حمص میں امدادی قافلے پر حملہ، ہلال احمر کی 9 گاڑیاں پھنس گئیں

دمشق/جنیوا(اے پی اے)شام میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے حمص میں ایک امدادی قافلے پر راکٹ فائر کئے گئے ۔ اسکے نتیجے میں اقوام متحدہ کی قیادت میں درجنوں محصور شہریوں تک خوراک اور ادویات پہنچانے کا آپریشن خطرے میں پڑ گیا ہے۔ ہلال احمر کی 9 گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔ شامی عرب ہلالِ احمر (ایس اے آر سی) کا کہنا ہے کہ ایک مارٹر اس کے ایک قافلے کے قریب گرا۔ اس ادارے کے مطابق اس کے ٹرکوں پر فائرنگ بھی کی گئی ہے۔ محصور شہریوں تک خوراک اور ادویات پہنچانے کا آپریشن خطرے میں پڑ گیا ہے لیکن ہم ہمت نہیں ہارینگے۔ جس کے نتیجے میں اس کا ایک ڈرائیور زخمی ہو گیا ہے۔اقوام متحدہ سمیت ہلالِ احمر کی اپنی نو گاڑیاں حملے کے بعد گھنٹوں شہر میں پھنسی رہیں۔ ہلالِ احمر نے ایک بیان میں مزید کہا کہ اگرچہ اس کی ٹیم پر شیلنگ اور فائرنگ کی گئی، پھر بھی حمص میں خوراک کے ڈھائی سو پارسل، دوائیں اور دیگر امدادی سامان تقسیم کیا گیا۔شام کی حکومت نے باغیوں کو اس حملے کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اس کے برعکس حکومت مخالفین نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ حملہ بشار الاسد کی فورسز نے کیا۔ اقوامِ متحدہ کے فلاحی کاموں کی سربراہ ویلری آموس نے کہا ہے کہ شامی شہر حمص میں سامان لے جانے قافلے پر حملے سے اقوامِ متحدہ اور امدادی ادارے ہمت نہیں ہاریں گے۔