بن مانس، بندر سے قبل چکوال سے 1994ء میں2 کروڑ 80 لاکھ سال پرانے ہاتھی، گینڈے، ڈائنو سار کے فاسلز بھی دریافت ہوچکے ہیں

چکوال (آئی این پی) چکوال سے بن مانس اور بندر کے 90 لاکھ سال پرانے برآمد شدہ  نئے فاسلز سے قبل 1994ء میں بن امیر خاتون سے ہاتھی، گینڈے اور ڈائنو سار کے فاسلز بھی برآمد ہوئے تھے۔ اس وقت کے ڈپٹی کمشنر چکوال عظمت علی رانجھا نے ان فاسلز کی آسٹریا کی لیبارٹری سے تصدیق کرائی تھی۔ اور لیبارٹری رپورٹ کے مطابق ان فاسلز کی عمر 2 کروڑ 80 لاکھ سال پرانی بتائی گئی تھی۔ بن امیر خاتون اور سالٹ رینج کے علاقہ میں محکمہ آثار قدیمہ پنجاب نے 75 ایسے مقامات دریافت کیے ہیں جو ایک ہزار سال سے دو کروڑ 80 لاکھ سال پرانے ہیں اور ضلع چکوال کو آثار قدیمہ کی جنت قرار دیا گیا ہے۔ نیچرل ہسٹری ایسوسی ایشن ضلع چکوال کے صدر خواجہ بابر سلیم محمود نے مطالبہ کیا ہے کہ سالٹ رینج کے علاقہ میں تحقیق کی جائے تو روئے زمین پر پہلے انسان کی آمد کے آثار سالٹ رینج میں اب بھی موجود ہیں اور تحقیق کے ذریعے کئی گم گشتہ تاریخ کے خزانوں کو تلاش کیا جاسکتا ہے۔