کارکن کے انتقال پر (یومیہ معاوضہ بیماری 30x) کی شرح سے 10 ہزار روپے تک بطور اخراجات تجہیز و تکفین ،خاتون کارکنان کے بیوہ ہونے کی صورت میں دوران عدت ماہانہ اجرت کے 100 فیصد مساوی معاوضہ کی ادائیگی ،دوران کار زخمی ہونے پر 5 تا 20 فیصد معذوری کی شرح تک گریجویٹی کی یکمشت ادائیگی ،دوران کار زخمی ہونے پر جزوی معذوری 20 فیصد سے زائد ہو تو مخصوص شرح سے معذوری کی پنشن کی ادائیگی ،دوران کار زخمی ہونے پر معذوری کی شرح 66 فیصد سے زائد ہو تو اُجرت کی 100 فیصد مساوی پنشن کی ادائیگی ،دوران کار زخمی ہو کر انتقال کر جانے کی صورت میں اُجرت 100 فیصد مساوی پشن کی پسماندگان کو ادائیگی ،بیوی بچوں کی عدم موجود گی میں مرحوم کارکنان کے ماں باپ یا بہن بھائیوں کو پسماندگان پنشن کی ادائیگی ،پنشن یافتہ معذور کارکنان ان کے زیر کفالت لواحقین اور مرحوم کارکنان کے پسماندگان کو بلا معاوضہ ساری زندگی مکمل طبی سہولیات کی فراہمی ،کارکنان اور لواحقین کے لئے معذوری یا پسماندگان کی پنشن 924 سے بڑھا کر کم از کم شرح 2000 روپے مقر ر کر دی گئی ہے۔ سوشل سکیورٹی ہسپتال میں داخل مریضوںکو خرچہ خوراک 100 روپیہ یومیہ کے حساب سے دیا جاتا ہے ہر سال بذریعہ قر عہ اندازی 4 تحفظ یافتہ کارکنان کو ادارہ سوشل سیکورٹی کی طرف سے حج بیت اللہ کی سعادت سے سرفراز کروانا، ہر سال کارکنان کے چھ بچوں کو ادارہ سے منسلک میدیکل کالجوں میں مفت MBBS کی تعلیم دلوانا نیز ان کالجوں کے دیگر شعبہ جات میں کارکنان کے بچوں کے لئے فیس کی خصوصی رعائت دلوانا  ،نواز شریف سوشل سکیورٹی ہسپتال ملتان روڈ لاہور میں سی ٹی سکین مشین کی اور مکمل جسمانی سکینگ کے لئے نیو کلیئر بلاک کی ،لاہور اور سوشل سکیورٹی ہسپتال اسلام آباد میں چھاتی کے کینسر کی تشخیص اور مکمل علاج ، گردوں کی صفائی کا مکمل انتظام، بون میرو ٹرانسپلانٹ کی سہولت اور مکمل علاج  ہے ۔تمام سوشل سکیورٹی ہسپتالوں میں امراض معدہ کی تشخیص اور علاج ، ہیپاٹائٹس کلینکس کا قیام اور مکمل علاج ، تحفظ یافتہ کارکنان اور ان کے لواحقین کو مصنوعی اعضاء اور نظر کی عینک کی فراہمی اور ملک میں طبی سہولیات دسیتاب نہ ہونے کی صورت میں بیرون ملک علاج کی سہولت کے علاوہ ڈسپنسریوں اور ہسپتالوں میں جدید آلات سے لیس ایمبولینسز 24 گھنٹے سہولت  بھی ہے۔نواز شریف سوشل سکیورٹی ہسپتال لاہور اور  اسلام آباد سے الحاق شدہ میڈیکل کالجز میں تحفظ یافتہ کارکنان کے 9 بچوں کے لئے ہر سال مفت تعلیم اور وظائف کی سہولت بھی ہے۔ مزید براں بون میرو ٹرانسپلانٹ کوکلیئر امپلانٹ ، جگر کی پیوند کار اور مصنوی اعضاء کی فراہمی کے لئے کارکنان کا علاج بیرون ملک سے بھی کروایا جاتا ہے ۔انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ملتان روڈ لاہور میں انجیو گرافی اور انجیو پلاسٹی یونٹ کے قیام ، تھلیم سکین مشین ، ریسرچ سنٹر کا قیام اور ریڈیالوجی کی پوسٹ گریجویٹ تربیت کا آغاز تمام سوشل سکیورٹی ہسپتالوں میں تشخیصی سہولیات میں اضافہ کے نئے اقدامات پر کام جار ی ہے۔ 
ادارہ پنجاب سوشل سکیورٹی نہ صرف اپنے تحفظ یافتہ کارکنان اور ان  کے اہل خانہ کو مفت طبی و مالی سہولیات فراہم کرتا ہے بلکہ کسی بھی ناگہانی آفت، خواہ وہ سیلاب یا زلزلہ کی صورت میں ہو، ڈینگی بخار کی وبا ہو یا دہشت گردی جیسے واقعات کی صورت میں عوام الناس کو ہر ممکن علاج معالجہ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اعلیٰ افسران فوراً متحرک ہو جاتے ہیں اور ذاتی طور پر تمام معاملات کی نگرانی کرتے ہیں۔