اصل مذاکرات حکومت اور طالبان کے درمیان ہی ہونگے: منور حسن

لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی منور حسن نے کہا ہے کہ اصل مذاکرات حکومت اور طالبان کے درمیان ہی ہونگے، طالبان کمیٹی کے نام سے کام کرنے والی موجودہ کمیٹی صرف رابطہ کار اور مددگار کا کردار ادا کررہی ہے، تاکہ حکومت اور طالبان کے درمیان پائے جانے والے خدشات دورکرکے مذاکرات کے ماحول کو ساز گار بنایا جائے، امریکہ اور بھارت کی تمام تر سازشوں اور رکاوٹوں کے باوجود مذاکرات کامیاب ہونے کی امید ہے، سیکولر اور اسلام مخالف لابی قوم کے اندر ناامیدی اور مایوسی پھیلا رہی ہے،  73ء کا آئین بنانے والوں میں وہ جید علماء شامل تھے جنہیں آج کے علماء اپنا استاد مانتے ہیں، مفتی محمود، مولانا عبدالحق، علامہ شاہ احمد نورانی اور پروفیسر غفور احمد جیسی قدآور قومی شخصیات آئین ساز کمیٹی میں شامل تھیں، وہ کیسے قرآن و سنت کے منافی آئین تشکیل دے سکتے تھے،  آئین کو غیر اسلامی کہنے کی بجائے آئین پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا جانا چاہئے۔  ان خیالات کا اظہار انہوں نے دعوۃ اکیڈمی کے پروفیسر مفتی مصباح الرحمن اور کوآڈی نیٹر ناصر فرید کی قیادت میں منصورہ کا دورہ کرنے والے خیبر پی کے، بلوچستان، وزیرستان، سوات اور اسلام آباد سمیت ملک بھر کے صحافیوں کے وفد سے جو دعوۃ اکیڈمی کے زیر اہتمام پانچ روزہ ورکشاپ کے لئے لاہور میں آئے ہوئے ہیں، منصورہ میں ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری اطلاعات انور نیازی اور ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بھی اس موقع پر موجود تھے۔ منور حسن نے کہا کہ قوم 73ء کے آئین پر متحد ہے، اس اتحاد کو قائم رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ حکمران غیر آئینی ہتھکنڈوں کو چھوڑ کر آئین کی بالادستی کو تسلیم کر لیں۔ آمریت اور ملٹر ی آپریشن کبھی بھی مذاکرات کا متبادل نہیں ہوتے۔ وقتی طور پر ناکامی ہو بھی تو طاقت کا راستہ اختیار نہیں کرناچاہئے۔ اگر ہر فرد اپنے مطالبات منوانے اور طالبان کے مطالبات کی فہرست میں شامل کروانے کے چکر میں پڑگیا تو  خدشہ ہے کہ مذاکراتی عمل طوالت اور تعطل کا شکار نہ ہو جائے۔