افغان صوبے فرح میں بم دھماکے سے گاڑی تباہ، 8 فوجی ہلاک

کا بل (آن لائن+اے ایف پی+این این آئی) جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر اتوار کو غیراعلانیہ دورے پر افغانستان پہنچ گئے۔ انہوں نے وہاں تعینات اپنے فوجیوں سے ملاقات کی اور کابل حکومت کو برلن کی مسلسل معاونت کا یقین دلایا۔وہ  اتوار کو مزار شریف پہنچے۔ ان کی اگلی منزل کابل ہے جہاں وہ افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کریں گے۔ جرمن وزیر خارجہ نے کابل حکومت کو یقین دلایا ہے کہ جرمن فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی اسے برلن حکومت کی مدد حاصل رہے گی۔مزار شریف میں باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کی مدد کرنا جرمن حکومت کی ذمہ داری ہے۔ادھر افغانستان کے صوبے فرح کے ضلع دلارام میں بم دھماکے سے فوجی گاڑی تباہ ہونے سے 8 اہلکار ہلاک ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ رواں برس افغانستان کے لیے ہی نہیں بلکہ کابل حکومت کے ساتھ جرمنی کی وابستگی کے تناظر میں بھی اہم ہے۔اس وقت جرمنی کے تین ہزار سے زائد فوجی افغانستان میں تعینات ہیں۔ جرمنی میں وفاقی کابینہ جنگی مشن کے قیام میں توسیع کی مرحلہ وار منظوری دیتی آئی ہے اور رواں ماہ آخری مرتبہ مزید دس ماہ کی توسیع متوقع ہے۔ اس کے بعد رواں برس کے آخر تک اس کے تمام لڑاکا دستوں کی وطن واپسی طے ہے۔آئندہ برس سے افغانستان میں جرمنی کے زیادہ سے زیادہ صرف 800 فوجی قیام کر سکیں گے جن کا کام افغان فوج کی تربیت اور مشاورت ہو گا تاہم ابھی تک اس بات کا حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔